29

وزیراعظم کا 3 ماہ بعد سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم | پاکستان


وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں سانحے کے 3 ماہ بعد متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور امدادی چیک تقسیم کیے — فوٹو:فائل 

لاہور: وزیراعظم عمران خان نے 3 ماہ بعد سانحہ ساہیوال کے متاثرین سے ملاقات میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دے دیا۔ 

وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال کے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی جس میں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار بھی موجود تھے۔ ملاقات میں مقتول خلیل کے والد، بھائی اور بچے بھی موجود تھے۔ 

وزیراعظم امدادی چیک دے رہے جب کہ متاثرہ بچے قریب ہی کھڑے ہیں — فوٹو: اسکرین گریب 

ذرائع کے مطابق واقعے کے 3 ماہ بعد ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم نے متاثرہ فیملی کے مطالبے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دیا۔

ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب کو جوڈیشل کمیشن بنانے کی ہدایت کردی ہے۔ 

 وزیراعظم نے 3 ماہ بعد متاثرہ خاندان سے ہونے والی ملاقات امدادی چیک تقسیم کیے۔ 

سانحے کے بعد وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ وہ قطر کے دورے سے واپسی کے بعد ذمہ داروں کو نشان عبرت بنائیں گے لیکن وزیراعظم نے انصاف کے طلبگار لواحقین کو چیک دینے کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس بلایا جہاں چیک دینے کی وڈیو بھی بنوائی اور سوشل میڈیا پر تشہیر بھی کی گئی۔

وزیر اعظم نے ورثا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جان کے ضیاع کا کسی صورت ازالہ نہیں کیا جا سکتا تاہم حکومت متاثرین کے دکھ درد میں برابر کی شریک ہے۔

سانحہ ساہیوال

رواں سال 19 جنوری کی سہہ پہر پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک مشکوک مقابلے کے دوران گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی، جس کے نتیجے میں ایک عام شہری خلیل، اس کی اہلیہ اور 13 سالہ بیٹی سمیت 4 افراد جاں بحق اور تین بچے زخمی ہوئے جبکہ 3 مبینہ دہشت گردوں کے فرار ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

واقعے کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب سے متضاد بیانات دیئے گئے، واقعے کو پہلے بچوں کی بازیابی سے تعبیر کیا گیا تاہم بعدازاں ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مارے جانے والوں میں سے ایک کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔

میڈیا پر معاملہ آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان نے بھی واقعے کا نوٹس لیا، دوسری جانب واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کو حراست میں لے کر تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی، جس کی ابتدائی رپورٹ میں مقتول خلیل اور اس کے خاندان کو بے گناہ قرار دے کر سی ٹی ڈی اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔

بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے متاثرین کی جانب سے دائر کی گئیں جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواستیں خارج کردیں تھیں اور جوڈیشل انکوائری کرانے کی استدعا منظور کرتے ہوئے انکوائری رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ کے حوالے کی تھی۔

اس وقت بھی سانحہ ساہیوال کے بعد عہدے سے ہٹائے گئے آئی جی سی ٹی ڈی رائے طاہر عہدے پر بحال ہوچکے ہیں۔





Source link