10

12 سو بیوروکریٹس کی فائل تیار۔۔۔ سابق وزیر داخلہ نے اپنے ملازموں کے نام پر کتنی جائیدادیں بنا رکھی ہیں، کچھ روز بعد ملک میں کیا ہونے والا ہے؟ نامور صحافی نے اچانک بڑی خبر بریک کر دی


لاہور (نیوز ڈیسک) سینئر صحافی چوہدری غلام حسین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن ، پاکستان تحریک انصاف ، ایم کیو ایم اور فضل الرحمان گروپ کے بہت سارے لوگ ہیں جو مشکل میں آنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی جانب سے بہت سارے سیاستدانوں

کے فرنٹ مین کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور کروڑوں اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز کرتے رہے ہیں اس حوالے سے بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار چوہدری غلام حسین نے کہا کہ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن ، پاکستان تحریک انصاف ، ایم کیو ایم اور فضل الرحمان گروپ کے بہت سارے لوگ ہیں جو مشکل میں آنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کی جانب سے بہت سارے سیاستدانوں کے فرنٹ مین کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور کروڑوں اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز کرتے رہے ہیں اس حوالے سے بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گیارہ سے بارہ سو کے قریب بیوروکریٹس بھی ہیں جن کی فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں۔ اُن میں سے 6 سو بیوروکریٹس پنجاب کے ہیں، اس بات کا پتہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ بیوروکریٹس کس کس کے لیے پیسے اکٹھے کر رہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کے ہر تحصیل ہیڈ کوارٹر میں جو رجسٹری محرر ہے, اُس نے لاکھوں کروڑوں روپیہ روزانہ کی بنیاد پر لانے کے لیے پورے صوبے سے اپنے بندے لگا رکھے ہیں جو پیسہ اکٹھا کر کے بوریوں میں ان کے پاس پہنچا دیتے ہیں۔حال ہی میں گرفتار ہونے والے ”چینی” نے سارے حقائق بیان کرنا شروع کر دئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور بریکنگ نیوز یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے ایک سابق وزیر داخلہ نے اپنے ایک عیسائی ملازم کے نام پر 5 کینال کا گھر اسلام آباد میں لے رکھا ہے جو سامنے آ گیا ہے۔ واضح رہے کہ نیب نے سیاستدانوں کے فرنٹ مین کی نشاندہی کر کے ان کی گرفتاریوں کا آغاز کر رکھا ہے۔ حال ہی میں شریف خاندان کے دو ملازموں کو گرفتار کیا گیا جس کے بعد لاہور ائیرپورٹ سے فرار ہونے کی کوشش کرنے والے شریف خاندان کی شوگر مل کے مینجر مشتاق چینی کو بھی گرفتار کیا گیا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش کی روشنی میں مزید گرفتاریاں ہونے کا امکان ہے۔





Source link