27

ایئر مارشل شاہد لطیف: جے ایف 17 تھنڈر منصوبے کے اصل ہیرو


یہ 1992 کا واقعہ ہے۔ امریکی پابندیاں لگ چکی تھیں۔ پاکستان کے پاس امریکی F-16 کے علاوہ کوئی اور قابل ذکر جنگی جہاز نہیں تھا۔ امریکا نے جہازوں کے سامان کی فراہمی معطل کردی۔ جنگ لڑنا تو ایک طرف، پاکستان پائلٹس کے فلائنگ آورز بھی پورے نہیں کروا سکتا تھا۔ پاکستان نے جب چین کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ چین کا ایک بھی جنگی جہاز بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں۔ پاکستان اس وقت بے یقینی اور یتیمی کی کیفیت سے دوچار ہورہا تھا اور ہندوستان پاکستان پر فضائی برتری کے خواب کو حقیقت بنتے دیکھ رہا تھا۔ جب تمام راستے بند ہوگئے تب پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے جنگی جہاز بنانے میں خودمختاری حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔

برسوں تک اس آئیڈیا پر کام ہوتا رہا۔ وقت گزرتا گیا اور ایئر چیف مارشل مصحف علی میر نے اربوں ڈالر کے اس پروجیکٹ کو قابل اعتماد، ذہین اور محب وطن شخص کو سونپنے کا فیصلہ کیا۔ دن رات کی تگ و دو کے بعد انہیں وہ شخص مل گیا، جو اس پروجیکٹ کو کامیاب کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ نوجوان کوئی اور نہیں بلکہ ان کا سب سے قابل شاگرد تھا۔ یہ نوجوان F-16 اڑا کر پاکستان لانے والا پہلا پائلٹ تھا۔ یہ نوجوان ان پائلٹوں میں بھی شامل تھا جنہوں نے F-16 کی ایک سال کی ٹریننگ صرف پانچ ماہ میں مکمل کرلی تھی؛ اور ایئر مارشل مصحف علی میر کے شاگردوں میں سے صرف اس نوجوان کو ’سورڈ آف آنر‘ ملنے کا اعزاز حاصل تھا۔

نوجوان نے پروجیکٹ کی کمان سنبھالتے ہی اعلیٰ قیادت کی مشاورت سے فیصلہ کیا کہ پاکستان چائنا کے ساتھ مل کر F-16 سے بہتر، نیا جنگی طیارہ بنائے گا اور دنیا (خصوصاً ہندوستان) اس طیارے کی کارکردگی کو دیکھ کر اپنی انگلیاں دانتوں تلے دبا لے گی۔ چائنا کی کمپنی کا انتخاب کیا گیا، انہیں ضروریات بتائی گئیں اور نوجوان نے طیارے کی تیاری کی نگرانی شروع کردی۔

چائنیز اسے ایک عام آدمی سمجھ کر اپنے مطابق جہاز بنانے لگے۔ اس نے چائنیز کے ڈیزائن کو مسترد کردیا اور انہیں مجبور کیا کہ چاہے کتنا ہی وقت کیوں نہ لگ جائے، جو خصوصیات وہ چاہتا ہے وہ اس جہاز میں شامل ہوں۔ چائنیز کمپنی کے ساتھ شدید اختلاف رائے اور جھگڑوں کے بعد چائنیز کو اندازہ ہوگیا کہ یہ شخص اپنے مطالبات سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ پروجیکٹ کی نگرانی کرنے کےلیے کئی راتیں اس نے چائنیز کی فیکٹری میں گزار دیں۔ وہیں کھاتا تھا اور وہیں سوتا تھا۔ اس پاگل پن کو دیکھ کر چائنیز بھی اس کے ساتھ شامل ہوگئے اور دن رات ایک کردیا۔

امریکیوں کو جب بھنک لگی تو انہوں نے نوجوان کو خریدنے اور ڈرانے کا فیصلہ کیا۔ اس کی نگرانی کی جانے لگی۔ عورت، دولت، شہرت،عیاشیاں، جائیدادوں سمیت ہر طرح کا لالچ دیا گیا لیکن نوجوان اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر یہ پروجیکٹ مکمل نہ ہوا تو پاکستان کا وجود خطرے میں پڑجائے گا۔

دن رات کی محنت رنگ لائی اور اگست 2003 کو اس شاہکار لڑاکا طیارے نے اپنی پہلی اڑان بھری۔ برسوں کی محنت اور وطن سے محبت کا عملی ثبوت ہوا میں پرواز کر رہا تھا۔ پائلٹ لگاتار پیغامات بھجوا رہا تھا کہ یہ شاہکار ہر طرح سے مکمل ہے اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھوں ڈالنے کو تیار ہے۔ اس نوجوان کی آنکھوں میں کامیابی کے آنسو، پیشانی پر شکرانے کے سجدے، زبان پر شکرانے کے کلمات اور چہرے پر اطمینان کے تاثرات واضح تھے۔ اس نوجوان نے طیارے کو اپنا ’’بے بی‘‘ قرار دیا اور دنیا کو بتا دیا کہ میں نے اپنے ’’بے بی‘‘ کو دشمن کا لحاظ کرنا سکھایا ہی نہیں۔

وقت گزرتا گیا اور 27 فروری 2019 کو اسی بے بی نے ہندوستان کے دو طیاروں کو دھول چٹا کر یہ ثابت کردیا کہ واقعی یہ بے بی دشمن کا لحاظ نہیں کرتا۔

مجھے یقین ہے کہ آپ اب تک اس شخص کا نام جان چکے ہوں گے۔ جی ہاں، یہ جے ایف 17 تھنڈر منصوبے کے بانی، ایئر مارشل شاہد لطیف صاحب کی کامیابی اور حب الوطنی کی مختصر سی کہانی ہے۔

آپ ایئرمارشل شاہد لطیف صاحب کی کامیابی کی کوششوں اور نیک نیتی کو ذہن نشین رکھیے اور جے ایف 17 تھنڈر کی تاریخ اور خصوصیات پر ایک نظر ڈالیں تو اس محب وطن سپوت کو خراج تحسین پیش کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔

جے ایف 17 تھنڈر طیارے پاکستان ایئروناٹیکل کمپلکس کامرہ اور چینگڈو ایئرکرافٹ انڈسٹری کارپوریشن چائنا کے تعاون سے کامرہ میں تیار کیے جاتے ہیں۔ شاہد لطیف صاحب جانتے تھے کہ روس جنگی طیارے کے انجن بنانے کی ٹیکنالوجی میں دنیا میں سب سے آگے ہے، جبکہ چائنا جنگی جہاز کا انجن تیار نہیں کرتا بلکہ روسی طیاروں کی کاپی بنانے کا ماہر ہے۔ انہوں نے چائنیز کو قائل کیا کہ روس سے انجن اس شرط پر لیے جائیں کہ وہ انجن بنانے کی ٹیکنالوجی چائنا کو دینے کا پابند ہو۔ روس اور چین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا، جس کی بدولت چائنا جنگی جہازوں کے انجن بنانے میں خود مختار ہوگیا۔ چین کو یہ صلاحیت بھی پاکستان کے اس ذہین ایئر فورس کمانڈر کی بدولت ملی ہے۔

جے ایف 17 تھنڈر نے پہلی اڑان 25 اگست 2003 کو چائنا میں بھری۔ 12 مارچ 2007 کو اسے پاکستان ایئرفورس میں شامل کیا گیا اور 23 مارچ 2007 کو اسے پاکستانی عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔ جے ایف 17 تھنڈر نے آتے ہی دنیا بھر کی توجہ حاصل کرلی۔ اسے 2010 میں برطانیہ کے فارنبورو ایئر شو میں بھی شامل کیا گیا۔ پوری دنیا میں جتنے بھی ایئرشو منعقد کیے جاتے ہیں، ان میں چائنا کے کسی جنگی طیارے کو پرفارم کرنے کے لیے نہیں بلایا جاتا تھا۔ جبکہ جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کو پوری دنیا کے تمام قابل ذکر ایئر شوز میں بلایا جاتا ہے۔ اس طیارے نے 2018 میں پولینڈ میں منعقد ہونے والے ایئر شو میں جیت کے جھنڈے گاڑے ہیں اور پوری دنیا کو ایک مرتبہ پھر اپنا گرویدہ کرلیا ہے۔ یہ کامیابی پاکستان اور چائنا کے لیے ایک اعزاز ہے۔

ابتدا میں طیارے کی مکمل تیاری چائنا کے ذمے تھی۔ لیکن ایئر مارشل شاہد لطیف کی ذاتی دلچسپی کی بدولت بہت کم عرصہ میں پاکستانی انجینئرز نے اس ٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کرلی۔ اس وقت جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی تیاری کا 58 فیصد شیئر پاکستان ایئروناٹیکل کمپلکس کامرہ کے پاس ہے اور 42 فیصد شیئر چینگڈو ایئر کرافٹ انڈسٹری کارپوریشن چائنا کے پاس ہے۔

پاکستان ایئروناٹیکل کمپلکس میں مکمل طور پر خود تیار کیا گیا جے ایف 17 تھنڈر نومبر 2009 میں پاکستان ایئر فورس کے حوالے کیا۔

جے ایف 17 تھنڈر بلاک 2 طیارے جدید میزائل، گن اور بم ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ ان میں 23 ملی میٹر دہانے والی اور دوہری نال کی حامل جی ایس ایچ 23-2 توپ نصب ہے۔ اس کے علاوہ ان طیاروں میں سات ہارڈ پوائنٹس ہیں جن میں سے چار انڈر ونگ، 2 ونگ ٹپس پر اور 1 طیارے کے فیوزلاج (مرکزی ڈھانچے) کے نیچے ہوتا ہے۔

فضا سے فضا میں حملہ کرنے کےلیے پی ایل 5EII (شارٹ رینج) اور حدِ نگاہ سے دور تک مار کرنے والا ایس ڈی 10 اے بی وی آر میزائل شامل ہیں۔ فضا سے زمین پر مار کرنے کےلیے سی ایم 102 اینٹی ریڈی ایشن میزائل، جبکہ فضا سے سمندر تک مار کرنے کےلیے سی 802 اے کے اینٹی شپ میزائل اور سی ایم 400 اے کے جی ’’کیریئر کلر‘‘ اینٹی شپ میزائل نصب کیے جاسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، عمومی مقاصد کے بموں میں ایم کے 82، 83، 84، رن وے تباہ کرنے کےلیے ’’ماترا‘‘ ڈیورینڈل، اور راک آئی ایم کے 20 بکتر شکن کلسٹر بم شامل ہیں۔ لیزر گائیڈڈ بموں میں جی بی یو 10، 12، اور 16 بم، جبکہ جی پی ایس سے رہنمائی لینے والے ایل ایس 6 میزائل بھی شامل ہیں۔

ان سب کے علاوہ ایئربورن کے جی 300 جی سیلف پروٹیکشن جیمنگ پوڈ بھی جے ایف 17 تھنڈر بلاک 2 کا حصہ ہے۔ جے ایف 17 تھنڈر بلاک ٹو، 12000 کلوگرام سے زائد وزن لے جانے کے صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسے اڑنے کے لیے تقریباً 600 میٹر طویل رن وے درکار ہے۔ جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 ابھی تکمیل کے اختتامی مراحل میں ہے۔ یہ بلاک 2 سے کئی گنا بہتر ہے اور اپنی خصوصیات کی بدولت تقریباً ففتھ جنریشن طیاروں کے قریب تر ہوگا۔ اس کا ڈیزائن اور انجن مکمل ہوچکے ہیں۔ بلاک 3 میں کے ایل جے 7 اے ای ایس اے ریڈار سسٹم نصب ہوگا جو اپنی رینج کے اعتبار سے بھارت کو فروخت کیے جانے والے رافیل طیاروں میں نصب آر بی ای 2 اے اے، اے ای ایس اے ریڈار کے مقابلے میں بہت زیادہ طاقتور ہے۔ پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں میں یہ ریڈار سسٹم استعمال ہورہا ہے، جسے دشمن کے ریڈار سے پکڑنا تقریباً ناممکن ہے۔

ماہرین کے مطابق جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 کی ایویانکس ایف 16 کے مقابلے میں کئی حوالوں سے بہتر ہے۔ جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 میں ہیلمٹ ماؤنٹڈ سائٹ (ایچ ایم ایس) ٹیکنالوجی نصب کی گئی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے پائلٹ کو ٹارگٹ لاک کرنے کےلیے طیارے کو ٹارگٹ کی طرف موڑنا نہیں پڑتا بلکہ ٹارگٹ لاک کرنے کےلیے پائلٹ کو ٹارگٹ کی طرف ایک نظر دیکھنا ہوگا اور پلک جھپکنے میں ٹارگٹ لاک کرکے میزائل فائر ہوجائے گا۔ یہ ٹیکنالوجی دنیا میں نئی ہے اور ففتھ جنریشن طیاروں میں استعمال ہورہی ہے۔

جے ایف 17 بلاک ون اور ٹو میں آر ڈی 93 انجن استعمال ہوئے ہیں، جو 2222 کلومیٹر فی گھنٹہ کی انتہائی رفتار تک طیاروں کو لے جاسکتے ہیں؛ جبکہ بلاک 3 میں ڈبلیو سی 30 انجن استعمال کیا گیا ہے، جس سے حاصل شدہ رفتار 2500 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے جو انڈین رافیل کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس کی فیول کیپیسٹی تقریباً ایف 16 بلاک 52 جتنی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ F-16 کی نسبت زیادہ وزنی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان خوبیوں کے ساتھ جے ایف 17 ففتھ جنریشن کیٹیگری میں شامل ہوجاتا ہے اور سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ پوری دنیا میں اس کی قیمت اپنے مقابلے کے کسی بھی طیارے کی قیمت سے کم ہے۔

اگر پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر اور بھارت کے رافیل طیاروں کا موازنہ کیا جائے تو کارکردگی اور خرچ کے اعتبار سے پاکستان کو بھارت پر واضح برتری حاصل ہوتی ہے۔ ایک رافیل طیارے کی قیمت میں پاکستان تین جے ایف 17 تھنڈر طیارے تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مؤرخ گواہ ہے کہ پاکستان سے چار گنا زیادہ اسلحہ اور فضائی قوت ہونے کے باوجود پاکستان کو ہندوستان پر ہمیشہ فضائی برتری حاصل رہی ہے۔ اس کی وجہ ٹیکنالوجی میں مہارت کے ساتھ حب الوطنی کا جذبہ اور ملک کی حفاظت کا جنون بھی ہے۔ 1965 کی جنگ میں پاکستان نے سیبر (86-F) امریکی طیارے استعمال کیے، جبکہ بھارت نے روس سے درآمد شدہ نئے مگ 21 طیارے استعمال کیے۔ جدید طیارے ہونے کے باوجود بھارت، پاکستان کی ایئربیس کے اوپر آنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ بھارتی طیارے آتے تھے اور ایئربیس سے دور بم گرا کر چلے جاتے تھے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر ہم ایئربیس کی حدود میں آئے تو تباہ کردیے جائیں گے۔

ڈاگ فائٹ ہو یا دشمن کی حدود میں داخل ہو کر رن وے پر کھڑے جہاز تباہ کرنے کا مشن ہو، پاک فضائیہ نے اپنی بہادری، مہارت اور پروفیشنل اپروچ کے ذریعے بھارتی فضائیہ پر واضح برتری حاصل کی تھی۔ اگر 1971 کی جھڑپوں کی بات کریں تو پاک فضائیہ نے اس میں حصہ نہیں لیا۔ یہ زمینی اور سیاسی جھڑپیں تھیں جن میں پاک فضائیہ شامل نہیں تھی۔ کارگل کی جنگ میں بھی پاک فضائیہ نے حصہ نہیں لیا تھا لیکن پاکستان کی برتری واضح تھی۔

کارگل کے بعد بھارتی اور پاک فضائیہ کی جنگی صلاحیتوں کو ناپنے کا دن 27 فروری 2019 تھا۔ بھارتی دو طیارے مگ 21 اور ایس یو 30 پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے، جسے پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے مار گرایا۔ ایک پائلٹ کو گرفتار کیا اور دنیا کے سامنے پیش کرکے اپنی برتری ثابت کی۔ جبکہ ہندوستانی میڈیا اور بی جے پی کی سرکار کے جھوٹے دعوؤں اور نعروں نے پوری دنیا میں ان کا مذاق اڑایا۔ یہاں تک کہ مودی کو یہ بیان دے کر پوری دنیا کے سامنے شکست تسلیم کرنا پڑی کہ رافیل طیارے نہ ہونے کی وجہ سے بھارت کو پاکستان سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ اگر رافیل طیارے بھی ہوں، تو بھی بھارت پاکستان سے فضائی محاذ پر کا مقابلہ نہیں کرسکتا، کیونکہ بھارت کے پاس ایئر مارشل شاہد لطیف جیسے جانباز نہیں ہیں، جنہوں نے اپنی ساری زندگی پاکستانی ایئر فورس کی برتری قائم رکھنے کے لیے وقف کردی اور حسن صدیقی جیسے جوانوں پر مشتمل ایک ایسی فضائی فوج تیار کی ہے جو کارکردگی اور حب الوطنی میں کوئی ثانی نہیں رکھتی۔

میں اقرار کرتا ہوں کہ ایئر مارشل شاہد لطیف ہمارے ہیرو ہیں۔ آپ آنے والی نسلوں کے لیے رول ماڈل ہیں اورپاکستان کی فضائی برتری کی داستان آپ کے ذکر کے بغیر ہمیشہ ادھوری رہے گی۔

بلاگ کے اختتام پر میری وزیراعظم جناب عمران خان سے گزارش ہے کہ ہمیں پاکستان کے اس ہیرو کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ جے ایف 17 تھنڈر کی کامیابی کے بعد انہیں ایسے پروجیکٹ کی سربراہی سونپی جائے جس میں چائنیز کے ساتھ معاملات طے کرنے ہوں۔ جہاں چائنیز کے ساتھ پروجیکٹ مینجمنٹ کی تکنیک مہارت سے استعمال کرنے کی ضرورت ہو اور جہاں کم عرصہ میں بہترین نتائج لینا مقصود ہوں۔ کیونکہ چائنیز سے کس طرح کام لینا ہے یہ پاکستان میں شاہد لطیف صاحب سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔

سی پیک اس وقت مسائل کا شکار ہے۔ پچھلی حکومت کی غلط پالیسیوں اور پروجیکٹ مینجمنٹ سے عاری لوگوں کی تعیناتی سے سی پیک کی سمت درست نہیں ہوسکی۔ میری آپ سے گزراش ہے کہ پاکستان کی بہتری کے لیے شاہد لطیف صاحب کو سی پیک کی سربراہی سونپ دیجیے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اس پروجیکٹ کو بھی اسی احسن طریقے سے لے کر چلیں گے جس طرح جے ایف 17 تھنڈر پروجیکٹ کو لے کر چلے تھے۔ انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کو وہاں بھی منوایا اور یہاں بھی منوائیں گے۔ وزیراعظم صاحب جس طرح آپ کے کامیاب پروجیکٹس کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے عوام نے آپ کو وزیراعظم منتخب کیا ہے بالکل اسی طرح ایئر مارشل (ر) شاہد لطیف کے ماضی کے کامیاب پروجیکٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے فائدہ حاصل کیا جائے۔ آپ کے باقی فیصلوں کی طرح یہ فیصلہ بھی پاکستان کے حق میں بہتر ثابت ہوگا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔





Source link