14

مسافر کی بس ہوسٹس سے بدتمیزی۔۔۔ وجہ کیا تھی ؟ معاشرہ کے چہرے سے نقاب اتار دینے والی خبر


اسلام آباد(ویب ڈیسک)گزشتہ دنوں لاہور سے اسلام آباد بذریعہ موٹروے آنے والی پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کمپنی کی بس میں موجود مسافر کی جانب سے خاتون بس ہوسٹس کو ہراساں کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔اپنے آپ کو ایف آئی اے کا اہلکار بتانے والے مسافر نے خاتون بس ہوسٹس سے پانی طلب کیا تاہم بعدازاں

کسی بات پر بھڑک اٹھا تھا اور خاتون کو نازیبا الفاظ میں دھمکیاں دینے لگا۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد لوگوں نے انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری سے اس واقعہ پر ایکشن لینے کا مطالبہ کیا تھا۔بتایا گیا ہے کہ دو پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی پر غفلت برتنے پر معطل کر دیا گیا ہے۔جب کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔مذکورہ کمیٹی اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد رپورٹ اعلیٰ حکام کو جمع کروائے گی۔دوسری جانب کراچی سے لاہور ماڈلنگ کے لیے آنے والی 22سالہ اقراء سعید کے قتل کی تحقیقات میں اہم انکشافات منظر عام پر آگئے ، پولیس ماڈل اقراء کے موبائل فون کا لاک کھولنے میں کامیاب ہو گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ اقراءلاہور میں ، حسن ، عمر اور عثمان نامی لڑکوں کیساتھ رابطے میں تھی،تفتیش میں انکشاف کیا گیا کہ اقراء نے تینوں لڑکوں کے ساتھ آئس کا نشہ کیا،طبیعت خراب ہونے پر لڑکے اقراء کو اسپتال چھوڑ کر فرار ہو گئے،موبائل فون سے ملنے والی معلومات کے بعد حسن ، عثمان اور عمر کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔لڑکے لاہور کے علاقے گلشن راوی کے رہائشی تھے۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق ماڈل کی موت نشے کی زیادتی کی وجہ سے ہوئی۔ ملزمان نے اپنی عبوری ضمانتیں بھی کروا لی ہیں۔دوسری جانب شاہ لطیف ٹائون کے علاقے قذافی ٹائون گلی نمبر 4میں رہائش پزیر 20سال بلال ولد خان بہادر مبینہ طور پر گھر کی چوتھی منزل سے گر کر جاں بحق ہو گیا ، لاش جناح اسپتال لائی گئی ،ایس ایچ او شاہ لطیف ٹائون گل بیگ نے بتایا کہ اصل واقعہ یہ ہے کہ متوفی بلال کے خلاف تھانے میں شکایت درج ہے اور پولیس اس کو گرفتار کرنے گھر گئی تھی جہاں سے وہ فرار کی کوشش میں چھت پر چلا گیا اور وہیں سے اس نے چھلانگ لگا دی،





Source link