20

پی آئی اے کی ائیر ہوسٹس پیرس میں لاپتہ


لاہور: قومی ائیر لائن کی ائیر ہوسٹس پیرس میں پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئی ، ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے شازیہ کیخلاف محکمہ جاتی کاروائی شروع کردی ہے اور پیرس میں اسٹیشن منیجر نے پولیس کو رپورٹ درج کرادی تھی۔

تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کی فضائی میزبان پیرس پہنچنے پر لاپتہ ہوگئی، لاہور سےتعلق رکھنے والی ائیر ہوسٹس دوران ڈیوٹی پیرس سےلاپتہ ہوئی، فضائی میزبان شازیہ گزشتہ روز لاہور سے پیرس کی فلائٹ پی کے 733پر گئی تھی، بیس انچارج نےمبینہ طور پر سفارشی بنیادوں پر پیرس کی ڈیوٹی لگائی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے پیرس پہنچنے پر فضائی میزبان شازیہ سعید ہوٹل کے کمرے میں اپنا سامان رکھنے کے کچھ دیر بعد وہاں سے بیلجیئم فرار ہوگئی تھی۔

پی آئی اے ترجمان نے پیرس میں پی آئی اے کی فضائی میزبان لاپتہ ہونے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا فضائی میزبان شازیہ 6اپریل کو سیالکوٹ سے پیرس پہنچی تھی ، منگل کو پرواز734کے ذریعے لاہور پہنچنا تھا، شازیہ کیخلاف محکمہ جاتی کاروائی شروع کردی ہے۔

ترجمان نے کہا فضائی میزبان کا کوئی استعفیٰ موصول نہیں ہوا ہے، پیرس میں موجود پی آئی اے کےاسٹیشن منیجر نے پولیس کو رپورٹ درج کرادی تھی۔

مزید پڑھیں : پی آئی اے کی فضائی میزبان کینیڈا پہنچنے پر پرسرار طور پر لاپتہ

یاد رہے ستمبر 2018 میں بھی پی آئی اے کی فضائی میزبان کینیڈا پہنچنے پر پرسرار طور پر لاپتہ ہوگئی تھی ، فریحہ نامی ایئر ہوسٹس پی کے789سے ٹورنٹو کی پرواز پر تعینات تھی، پرواز کے ٹورنٹو پہنچنے پر دیگر عملے کے ساتھ جہاز سے ہوٹل جانے کیلئے روانہ ہوئی تاہم فضائی میزبان فریحہ مختار مبینہ طور پر ایئرپورٹ سے باہرنہیں آئی اور پی آئی اے حکام سے رابطے میں بھی نہیں رہی۔

فضائی میزبان کے پراسرار لاپتہ ہونے پر پی آئی اے انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا تھاجبکہ کینیڈا کی پولیس کے پاس بھی اطلاع درج کرادی تھی۔

بعد ازاں یہ بات سامنے آئی تھی کہ فریحہ مختار ماضی میں مختلف مجرمانہ سرگرمیوں ملوث رہی ، انہوں نے پی آئی اے میں بی کام کی جعلی ڈگری جمع کراکر نوکری حاصل کی ، سنہ 2014 میں انہیں جعلی ڈگری کے سبب انہیں شو کاز نوٹس بھی جاری کیا تھا ۔

جون7، 2015 لندن سے کراچی آنے والی پرواز پی کے 788 میں اسمگلنگ کے الزام میں پکڑی گئی تھیں ، برطانوی بارڈر سیکیورٹی فورس نے ہیتھرو ائیر پورٹ پر غیر قانونی ،غیر ملکی کرنسی اور موبائل فون برآمد کیے تھے۔

Comments

comments





Source link