15

جہانگیر ترین اور نواز شریف کے بعد ایک اور بڑے سیاسی گُرو کو نا اہل قرار دے دیا گیا – Hassan Nisar Official Urdu News Website


کوئٹہ (ویب ڈیسک )الیکشن کمیشن نے بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن اسمبلی محمد خان طور کو جعلی ڈگری کے معاملے پر نااہل قرار دیدیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمیشن کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے محمد خان طور کو جعلی ڈگری کے معاملے پر 63 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا ۔

محمد خان طور پی پی 4لورا لائی سے رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہوئے تھے ۔واضح رہے کہ اس سے پہلے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پارٹی صدارت سے نا اہلی کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپوزیشن جماعتوں کے مختلف راہنماؤں نے ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آئین اور قانون کا تحفظ کیا،امیدہے کہ ن لیگ عدالتی فیصلے کوتسلیم کرے گی،قوم کو معلوم ہے کہ نوازشریف نے کرپشن کی ہے،نوازشریف ساری زندگی اسٹیبلشمنٹ کے منظور نظر رہے ہیں۔۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ کے اندرونی اختلافات اب کھل کرسامنےآسکتے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے سے سینیٹ انتخابات پر اثر ہوگا۔انھوں نے کہا کہ نواز شریف نے اپنے مفادات کی مہم شروع کررکھی تھی اور آئین میں ترمیم کرکے مجرموں کو بچانے کی کوشش کی تھی ۔ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کہا کہ مسلم لیگ ن کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے اختلاف ہوسکتاہے،ن لیگ کے انٹراپارٹی الیکشن میں نوازشریف کومنتخب کیاگیا،سپریم کورٹ نے تمام جھگڑے ختم کردیئے ہیں ،عدلیہ کے مطابق نوازشریف پارٹی صدارت کیلیے نااہل ہیں۔ نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے پر پیپلز پارٹی کے راہنما قمر زمان کائرہ نے کہاکہ سیاسی جماعتیں سسٹم کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گی،مسلم لیگ تصادم کی فضا پیدا کر کے راستہ بنانا چاہتی تھی تاہم یہ فیصلہ نواز شریف کے خلاف نہیں بلکہ بدنیتی پرمبنی قانون سے متعلق تھا۔عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)کے رہنما زاہد خان نے کہا کہ فیصلہ ماننا پڑے گا لیکن نوازشریف اس کو بھی استعمال کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں بہت مشکل سے بنتی ہیں تاہم جمہوریت چلتی رہے تو موروثی سیاست ختم ہوسکتی ہے۔زاہد خان نے کہا کہ عدالتوں میں سیاسی فیصلوں کاردعمل درست نہیں نکلتا۔معروف قانون دان ایس ایم ظفر نے قانونی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم کے معاملے میں مداخلت سپریم کورٹ کے لیے مشکل ہوتا ہے تاہم اس فیصلے میں کوئی سقم نظرنہیں آتا۔ایس ایم ظفر نے کہا کہ سیاسی جماعتیں نوازشریف کے خلاف تھیں تو سپریم کورٹ کو فیصلہ تو کرنا ہی تھا۔





Source link