11

پوری کابینہ چول مار گئی ، عمران خان کو بھی سمجھ نہ آئی اور تحریک انصاف ایک اور یوٹرن لینے پر مجبور ۔۔۔ توفیق بٹ نے تبدیلی والوں کی ناکامی در ناکامی کی اصل کہانی بیان کر دی


لاہور (ویب ڈیسک) ابھی پچھلے کسی کالم میں ، میں نے ایک کینیڈین گورے کا ذکر کیا تھا جس نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام نہیں بدلہ تھا۔ عموماً ایسے ہوتاہے جب کوئی غیرمسلم اسلام قبول کرلیتا ہے اس کے فوراً بعد وہ اپنا نام بدل کر کوئی اسلامی نام رکھ لیتا ہے ۔

نامور کالم نگار توفیق بٹ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بلکہ کچھ دینی دکانداریہ سمجھتے ہیں غیرمسلم اسلام قبول کرنے کے فوراً بعد اپنا نام بدل کر کوئی اسلامی نام نہیں رکھے گا اس سے اس کے اسلام قبول کرنے میں کوئی نقص رہ جائے گا۔ اِس پس منظر میں اُس کینیڈین گورے سے میں نے پوچھا ” اسلام قبول کرنے کے بعد آپ نے اپنا نام کیوں نہیں بدلہ؟ ۔ وہ کہنے لگا جب میں نے اپنا دل بدل لیا ہے اپنا ذہن بدل لیا ہے ، تو نام بدلنے نہ بدلنے سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ہم اکثر مسلمانوں خصوصاً پاکستانیوں کا المیہ یہ ہے ہم چھوٹے چھوٹے ایشوز میں اُلجھ کر رہ جاتے ہیں جس کے نتیجے میں کوئی ایسا بڑا کارنامہ نہیں کر پاتے جو دنیا میں تیزی سے پستی کی جانب جاتے ہوئے ہمارے مقام کو بلند کردے، …. اگلے روز ہمارے محترم وزیراعظم عمران خان کراچی کے دورے پر گئے۔ وہاں ارکان اسمبلی اور کچھ معززین کے ساتھ ملاقات میں کسی نے نمبر ٹانکنے کے لیے یہ مطالبہ کردیا ”بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام “ کا نام تبدیل کردیا جائے کیونکہ اِس نام کا سارا فائدہ پیپلزپارٹی کو ہورہا ہے اور اس سے یہ تاثر مِل رہا ہے جیسے یہ صوبائی حکومت (سندھ) کا کوئی پراجیکٹ ہے “۔ میرے خیال میں یہ ایک ”چول“ تھی، جس نے بھی ماری بجائے اِس کے وزیراعظم بڑے ظرف اور بڑے دل یعنی اپنے مقام مرتبے کے مطابق اُسے شٹ اپ کال دیتے، اپنی تیزی سے بدلتی ہوئی فطرت اور طبیعت کے مطابق انہوں نے فوراً ہی یہ فرما دیا

” یہ ہوگیا، سمجھ لیں ہم نے اس کا نام تبدیل کردیا “ ۔ اُن کے اِس عمل کو سوائے ان کی پارٹی کے چند خوشامدیوں کے کسی نے نہیں سراہا۔ اگر اِس موقع پر وہ تھوڑی سمجھداری کا مظاہرہ کرتے تو فرماتے ” اِس پروگرام کا نام کوئی بے نظیر بھٹو یا بے نظیر زرداری انکم سپورٹ پروگرام تو نہیں ہے کہ ہم اسے تبدیل کردیں۔ اِس کا نام ”بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام“ ہے اور بے نظیر کا مطلب ہوتا ہے جس کی کوئی مثال یا کوئی نظیر نہ ہو۔ اس پروگرام کی واقعی کوئی نظیر نہیں کہ اِس سے بے شمار غریبوں کو کچھ نہ کچھ ایسا مالی فائدہ ہورہا ہے جس سے اُن کی گزربسر میں تھوڑی آسانی ہوجاتی ہے “،….وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے جب اِس حوالے سے پوچھا گیا اُنہوں نے وزیراعظم عمران خان کے اِس عمل کی مخالفت کی ، یا یوں کہہ لیں کھل کر حمایت نہیں کی ۔ اُنہوں نے فرمایا ” جب یہ معاملہ پارٹی میں آئے گا ہم اسے دیکھیں گے “ ….یہاں میں شاہ محمود قریشی کے ساتھ ساتھ عمران خان کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جس نے اپنی جماعت میں اِس کلچر کو فروغ دیا کہ اُن کی کسی بات یا رائے سے کوئی اختلاف کرے یا من وعن اتفاق نہ کرے وہ اُس کے جانی یا ذاتی دشمن نہیں ہوجاتے، جیسا کہ شریف برادران کی تو شناخت ہی یہی ہے ۔ شہباز شریف اور حمزہ کے بارے میں تو میں نے لکھا تھا ”اُن کی کسی بات سے اختلاف کرنے کا تو اُن کی پارٹی میں خیر کوئی تصور ہی نہیں ہے ،

اُن کی کسی بات سے اتفاق بھی کوئی ادب آداب سے یعنی اُن کے گھٹنوں تک جُھک کر نہ کرے وہ اِسے بھی گستاخی سمجھتے ہیں، بلکہ کہہ بھی دیتے کہ تمہیں ہماری بات سے اتفاق کرنے کی تمیز نہیں ہے “…. سو شاہ محمود قریشی کو اچھی طرح اندازہ تھا وزیراعظم عمران خان کے ایک نامناسب عمل کی جائز مخالفت کرنے پر اُن کی وزارت وغیرہ چِھن نہیں جائے گی، یا شریف برادران کے متعارف کروائے ہوئے کلچر کے مطابق اُن کے خلاف فوراً ہی انتقامی کارروائی نہیں شروع ہوجائے گی، البتہ پی ٹی آئی کے کچھ ”مالشیوں“ نے اُن کے خلاف سوشل میڈیا پر فوراً ہی ”جہاد“ شروع کردیا، اُن کے خیال میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم عمران خان سے اختلاف کرکے ”گناہ عظیم“ کردیا ہے ۔ جس کے نتیجے میں اب اُنہیں وزیر یا پارٹی میں رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں رہا۔ دوسری طرف ملک کے سنجیدہ سیاسی واخلاقی حلقوں نے اُن کے اِس مو¿قف کو نہ صرف سراہا بلکہ اِس تاثر کو اِس اعتبار سے مزید تقویت مِلی کہ وفاقی کابینہ میں سارے ”مالشیے“ نہیں ہیں۔ ایک ایسا وزیر بھی ہے جو سوچ سمجھ کر بات کرتا ہے اور اپنی سیاسی سوجھ بوجھ کے مطابق اپنی جماعت کو کئی شرمندگیوں سے بروقت بچا لیتا ہے ، اِس کے علاوہ وہ اپنے محکمے (وزارت خارجہ) کو چلانے کی اہلیت بھی رکھتا ہے ، ورنہ تو وفاقی کابینہ نکمے وزیروں سے بھری پڑی ہے ، جن کے بارے میں ہم نے کبھی تصور بھی نہیںکیا تھا اُنہیں اہم وزارتوں یا عہدوں سے نوازا جائے گا

اور محکمے بھی اُن کی اہلیت اور شخصیت کے بالکل اُلٹ دیئے جائیں گے، ابھی تو شکر ہے”کردار سازی“ کا کوئی محکمہ نہیں ہوتا ورنہ یہ محکمہ بھی فواد چوہدری یا فیاض الحسن چوہاں کے ”سپردِ خاک“ کردیا جاتا، ….ویسے پچھلے کچھ دِنوں سے ہم یہ محسوس کررہے ہیں فواد چوہدری کی گفتگو میں وہ ”بڑھک پن“ نہیں رہا جو وزیر بننے کے ابتدائی دِنوں میں تھا، پچھلے دنوں اُن کا محکمہ تبدیل کرنے کی باتیں بھی ہورہی تھیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی اور خصوصی رازدار نعیم الحق سے اُن کی نہیں بنتی، ظاہر ہے ایک میان میں دوتلواریں کیسے رہ سکتی ہیں ؟۔ وزیراعظم کا حوصلہ ہے وہ ”چُوں چُوں کے مربے“ کو سنبھال کر بیٹھے ہوئے ہیں، لوگوں کا وزیراعظم کی اِس ”اکلوتی اہلیت“ پر اعتماد اب بڑھتا جارہا ہے ، جہاں تک بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نام کی تبدیلی کا معاملہ ہے یہ محض کِسی کی خواہش یا اعلان سے تبدیل نہیں ہوسکتا، اِس کے لیے قانون میں ترمیم کرنی پڑے گی، ویسے میں سوچ رہا تھا محترم وزیراعظم کے پاس فوری طورپر اِس پروگرام کے نام کو تبدیل کرنے کا اختیار ہوتا وہ اِس کا نام تبدیل کرکے کیا رکھتے ؟۔ ….ایک نام ” مراد سعید انکم سپورٹ پروگرام“ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ محترم وزیراعظم جن چند وزیروں کی ہرقسم کی کارکردگی سے مکمل مطمئن ہیں مراد سعید بلکہ دِل کی مراد سعید اُن میںسرفہرست ہیں، میں یہ بھی سوچ رہا تھا وزیراعظم عمران خان جِس تیزی سے انصاف پسندی کی ساری حدیں عبور کرتے جارہے ہیں کسی دن یہ معجزہ نہ ہوجائے وہ شوکت خانم ہسپتال کا نام بھی تبدیل کردیں، جس پر کچھ لوگوں کو اعتراض ہے لوگوں کے چندے سے بننے والے اِس عظیم ہسپتال کا نام اُنہوں نے اپنی والدہ کے نام پر کیوں رکھا ہوا ہے ؟۔ لہٰذا ہم اپنے جند جان وزیراعظم سے گزارش ہی کرسکتے ہیں، یا اُنہیں یہ مشورہ ہی دے سکتے ہیں ”ناموں“ وغیرہ کے چکروں میں پڑنے کے بجائے ”کاموں“ وغیرہ پر توجہ دیں جس کا ملک وقوم کو کوئی فائدہ بھی ہو۔ آخر میں اُن کی خدمت میں اُستاد قمر جلالوی کا ایک شعر عرض ہے : اب آگے اِس میں تمہارا بھی نام آئے گا ۔۔ جو حکم ہو تو یہیں چھوڑ دُوں فسانے کو۔(ش س م)





Source link