15

میشا شفیع اور علی ظفر کیس میں نیا موڑ ۔۔۔۔ لاہور ہائیکورٹ نے بڑا حکم جاری کر دیا


لاہور( ویب ڈیسک ) ہائی کورٹ نے اداکارہ میشا شفیع کی درخواست پر سیشن کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے تین ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے۔لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس مسعود جہانگیر نے میشا شفیع کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے سیشن جج کے 15 روز میں فیصلے

کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا تھا۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ 15 روز میں ہتک عزت کے دعوے پر فیصلہ کرنے کا حکم حقائق کے برعکس ہے۔ میشا شفیق نے کہا کہ وہ اپنے دفاع میں گواہان کو پیش کرنا چاہتی ہیں۔ہائی کورٹ نے سیشن جج لاہور کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے کیس کا فیصلہ تین ماہ میں دینے کا حکم دیا ہے۔گزشتہ ماہ پرسیشن کورٹ نے گلوکارہ میشا شفیع کی گواہان کے ناموں کی فہرست فراہم کرنے سے متعلق درخواست مسترد کردی تھی۔عدالت نے کہا تھا کہ میشا شفیع کی درخواست قانون کے مطابق نہیں ۔عدالت گواہان کے بیانات قلمبند کررہی ہے۔اس اسٹیج پر گواہان کے ناموں کی فہرست فراہم کرنا ممکن نہیں۔ گواہان باقاعدہ اپنی شہادت قلمبند کروا رہے ہیں۔گلوکارہ میشا شفیع گزشتہ سال اپریل میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا تھا کہ معروف گلوکار علی ظفر نے انہیں ایک سے زائد بار جنسی طورپرہراساں کیا۔ علی ظفر نے گلوکارہ میشا شفیع کو جنسی ہراساں کرنے کا الزام لگانے کی پاداش میں 10 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوا رکھا ہے۔دوسری جانب معروف گلوکار و اداکار علی ظفر نے طالب علموں کو امتحانات کے دباؤ سے بچنے کا گر بتا دیا۔علی ظفر کے مداح پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود ہیں، وہ اپنے مداحوں سے قریب رہتے ہیں اور اْن کے سوالات کے جوابات دینے کے لیے سوشل میڈیا پر ہمہ وقت موجود رہتے ہیں۔ انہوں نے ان دنوں امتحانات دینے والے طالب علموں کو امتحان کے دباؤ سے بچنے کا نسخہ بھی بتا دیا ہے۔





Source link