234

معدے کی کئی تکلیف دہ بیماریوں کا شافی علاج ’انار‘


امریکی ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ انار معدے اور آنتوں کے السر اور دیگر کئی امراض کا شافی علاج ہے (فوٹو: فائل)

امریکی ماہرین نے ثابت کیا ہے کہ انار معدے اور آنتوں کے السر اور دیگر کئی امراض کا شافی علاج ہے (فوٹو: فائل)

کینٹکی: پاکستان سمیت دنیا بھر میں کروڑوں افراد معدے کی جلن کی ایک کیفیت ’ انفلیمیٹری بوویل ڈیزیز (آئی بی ڈی) کے شکار ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق انار کا خوش ذائقہ پھل اس کا مؤثر علاج ثابت ہوسکتا ہے۔

اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ انار میں موجود کئی اقسام کے خاص کیمیکل’ پولی فینولز‘ پائے جاتے ہیں، جب یہ معدے اور آنتوں کے بیکٹٰیریا سے ملتے ہیں تو ایسے مرکبات (کمپاؤنڈ) خارج کرتے ہیں جو معدے کی جلن، تیزابیت اور امراض کو ختم کرتے ہیں۔

کینٹکی میں واقع یونیورسٹی آف لوئی ویلی کے ماہرین نے کہا ہے کہ آئی بی ڈی کی اصطلاح مجموعی طور پر کئی طرح کے السر اور کرون ڈیزیز کے لیے استعمال ہوتی ہے ۔ صرف امریکا میں 16 لاکھ اور برطانیہ میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد اس مرض کے شکار ہیں۔ پاکستان میں ایسے مریضوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

سائنس دانوں نے معلوم کیا کہ جسے ہی پھل کے پولی فینولز معدے اور آنتوں کے ان گنت بیکٹیریا سے ملتے ہیں تو ایک قسم کا میٹا بولائٹ یورولیتھن اے ( یو آر و اے) خارج ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹرا بیری، رس بیری اور بلیک بیری کے اثرات بھی عین یہی ہوتے ہیں۔

اس میٹابولائٹ کے بہت سے فوائد ہیں جن میں بڑھاپا بھگانے، جسمانی سوزش کم کرنے اور اینٹی آکسیڈنٹ خواص موجو ہیں۔ یہ پورے معدے، آنتوں اور سانس کی نالی کی تکلیف اور جلن کم کرتا ہے۔

آئی بی ڈی کیا ہے؟

آئی بی ڈی کے مرض کے دوران آنتوں اور معدے میں سوزش اور جلن پیدا ہوتی ہے جس سے سرخی نمودار ہوتی ہے اور معدے میں درد ہوتا ہے۔ دیگر علامات میں پتلا فضلہ آتا ہے اور کبھی کبھی خون کی پیچش ہوتی ہے، وزن گرتا ہے، بھوک کم ہوجاتی ہے اور حاجت روکی نہیں جاتی۔

ماہرین نے کہا ہے کہ انار کا رس آنتوں کو بہترین حالت میں رکھتے ہوئے اس مرض کی کمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔





Source link