27

پی ایس ایل کا فائنل کون جیتے گا ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ میں دھماکہ خیز پیشگوئی – Hassan Nisar Official Urdu News Website


کراچی (ویب ڈیسک) پاکستان سپر لیگ کا فائنل پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان آج شب نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کھیلا جائے گا۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے کوالیفائر میں پشاور زلمی کو دس رنز سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی ہے۔ پشاور زلمی نے دوسرے ایلیمنیٹر میں گذشتہ سال کی فاتح

بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔۔۔۔اسلام آباد یونائٹڈ کو 48 رنز سے ہراکر فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ دونوں ٹیمیں اس سے قبل دو دو مرتبہ پی ایس ایل کا فائنل کھیل چکی ہیں۔ سنہ 2016 میں پہلی پی ایس ایل کے فائنل میں اسلام آباد یونائٹڈ نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف کامیابی حاصل کی تھی۔ پشاور زلمی نے سنہ 2017 میں لاہور میں کھیلے گئے فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو شکست دی تھی۔ گذشتہ سال کراچی میں کھیلے گئے فائنل میں پشاور زلمی کو اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس پی ایس ایل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پشاور زلمی پر برتری حاصل رہی ہے اور اس نے لیگ مرحلے کے دونوں میچز جیتنے کے بعد پہلے کوالیفائر میں بھی بازی اپنے نام کی ہے۔ پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان ابتک مجموعی طور پر تیرہ میچز کھیلے جاچکے ہیں جن میں سات کوئٹہ نے جیتے ہیں پانچ میں پشاور نے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ میچ نامکمل رہا ہے۔ رواں پی ایس ایل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو آسٹریلوی آل راؤنڈر شین واٹسن کی موجودگی کا بہت زیادہ فائدہ ہوا ہے خاص کر ان کے پاکستان آکر کھیلنے کے فیصلے سے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی کارکردگی میں غیرمعمولی فرق آیا ہے۔ گذشتہ سال انھوں نے پاکستان آنے سے انکار کردیا تھا۔ شین واٹسن اس پی ایس ایل میں ابتک 423 رنز بناچکے ہیں جن میں چار نصف سنچریاں شامل ہیں۔ پشاور زلمی کی بیٹنگ میں وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل کا ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے۔

وہ پی ایس ایل کے مقابلوں میں دو سنچریاں بنانے والے واحد بیٹسمین ہیں۔ موجودہ ایونٹ کے آغاز میں ان کی کارکردگی اتارچڑھاؤ کا شکار رہی تھی لیکن اب وہ زبردست فارم میں نظر آ رہے ہیں اور ان کے بنائے گئے رنز کی تعداد 336 ہوچکی ہے جن میں تین نصف سنچریاں شامل ہیں۔ کامران اکمل کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اننگز کے آغاز سے ہی جارحانہ انداز اختیار کرکے حریف بولرز کو اپنے دباؤ میں لے لیتے ہیں جیسا کہ انھوں نے اسلام آباد یونائٹڈ کے خلاف 74رنز کی اننگز میں کیا جس میں دس چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔ شین واٹسن اور کامران اکمل کے علاوہ دونوں ٹیموں کے پاس چند دوسرے بیٹسمین بھی ایسے موجود ہیں جو کھیل کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کوئٹہ کے پاس احمد شہزاد ۔عمراکمل اور رائلی روسو کی شکل میں مستند بیٹسمن موجود ہیں تو دوسری جانب زلمی کی امیدیں امام الحق اور پولارڈ سے بھی وابستہ ہیں۔ امام الحق اس پی ایس ایل میں ابتک چار نصف سنچریوں کی مدد سے 338 رنز بناچکے ہیں۔ پولارڈ اپنی جارحانہ بیٹنگ سے حریف بولرز کی جان کو آجاتے ہیں۔ وہ ابتک اس ایونٹ میں 23 چھکے لگاچکے ہیں جو اسلام آباد یونائیٹڈ کے آصف علی کے 26 چھکوں کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔ پشاور زلمی اپنے فاسٹ بولرز کے ذریعے آگے بڑھتی ہوئی آئی ہے جن میں حسن علی قابل ذکر ہیں ۔وہ ابتک 12 میچوں میں 25 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ وہاب ریاض نے 16 اور ثمین گل نے 10 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ڈاؤسن کی سپن بولنگ خاص تاثر چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی فاسٹ بولنگ سہیل تنویر، محمد حسنین اور غلام مدثر پر مشتمل رہی ہے جبکہ سپن بولنگ میں محمد نواز اور فواد احمد شامل ہیں لیکن فواد احمد کوالیفائر میچ میں منہ پر گیند لگنے سے زخمی ہوگئے تھے اور ان کا فائنل کھیلنا یقینی نہیں ہے۔ سہیل تنویر ابتک 15 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ محمد نواز نے 12 اور فواد احمد نے10 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتا ن سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی میں کسی بھی ٹیم کی کامیابی کے لیے اس کے ٹاپ آرڈر بیٹسمینوں کا سکور کرنا بہت ضروری ہوتا ہے اور کوئٹہ کے ٹاپ آرڈر بیٹسمین واٹسن، عمراکمل اور احمد شہزاد اس لیگ میں رنز کرتے آرہے ہیں۔ احسان علی نے بھی اچھی اننگز کھیلی ہے لہذا امید ہے کہ فائنل میں بھی ان بیٹسمینوں کی طرف سے اچھی کارکردگی سامنے آئے گی۔ شین واٹسن ایک ایسے بیٹسمین ہیں جو اگر کریز پر ٹھہر جائیں تو اکیلے ہی میچ جتوادیتے ہیں۔ پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی کا کہنا ہے کہ ناک آؤٹ میچوں میں بڑا سکور ہمیشہ دوسری بیٹنگ کرنے والی ٹیم کے لیے دباؤ کا سبب بنتا ہے۔ عام طور پر ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کارآمد رہتا ہے لیکن یہاں پہلے بیٹنگ زیادہ کامیاب رہی ہے۔ ڈیرن سیمی کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم کا بولنگ کا شعبہ پہلے ایونٹ سے ابتک ایک جیسا رہا ہے ۔حسن علی ایمرجنگ بولر کے طور پر آئے تھے اور اب وہ ایک تجربہ کار بولر بن چکے ہیں۔ وہاب ریاض کا تجربہ اپنی جگہ ہے۔ ڈیرن سیمی کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم میں سپر سٹارز نہیں ہیں لیکن موثر کھلاڑی ضرور موجود ہیں۔ وہ ٹیم کے کپتان ہیں لیکن ٹیم میں کئی لیڈر موجود ہیں جو کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے ہیں جس سے ان کا کام بہت آسان ہوجاتا ہے۔سیمی کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل میں انتہائی اعلی معیار کی بولنگ دیکھنے میں آئی ہے۔ اس لیگ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر سال باصلاحیت کھلاڑی ابھر کر سامنے آئے ہیں۔(ش س م) (بشکریہ : بی بی سی )





Source link