22

50 افراد کے قاتل حملہ آور کے خلاف مقدمہ درج ، مگر اس مقدمے میں خاص بات کیا ہے جس سے ہر مسلمان کو سبق سیکھنا چاہیے – Hassan Nisar Official Urdu News Website


کراچی(ویب ڈیسک ) نیوزی لینڈکی 2مساجد میں 50افراد کو شہید کرنے والے سفید فام آسٹریلوی شہری کو صرف قتل کے الزامات کیساتھ عدالت میں پیش کیا گیا اور اس کیخلاف دہشتگردی کی کوئی دفعات نہیں لگائی گئیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کےمطابق برنٹن ٹیرنٹ کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو جج نے سفاک دہشتگرد

کیخلاف صرف قتل کے الزامات پڑھ کر سنائے جبکہ دوسری جانب نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم اس حملے کو دہشتگرد قرار دے چکی ہیں۔ دہشت گرد نے مسجد میں تسلی سے کارروائی کی، پولیس اسٹیشن قریب ہونے کے باوجود پولیس کہاں غائب تھی، حملےکی18سے20منٹ لائیو فیس بک ویڈیو چلائی، اتنا اسلحہ کہاں سے آیا؟واقعے پر کئی سوالات نے جنم لے لیا۔ نیوزی لینڈ کی مساجد میں مسلمانوں کا قتل عام کا سانحہ پیچھےکئی سوالات چھوڑ گیا، حملہ آور اٹھارہ سے بیس منٹ تک لوگوں گولیاں برساتا ایک سے دوسری مسجد تک گیا کسی نے روکا کیوں نہیں؟ دونوں مسجدوں کے راستے میں پولیس اسٹیشن بھی تھا، پرامن ملک کے چھوٹے سے شہر میں ایک مسلح شخص بیس منٹ تک خون کی ہولی کھیلتا رہا لیکن اسے کوئی روکنے والا نہیں تھا۔ حملہ آور النور مسجد میں خون بہا کر گاڑی سے گیارہ منٹ کا سفر طے کرکے دوسری مسجد تک گیا اور وہاں بھی گولیاں برسائیں اس وقت پولیس کہاں تھی؟ دونوں مسجدوں کے بیچ میں ہی شہر کا مرکزی پولیس اسٹیشن قائم ہے، عینی شاہدین نے بتایا ہےکہ پولیس کو کال بھی کی گئی تھی لیکن وہ بھی بروقت نہ پہنچ سکی۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق حملہ آور نے اپنا مسلم دشمنی کا منشور وزیر اعظم ہاؤس بھی بھیجا تھا جہاں سےاس کی تصدیق بھی ہوئی ہے، جمعے کی صبح اس نے یہ منشور سوشل میڈیا پر اپ ڈیٹ بھی کیا جس میں مسلمانوں کو در انداز کہا گیا تھا۔ اس وقت انٹیلی جینس اداروں کی آنکھیں کیوں نہ کھلیں، حملہ آور کے پاس اتنی گنیں اور گولیاں کہاں سےآئیں؟ یاد رہے کہ جمعہ کو نیوزی لینڈ کی کرائسٹ چرچ میں نماز جمعہ کے موقع پر دہشت گرد مسجد میں داخل ہوا اور اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی جس کے نتیجے میں 50 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔





Source link