27

مشال خان قتل کیس کا فیصلہ 16 مارچ کو سُنایا جائے گا | پاکستان


پشاور: مشال خان قتل کیس کا فیصلہ 16 مارچ کو سُنایا جائے گا، پشاور کی انسداد دہشتگردی عدالت میں مقدمے کی سماعت مکمل ہوگئی۔

پشاور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مشال خان قتل کیس کی سماعت ہوئی جس کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا گیا جو 16 مارچ کو سنایا جائے گا۔

عدالت میں مشال خان کے والد اور دیگر 46 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ سماعت کے دوران دونوں فریقین کے وکلاء نے دلائل مکمل کیے۔

انسداد دہشتگردی کی عدالت میں مشال خان کے والد اور 46 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے گئے اور عدالت نے مشال خان قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چار ملزمان کے خلاف مشال خان قتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔ عدالت نے کیس کا فیصلہ 16 مارچ کو سنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 7 فروری 2018 کو ایبٹ آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے بھی مشال خان قتل کیس کا فیصلہ سنایا تھا جس میں فاضل جج نے 58 گرفتار ملزمان میں سے ایک ملزم عمران کو قتل کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے 5 ملزمان میں سے فضل رازق، مجیب اللہ، اشفاق خان کو عمر قید جب کہ ملزمان مدثر بشیر اور بلال بخش کو عمر قید کے ساتھ ساتھ ایک، ایک لاکھ روپے جرمانے کی بھی سزائیں سنائیں تھیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں 25 دیگر ملزمان کو ہنگامہ آرائی، تشدد، مذہبی منافرت پھیلانے اور مجرمانہ اقدام کے لیے ہو نے والے اجتماع کا حصہ بننے پر 4، 4 سال قید جب کہ 26 افراد کو عدم ثبوت پر بری کرنے کا حکم دیا تھا۔

مشال خان کون تھا؟

عبدالولی خان یونیورسٹی کا 23 سالہ نوجوان مشال خان صوابی کا رہائشی اور جرنلزم کا طالب علم تھا۔

گزشتہ سال 13 اپریل کومشتعل ہجوم نے مشال کو توہین مذہب کا الزام لگا کر فائرنگ اور تشدد کرکے ابدی نیند سلادیا۔

واقعے کے دن ہی اس قتل کا مقدمہ درج کیا گیا اور یونیورسٹی کو غیر معینہ مدت تک کے لئے بند کردیا گیا تھا۔

واقعے کےبعدسپریم کورٹ نےازخود نوٹس لیا اور جے آئی ٹی بھی تشکیل دی گئی۔

جے آئی ٹی نے مشال کوبےقصورقراردیا جب کہ مقدمے میں ویڈیوکی مدد سے 61 ملزمان کونامزدکیاگیا جن میں سے 58 گرفتار ہیں جن میں فائرنگ کا اعتراف کرنے والا ملزم عمران بھی شامل ہے جبکہ پی ٹی آئی کاتحصیل کونسلرعارف ،طلباء تنظیم کا رہنما صابرمایاراوریونیورسٹی کا ایک ملازم اسدضیاء تاحال مفرور ہیں۔

مشال کے قتل کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں شدید تنقید کانشانہ بنایا گیا اور اس کے قاتلوں کو سخت سے سخت سزا دینے کے لئے آواز بلند بھی ہوتی رہی۔





Source link