7

چین نے دونوں ممالک کو ناقابل یقین جھٹکا دے دیا ، سمندروں سے گہری پاک چین دوستی کا نعرہ لگانے والوں کو دنگ کر ڈالنے والی خبر – Hassan Nisar Official Urdu News Website


کراچی(ویب ڈیسک) پاک بھارت تنازعات، چین کسی فریق کا انتخاب نہیں کریگا، چینی اخبارنے کہا ہےکہ بیجنگ نئی دہلی کا دشمن نہیں، غربت میں کمی و دہشتگردی کیخلاف پاکستان کی حمایت کی گئی جبکہ بھارتی اخبار کا کہنا ہےکہ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دلانے پر چین نے ذمہ دار حل کی ضرورت پر

زور دیا ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق بھارتی سفیر چین اور دیگر ملکوں کی کوششوں سے پاکستان واپس آئے اور بڑا فوجی تصادم ٹل گیا، یہ چین کی پالیسی ہے کہ پاک بھارت تنازعات سیاسی مشاور ت سے حل کیے جائیں،تاہم کچھ بھارتی چین کی کوششوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، کچھ بھارتی ماہرین چین پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ان دہشت گردوں کامسلسل تحفظ کرتا ہے جو مبینہ طور پر پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے پلوامہ حملہ کیا، بہت سے بھارتی تجزیہ کار چین کے بیلٹ اور روڈ منصوبے کو جغرافیائی خطرے کے طور پر خیال کرتے ہیں۔ پاک بھارت تنازعات میں چین کسی ایک فریق کا انتخاب نہیں کرے گا ،متنازع کشمیر خط غریب اور پس ماندہ نہیں رہے گا، یہ چین کا مقصد ہے۔پاک بھارت کشیدگی کو کم کرنے کیلئے چین ثالثی کا کردار اداکرے گا۔ چینی اخبارنے لکھا ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ان دنوں انتہائی کم سطح پر ہیں۔ چین کے نائب وزیر خارجہ نے دورہ پاکستان میں دونوں اطراف کو ایسے اقدام سے گریز کرنے کا کہا جس سے حالات مزید خراب ہوسکتے ہوں، پاکستان نے چین کے عزم اور واضح موقف کی تعریف کی اور کشیدگی کو کم کرنے میں چینی کوششوں کا شکریہ ادا کیا۔ چین اور دیگر متعلقہ ممالک کی مدد سے پاکستان میں بھارت کے ہائی کمشنر اجے بساریہ جسے بھارت نے کشیدگی کے بعد واپس بلایا لیا تھا،وہ اسلام آباد واپس پہنچ گئے یہ اشارہ ہے کہ بڑے فوجی تصادم کو ٹال دیا گیا ،

چین نے غربت میں کمی اور دہشت گردی کے خاتمے میں پاکستان کی حمایت کی، تاہم بیجنگ نئی دہلی کا دشمن نہیں ۔اخبار سوال اٹھاتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کواپنے تنازعات کو کیسے حل کرنا چاہئے؟ اس سوال پر دونوں ملک طویل عرصے سے الجھن کا شکار ہیں کیونکہ کوئی حل دکھائی نہیں دیتا ،غور طلب بات کہ دونوں اطراف فوجی ٹکرائو یہاں تک کہ جنگ کے دھانے پر ہیں، یہ صورتحال خطرناک ہوسکتی ہے۔ اگرچہ لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑی جنگ نہیں ہوگی،کیونکہ دونوں جوہری ہتھیاروں کے حامل اور ایٹمی توازن حاصل کرچکے ہیں تاہم یہ طویل عرصہ تک کوئی محفوظ حل نہیں، ایسی صورت میں دونوں ممالک کو کیا کرنا چاہئے؟ ہمیں یقین ہے کہ تنازع کو حل کرنے کے لئے صرف سیاسی مشاورت ہی راستہ ہونا چاہئے ، یہ چین کی مستقل پالیسی ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان پرامن مذاکرات کو فروغ دینے میں چین کامضبوط موقف کبھی نہیں بدلے گا۔ ایسے غیر ذمہ دار بیانات حقائق کا ساتھ نہیں دیتے ،27 فروری کو چین ، روس اور بھارت کے وزراء خارجہ کا 16واں اجلاس منعقد ہواجس میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی بنیادوں کو ختم کرنے کا وعدہ کیا گیا، حقیقت میں چین، پاکستان اور بھارت دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مفادات کا اشتراک کرتے ہیں، یہ وقت ہے کہ بھارت ان بے بنیاد الزامات کو روکے اور بھارت کو یہ بھی سمجھنا چاہئے، اگرچہ چین نے غربت میں کمی اور دہشت گردی کے خاتمے میں پاکستان کی حمایت کی، تاہم بیجنگ نئی دہلی

کا دشمن نہیں ہے، اس کے برعکس چین نے بی آر آئی کی تجویز پیش کی اور اسے شروع کیا جو نہ صرف انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے لئے بھارت کی ضروریات کو پورا کرتا ہے بلکہ بھارت اور پاکستان کے کشیدگی کو کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ بھارت روڈ بیلٹ منصوبے کے خلاف اپنے تعصب پر قابو پائے،اس منصوبے سے تعاون کو فروغ اور خطے کے استحکام میں مدد ملے گی۔ متنازع کشمیر خط غریب اور پس ماندہ نہیں رہے گا، یہ چین کا مقصد ہے اور یہ دونوں بھارت اور پاکستان کا بھی مقصد ہونا چاہئے، اگر دونوں ملک بیچ راستے سے ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں، تو یہ ان میں باہمی اعتماد سازی میں مدد دے گا۔ پاک بھارت تنازعات میں چین کسی ایک فریق کا انتخاب نہیں کرے گا ،دونوں ممالک کے تنازعات میں کمی کو فروغ دینے اورانسداد دہشت گردی کی صورت حال کو بہتر بنانے کا مقصد، مسلسل جاری کشیدگی کے دوران چین ثالثی اور سہولت سازی کا کردار ادا کرے گا۔ ادھربھارتی اخبار نے لکھا کہ جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دلانے پر چین نے ذمہ دار حل کی ضرورت پر زور دیا ہے، چینی وزارت خارجہ کا یہ بیان اس تناظر میں آیا جب امریکا،برطانیہ اور فرانس مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کیلئے نئی درخواست دینے والے ہیں، یہ درخواست تیرہ مارچ کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ چین بھارت کی ایسی3کوششیں روک چکا ہے،چینی وزارت خارجہ کہہ چکی ہے کہ اس حوالے سے ان کا موقف واضح ہے کہ سلامتی کونسل کے ضوابط اور طریقہ کار پر عمل کیا جائے۔ بھارتی اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا کہ عالمی برادری کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردی تنظیموں کے خلاف کارروائی کا دباؤ ہے، پاکستان کو سب سے زیادہ دکھ چین کے ردعمل کی وجہ ہوا ہوگا۔ پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اور بھارت میں چین نے نیوٹرل پوزیشن لی ہے





Source link