35

عمران خان کی حکومت چند ووٹوں پر کھڑی ہے اسے گرانا کوئی مسئلہ نہیں ۔۔۔۔۔ بڑے سیاسی مخالف نے ناقابل یقین اعلان کر دیا


کراچی (ویب ڈیسک)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس وقت صرف پانچ سات ووٹوں کا سہارا ہے ،حکومت کو گرانا کوئی بڑی بات نہیں،ن لیگ کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پارٹی سڑکوں پر

نکلنے اور مزاحمت کرنے کیلئے تیار ہے مگر یہ فیصلہ نواز شریف کو کرنا ہے، سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات علامتی اور سیاسی ہے، اس ملاقات کے نتیجے میں کوئی فوری تبدیلی یا مزاحمتی تحریک نہیں چلے گی۔پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ نواز شریف سے ملاقات میں ان سے علاج کرانے کی گزارش کی مگر وہ ناراض نظر آئے، سابق وزیراعظم کی ناراضی اور مایوسی بنیادی طور پر حکومتی برتاؤ پر ہے،نواز شریف نے بتایا کہ مجھے دل کی بیماری ہے لیکن ایسے اسپتالوں میں لے کر گئے جہاں دل کے علاج کی سہولت ہی نہیں ہے، نواز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت نے مجھ سے ایسا رویہ رکھا جیسے میں علاج کی خیرات مانگ رہا ہوں، میں نے مانگنا ہے تو انسانوں سے نہیں اللہ سے مانگوں گا، عدالت میں اپنی ضمانت کی اپیل کی ہے اگر ضمانت ہوگئی تو علاج کروالوں گا، بلاول بھٹو نے نواز شریف سے کہا کہ آپ سندھ آکر علاج کروانا چاہیں تو ہمیں بہت خوشی ہوگی۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بلاول بھٹو خالصتاً نواز شریف کی عیادت کرنے کوٹ لکھپت جیل گئے تھے، وہاں کچھ سیاسی باتیں بھی ہوئیں جبکہ حکومت سے مایوسی اور ملک کے حالات کا ذکر بھی ہوا، حکومت کیخلاف پیغام دینا ہو تو تمام سیاسی جماعتوں کو بلاسکتے تھے، حکومت صرف پانچ سات ووٹوں کے سہارے کھڑی ہے، حکومت کے بہت سے اتحادی ان سے ناراض ہیں، اگر ہمارا مقصد حکومت گرانا

ہو تو یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے، حکومت گرانا کبھی بھی ہمارا مقصد نہیں رہا، موجودہ اندرونی و بیرونی خطرات سے نمٹنے کیلئے قومی وحدت کی ضرورت ہے،قومی وحدت پیدا کرنے کیلئے سب سے زیادہ کام اپوزیشن نے کیا۔ قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پارلیمانی لیڈرز کی میٹنگ میں شرکت نہیں کی کہ مجھے ہاتھ ملانے پڑیں گے، بلاول بھٹو کی انگریزی تقریر کا جواب شاہ محمود قریشی نے بھی انگریزی میں ہی دیا، اسد عمر اور عمران خان نے بلاول کی انگریزی تقریر پر اعتراض کر کے شاہ محمود قریشی کو اشارہ دیا کہ آپ اپوزیشن سے ہاتھ ملانے کی کوشش کیوں کررہے ہیں، اپوزیشن اتحاد پیدا کرنا چاہتی ہے مگر حکومت کا یہ ارادہ نہیں ہے۔ن لیگ کے رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پارٹی سڑکوں پر آنے اور مزاحمت کرنے کیلئے تیار ہے مگر یہ فیصلہ نواز شریف کو کرنا ہے، اپوزیشن خاص طور پر مولانا فضل الرحمٰن پہلے دن سے سڑکوں پر آنے کے حامی ہیں، پیپلز پارٹی مزاحمت کیلئے اپوزیشن کو اکٹھا کرنے کیلئے تیار ہوئی تو نواز شریف کی رائے تھی کہ یہ قبل از وقت ہوگا، وزیراعظم سمیت وزراء کا رویہ انتہائی غیرذمہ دارانہ اور غیراخلاقی ہے، نواز شریف کی بیماری کا مذاق اڑایا گیاجس کے بعد انہوں نے اسپتال نہ جانے کا فیصلہ کیا، حکومت نے پانچ میڈیکل بورڈ بنائے لیکن عدالت میں کہہ دیا نواز شریف کو کوئی خطرناک عارضہ لاحق نہیں ہے، نواز شریف کو ایک جگہ سزا ہوئی لیکن ابھی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے مراحل باقی ہیں،

نواز شریف بیماری کیلئے ضمانت مانگ رہے ہیں بری کرنے کیلئے نہیں کہہ رہے۔رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ہر مریض کی خواہش ہوتی ہے کہ جس سرجن نے آپریشن کیا اسی سے علاج کروائے، نواز شریف کو سزا ہوئی تو لندن میں تھے مگر واپس پاکستان آئے، نواز شریف کی صحت پر حکومت کے رویے پر ن لیگ میں بھی غم و غصہ پایا جاتا ہے، پارٹی قیادت پر اس حوالے سے واضح موقف لینے کیلئے دباؤ ہے۔ سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات علامتی اور سیاسی ہے، اس ملاقات کے نتیجے میں کوئی فوری تبدیلی یا مزاحمتی تحریک نہیں چلے گی، بلاول نواز ملاقات اسد عمر اور عمران خان کی تقریروں کا سیاسی جواب ہے، بلاول نے نواز شریف سے ملاقات کر کے حکومت کو اشارہ دیا ہے کہ ہمارے پاس یہ بھی آپشن ہے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں اب تک اتحاد نہ ہونے کی وجہ آپس میں عدم اعتماد ہے، دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر اسٹیبلشمنٹ سے ملے ہونے کا شبہ کرتی ہیں، پی ٹی آئی کا مزید دباؤ بڑھے گا تو ان کے پاس جوائنٹ ایکشن کے علاوہ راستہ نہیں رہے گا۔ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو کچھ ہوا تو جیل کے اندر اس طرح کی موت قتل کہلاتی ہے، یہی سمجھا جائے گا کہ حکومتی جبر کی وجہ سے نواز شریف کو طبی سہولتیں نہ ملیں جس کی وجہ سے وہ جان ہار بیٹھے، نواز شریف جتنا بھی ٹوٹے ہوں مگر سرینڈر کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں، سابق وزیراعظم جیل کے اندر بیٹھ کر بھی مدافعانہ جارحیت یا مزاحمت کررہے ہیں، نواز شریف کا اسپتال نہ جانا بھی ایک طرح کی مزاحمت ہے۔





Source link