11

انڈیا کا بڑا بحری جہاز وکرنت بمقابلہ پاک بحریہ کی آبدوز غازی۔۔۔۔ 1971 کی جنگ میں پیش آنے والا ایسا واقعہ جس کا تذکرہ آج بھی دشمنوں کی نیندیں اڑا دیتا ہے


لاہور (ویب ڈیسک) گزشتہ دنوں میرے قریبی دوست بحریہ فائونڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر وائس ایڈمرل شاہ سہیل مسعود نے ہماری فیملی کو پاکستان نیوی کے آبدوز آگسٹا اور بحری جنگی جہاز پی این ایس عالمگیر پر عشائیے میں مدعو کیا۔ اس موقع پر آگسٹا آبدوز کے کمانڈر کی فراہم کردہ تفصیلات ہم سب کیلئے

نامور کالم نگار ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ دلچسپ اور معلوماتی تھیں۔ پاک بھارت کشیدگی اور پاک فضائیہ کے شاہینوں کے ہاتھوں بھارتی جنگی طیاروں کی تباہی کے پیش نظر پاک نیوی کی 1965ء کی جنگ میں شاندار کارکردگی بھی آج اپنے قارئین سے شیئر کرنا چاہوں گا۔ پاکستان نیوی کا ادارہ بحریہ فائونڈیشن 1982ء میں قائم کیا گیا۔ یہ ادارہ مختلف کمرشل منصوبوں کے ذریعے نیوی کے ریٹائرڈ ملازمین اور ان کی فیملی کی سماجی مدد کرتا ہے۔ بحریہ فائونڈیشن کے انتظامی امور 8ممبران پر مشتمل کمیٹی آف ایڈمنسٹریشن (COA) کے پاس ہوتے ہیں جس کی سربراہی نیول چیف کرتا ہے جبکہ انتظامی اختیارات منیجنگ ڈائریکٹر کے پاس ہوتے ہیں۔ بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان کی بری، فضائی اور بحری افواج نے ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دیا۔ پاکستان نیوی نے محدود وسائل کے باوجود ایسے مثالی کارنامے انجام دیئے جن کے زخموں کو بھارت کبھی نہیں بھلا سکتا۔ پاک بحریہ کے پاس اب تک طیارہ بردار جہاز نہیں ہے جبکہ 1965ء کی جنگ میں پاک بحریہ کے پاس بھارت کے مقابلے میں کم بحری جہاز تھے مگر پاک بحریہ کے افسروں اور جوانوں کے جذبے اور ماہرانہ تربیت کی بدولت پاکستان نے بھارتی بحریہ کو شکست دی۔ بھارتی بحریہ میں طیارہ بردار جہاز ’’وکرنت‘‘ شامل تھا جبکہ اسکے مقابلے میں پاک بحریہ کے پاس گنے چنے جہاز تھے اور صرف ایک آبدوز غازی تھی لیکن اپنے نام کی طرح اس آبدوز نے اس جنگ میں غازی رہ کر وہ کارنامہ انجام دیا جس نے دنیا بھر کو حیران کر دیا۔

زمینی اور فضائی حملوں میں پہل کرنے کے برعکس بھارتی بحریہ نے اب تک حملہ نہ کیا تھا لیکن دشمن کے عزائم سامنے آچکے تھے چنانچہ پاک بحریہ نے دشمن کو یہ موقع نہ دینے کیلئے آبدوز غازی کو ممبئی کے قریب بھارتی بحریہ کے ہیڈ کوارٹر کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کیلئے تعینات کر دیا اور ہماری اکیلی آبدوز نے دشمن کو عملی طور پر ممبئی میں ہی محصور کر دیا۔ بھارتی بحریہ کے ایک جہاز نے جب باہر نکلنے کی کوشش کی تو غازی آبدوز سے اس پر تار پیڈو داغے گئے جس سے بھارتی جنگی بحری جہاز میں آگ لگ گئی۔ اس حملے نے بھارتی بحریہ کے حوصلے توڑ دیئے اور بھارت دو ہفتوں کی جنگ کے دوران کھلے سمندر میں پاک بحریہ پر حملہ آور ہونے کی جرأت نہ کر سکا۔ دوسری جانب پاک بحریہ کے جہازوں نے کموڈور ایس ایم انور کی زیر قیادت آپریشن ’’دوارکا‘‘ کرکے بھارت کے مواصلاتی نظام کو تقریباً مفلوج کر دیا۔ دوارکا آپریشن کی کامیابی نے بھارتی فوج بالخصوص نیوی کے حوصلے پست کر دیئے۔ پاک بھارت جنگ میں غازی آبدوز نے دشمن کے دلوں پر ایسی دھاک بٹھائی کہ بھارتی بحریہ کے سمجھ ہی میں نہیں آرہا تھا کہ کس فورس نے انکا راستہ بلاک کر رکھا ہے۔ غازی آبدوز نے تنِ تنہا بھارتی بیڑے کا محاصرہ کئے رکھا۔ پاک بحریہ کے جہازوں پی این ایس بابر، پی این ایس بدر، پی این ایس خیبر، پی این ایس جہانگیر، پی این ایس عالمگیر، پی این ایس شاہجہاں اور پی این ایس ٹیپو سلطان نے بھارتی بحری اڈے پر مشترکہ حملہ کیا

اور پاک بحریہ کے جہاز بڑی آسانی سے دشمن کی تنصیبات کو نشانہ بناکر بغیر کسی نقصان کے اپنی حدود میں واپس آگئے۔ اس موقع پر میں پاکستانی آبدوز ’’غازی‘‘ کے دلیرانہ آپریشن کا ذکر کرنا چاہوں گا۔65ء کی جنگ میں پورے خطے میں صرف پاکستان کے پاس سب میرین تھی۔ 1971ء کی جنگ میں بھارتی نیوی نے خلیج بنگال میں پاکستانی بحری جنگی جہازوں کو روکنے کی بہت کوشش کی مگر پاکستان کی بہترین پلاننگ کے باعث وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ پاکستان نیوی نے آبدوز غازی کو بھارتی بحری جہاز وکرنت کو تباہ کرنے اور پاکستان کے جنگی بحری جہازوں کو مشرقی پاکستان کی بحری حدود تک رسائی ممکن بنانے کی ذمہ داری دی۔ غازی آبدوز 14نومبر 1971ء کو اپنے مشن پر کراچی سے روانہ ہوئی اور دشمن کے علاقے میں مائننگ کی۔ پرانی آبدوز ہونے کی وجہ سے غازی میں تکنیکی خرابیاں پیدا ہو رہی تھیں اور اس کی فوری مینٹی نینس نہایت ضروری ہو گئی تھی لیکن جنگی صورتحال کی وجہ سے غازی اپنی ذمہ داری نبھانے میں مشغول تھی مگر 3دسمبر 1971ء کو اپنی بچھائی ہوئی مائنز سے ٹکرا کر یا کسی ٹیکنیکل بریک ڈائون کے باعث تباہ ہو گئی اور اس میں موجود تمام 90جوان شہید ہو گئے جسکے بعد پاکستان نے فرانس سے آگسٹا 70آبدوز خریدی اور اسکی کامیاب کارکردگی کے پیش نظر آگسٹا S-80اور S-90آبدوزیں فرانس کے اشتراک سے پاکستان میں تیار کی گئیں۔ آگسٹا آبدوز کی لمبائی تقریباً 76میٹر (249فٹ)، وزن 2050ٹن، اسپیڈ 20.59 ناٹ، فائرنگ حد 8500میل (13.7کلومیٹر)، گہرائی 300میٹر (980فٹ) ہے۔

جدید آگسٹا S-90میں صرف 36افراد پر مشتمل عملہ درکار ہے جبکہ پرانی آگسٹا S-70میں 54افراد کا عملہ درکار ہوتا تھا۔ ایک عام آبدوز کی قیمت تقریباً 520ملین ڈالر ہوتی ہے لیکن اگر یہ جدید آلات اور ٹیکنالوجی سے لیس ہو تو اس کی قیمت 950ملین ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔پاکستان کے پاس موجود آبدوزیں اس وقت ہماری بحری حدود کی حفاظت پر مامور ہیں۔ آبدوز کا عملہ نہایت سخت حالات میں وطن کیلئے خدمات انجام دیتا ہے۔ آبدوز کے دورے میں کمانڈر نے ہمیں بتایا کہ یہ آبدوز 60دن تک پانی میں رہ سکتی ہے۔ اس دوران پانی کی کمی کی وجہ سے صرف کچن کے عملے کو غسل کی اجازت ہوتی ہے، باقی عملے کو نہیں جسکی وجہ سے عملہ شیو کرنے سے بھی گریز کرتا ہے۔ آبدوز کے سفر میں چند ہفتوں کے بعد کھانے سے رغبت کم ہوتی جاتی ہے۔ عملے کے شدید بیمار ہونے کی صورت میں انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے قریبی اسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ باتیں لکھنے کا مقصد قارئین کو یہ بتانا ہے کہ جب ہم اپنے گھروں میں سکون سے سو رہے ہوتے ہیں تو ہمارے یہ بہادر نوجوان محدود وسائل اور نہایت مشکل حالات میں ملک کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں۔حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں 2016ء کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ گزشتہ دنوں پاک بحریہ نے جدید ٹیکنالوجی سے لیس بھارتی آبدوز کا نہ صرف سراغ لگایا بلکہ اسے پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا جو بھارتی بحریہ کی ناکامی ہے۔ میرے سمدھی اور پاک نیوی کے سابق سربراہ ایڈمرل (ر) فصیح بخاری سے اس موضوع پر گفتگو سے معلوم ہوا کہ پاک بحریہ نے امن قائم رکھنے کی حکومتی پالیسی کے پیش نظر بھارتی آبدوز کو تباہ نہیں کیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاک بحریہ سمندری حدود کی حفاظت کیلئے دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کیلئے تیار ہے۔ آج پاک فضائیہ کے بعد بحریہ نے بھی اپنا لوہا منوا لیا، ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے۔(ش س م)





Source link