45

محبت کا انجام بھی نِرالا ہے


اگر آپ یہ سب انجام بھگتنے کو تیار ہیں تو شوقِ محبت فرمائیے، لیکن پھر ہم سے شکایت نہ کیجیے گا کہ خبردار نہیں کیا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

اگر آپ یہ سب انجام بھگتنے کو تیار ہیں تو شوقِ محبت فرمائیے، لیکن پھر ہم سے شکایت نہ کیجیے گا کہ خبردار نہیں کیا۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

بزرگوں کی باتیں ذہن کے قرطاس پر نقش ہوجاتی ہیں۔ ایک مشہور مقولہ ہے ’’آنکھوں دیکھے مکھّی نگلنا۔‘‘ محبت کرنا بھی بالکل اسی طرح ہے جیسے آپ آنکھوں دیکھے مکھّی نگل رہے ہوں۔ محبت میں کسی قسم کا مشاہدہ، تجربہ کام نہیں آتا، نہ ہی ماہرین سے رائے لی جاسکتی ہے۔ یہ تو اس زہریلے سانپ کی مانند ہے جو ساری کی ساری معقولیت کو ڈس لیتا ہے، جس بنا پر عقل اس کے جواز میں عقلی تعبیریں گھڑنا شروع کردیتی ہے۔

ویسے تو محبت میں پڑنا ایک احمقانہ عمل اور سراسر وقت کا ضیاع ہے۔ پڑھیے، لکھیے اور قابل انسان بنیے؛ لیکن ہم اتنے شریف تو نہیں کہ کسی نے منع کیا تو ہم نہ کریں۔ ایسا کام تو ہمیں ہر صورت کرنا ہے۔ اگر محبت کرنی ہے تو اس کا انجام بھی جان لینا چاہیے۔ وہ کہاوت تو سُنی ہوگی کہ حُور کے پہلو میں لنگور۔ بعض اوقات تو یہ بھی نہیں سمجھ میں آتا ہے کہ حُور کے پہلو میں اکثر لنگوروں ہی کو کیوں باندھ دیا جاتا ہے؛ ورنہ آج کل تو کوئی مفت میں کوئی خربوزه نہیں دیتا، دل دینا تو بہت دور کی بات ہے۔ استخاروں میں ”ہاں“ جب ہی آتا ہے جب مرد امیر ہو، ورنہ تو ”نہیں“ مقدر بن چکی ہے۔

خیر چلیے، محبت کے انجام کی جانب چلتے ہیں۔ دراصل محبت میں پہل بھی مرد کو کرنی پڑتی ہے۔ شروع میں محبت چیونگم کی مانند ہوتی ہے، جسے بعد میں پھینکنے کو جی کرتا ہے۔ لیکن جب محبت کریں گے، تو انجام بھی بھگتنا پڑے گا۔ لڑکیوں کی چھٹی حِس بڑی تیز ہوتی ہے۔ یہ ہر بات کو پہلے ہی سمجھ جاتی ہیں۔ فرض کیجیے اگر لڑکا کہے کہ اقراء میں تمہیں میسج پر کچھ کہنا چاہ رہا تھا لیکن ہمت نہیں ہوئی مگر اب تمہیں سامنے دیکھ کر میری ہمت نے جواب دے دیا ہے۔ اب اقراء کو سب کچھ پتا ہوتا ہے، لیکن ڈھیٹ اس قدر ہوتی ہے کہ مجال ہے کہ ایک لفظ بھی خود بول دے۔

پھر اقراء کی زبان سے اگلا جملہ یہ نکلتا ہے ’’ہاں ہاں بتاؤ، ہم دونوں تو بہت اچھے دوست ہیں۔‘‘

لڑکا: ’’تم میری بات کا برا تو نہیں مانو گی؟‘‘

اقراء: ’’میں بالکل بھی تمہاری بات کا برا نہیں مانوں گی۔“

پھر ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں لڑکا اظہار کردیتا ہے۔ لیکن اقراء ایسی انجان بن جاتی ہے جیسے اسے کچھ معلوم ہی نہ ہو۔ وہ مِن و عَن کھلی زبان میں الفاظ سننے کی چاہ میں ہوتی ہے۔ لہذا آخر پھر یہ سننے کو ملتا ہے، ’’میں ایسی لڑکی نہیں ہوں۔‘‘ اب بیچارہ لڑکا، جس کی زبان پہلے ہی لکنت کا شکار تھی، دِل میں خواہش کو دبا کر رکھ لیتا ہے… اور اب یہ محبت بھی اپنے انجام کو پہنچ گئی۔

ایک بات آپ نے کہیں نہیں سنی ہوگی مگر اب سن لیجیے، وہ یہ کہ ‏میٹھا خربوزہ، خاموش بیوی، اچھی پھوپھو، معقول رشتے دار اور سچی محبت نصیب والوں کو ہی ملتی ہے۔ اگر سچی محبت مل بھی جائے، تو یک طرفہ نہ ہو۔ کچھ یوں ہوا کہ ہمارے ایک دوست کو ایک لڑکی سے عشق ہوگیا تھا۔ ویسے تو ان کو ہر کسی سے عشق ہوجاتا ہے مگر اس لڑکی سے صحیح والا عشق ہوگیا تھا۔ موصوف روز اس کا ایک قصہ ضرور سناتے تھے۔ محبوبہ کی خوبصورتی اور ادائیں اتنی تفصیل سے بیان کرتے کہ سامنے والے کو بھی عشق ہوجائے۔

ہم بھی یہ قصے سُن سُن کر پک چکے تھے؛ اور تجسس میں بھی مبتلا ہوچکے تھے۔ البتہ اتنی کہانیاں سننے کے بعد بالآخر یہ پوچھ ہی لیا کہ بھائی! تم جس کے اتنے قصیدے سناتے ہو، وہ دیکھنے میں کیسی ہے؟ تب انکشاف ہوا کہ بھئی یہ محبت تو یک طرفہ تھی؛ اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ جس کی تعریفیں سُن سُن کر ہم اسے حسینہ عالم (مس ورلڈ) سمجھ بیٹھے تھے، وہ لڑکی ’’آئی فون کے ڈبے میں نوکیا 3310‘‘ کی مانند تھی۔ اسے دیکھ کر ہمیں لگا کہ شاید ہماری نظریں کمزور ہیں یا ہم اندھے ہوچکے ہیں۔ بالآخر جس لڑکی کےلیے وہ اتاولے ہورہے تھے، اس نے اب تک ہمارے دوست کو منہ تک نہیں لگایا۔ اب یہاں منہ لگانے سے مراد وہ نہیں، جو فرانسیسی لوگ لگاتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد اپنے دوست کو نصیحت کی، ’’اگر آپ کو محبت کا جرثومہ ضرورت سے زیادہ تنگ کررہا ہے، تو بھی اس بات کا خیال ضرور رکھیے کہ یہ بیماری یک طرفہ ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔‘‘ اسی طرح ان کی محبت کا بھی انجام نرالا ہوا۔

آپ اب تک محبت کرنے کے انجام کے بارے میں جان ہی چکے ہیں لیکن محبت کو انجام تک پہنچنے میں بھی کئی دشواریاں پیش آتی ہیں، جو آپ کو اس کے خوفناک انجام سے قدم قدم پر خبردار کرتی رہیں گی۔ محبت اور پولیو، دونوں ہی وہ خطرناک بیماریاں ہیں جن کا غم ساری زندگی رہتا ہے۔

البتہ، اگر عشق کی بیماری ’’انجام بخیر‘‘ والے انداز میں ساری زندگی کےلیے ’’لاحق‘‘ ہوجائے تو چند ہی دِنوں میں آپ کو اپنے اندر کی خامیاں پتا لگ جائیں گی۔ اس دوران آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ آپ کتنے خود غرض ہیں: مجھے تو چھوڑ کر ہی چلے گئے تھے، میری تو آپ کو فکر ہی نہیں، میں نے آپ کو سموسے کے ساتھ چٹنی لانے کا کہا تھا، آپ نے یہ کیسا پرفیوم لگا لیا ہے… یہ تمام باتیں تو بندہ خاموشی سے سہ لیتا ہے۔ مگر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ بندہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھی اطمینان سے استعمال نہیں کرسکتا۔ بار بار یہ طعنہ ملتا ہے کہ آپ تو بہت دیر رات تک ’’ایکٹیو‘‘ (Active) تھے؛ اور میں نے میسج کیا تھا تو میسج پر نیلے نشان بھی آگئے تھے۔ لیکن پھر بھی آپ کا جواب نہیں آیا۔ میں تو سیدھی سادی لڑکی ہوں ناں، تو آپ مجھے بے وقوف بنا رہے ہیں۔ میرا دل تو بہت بڑا ہے، جب ہی سب کا خیال کرتی ہوں، اس لیے میری کسی کو قدر نہیں۔ بھلے میں کتنی ہی پریشان کیوں نہ ہوں، دوسروں کا دل بہلانے کےلیے ہنسی مذاق کرلیتی ہوں۔

محبت میں تو ایک دوسرے سے رابطے میں رہنا بے حد اہم ہوتا ہے۔ اس مواصلات کے رشتے کو قائم رکھنے کےلیے مرد حضرات سب سے پہلے ایک سستی سے ہینڈ فری خرید لیتے ہیں؛ اور خواتین کسی اچھے نیٹ ورک والی سِم خرید لیتی ہیں تاکہ کہیں پر بھی ہوں، رابطہ منقطع نہ ہو۔ زیاده مسئلہ مرد حضرات کے ساتھ ہوتا ہے کہ جس نیٹ ورک کی سِم محبوبہ نے خریدی ہے، اس نیٹ ورک کے سستے پیکیچز تلاش کرنے میں وہ دماغ صَرف کرتے ہیں۔ اب سستے پیکچز مل جائیں تو یہ بات پریشان کرتی ہے کہ کال کروں یا واٹس ایپ پر میسج کرلوں؟ کال کروں گا تو منٹس ضائع ہوجائیں گے، اور اگر ڈیٹا آن کرکے واٹس ایپ پر میسج کروں گا تو پیکیج کے ساتھ ملنے والا اضافی ڈیٹا ضائع ہوجائے گا۔ بس! اسی کشمکش میں کچھ سے کچھ ہوجاتا ہے۔

اگر آپ یہ سب انجام بھگتنے کو تیار ہیں تو شوقِ محبت فرمائیے لیکن بعد میں ہم سے شکایت نہ کیجیے گا کہ ہم تو اندھے کنویں میں کودنے چلے تھے، آپ نے کیوں نہیں روکا؟ ویسے بھی جسے ہر روز خودکشی کرنے کا شوق ہے، اسے روکنا مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہے!

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔





Source link