18

اگر اس چیز کو 30 فیصد مہنگا کردو تو ۔۔۔۔۔ آئی ایم ایف نے عمران حکومت کے سامنے اب تک کی سب سے سخت شرط رکھ دی ، مگر کیوں ؟ بریکنگ نیوز آ گئی


اسلام آباد( ویب ڈیسک) حکومت پاکستان کو اسٹیٹ بینک سے قرضے لینا بند کرنا پڑے گا۔ بجلی کے ٹیرف میں 30فیصد اضافہ اور اپنے یکجا ویلیو ایڈڈ ٹیکس کو مصنوعات اور خدمات کیلئے ایک ٹیکس کلیکشن ایجنسی کے تحت لانا ہو گا۔ جو بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی ممکنہ بیل آئوٹ پیکیج کے لئے

سخت ترین شرائط ہیں۔اسٹیٹ بینک سے قرضوں کا حجم 3.8 ٹریلین روپے ہے جسے صفر کرنا ہوگا، تاہم تحریک انصاف کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ آئی ایم ایف مشن ’’بتدریج ایڈجسٹمنٹ‘‘ پر اتفاق کر لے گا۔ تاہم اندرونی ذرائع کا خیال ہے کہ یہ حکومت کی خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن حکومت کو اقتصادی عدم استحکام پر قابو پانے کیلئے فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے سہ ماہی بنیادوں پر اسٹیٹ بینک پر انحصار ختم کر دینے کے نتیجے میں کمرشل بینکوں سے قرضوں پر توجہ منتقل ہو جائے گی۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی یہ شرائط ہو ں گی کہ ابتدائی بجٹ توازن فاضل ہو۔ سود کی ادائیگی کے بغیر ابتدائی بجٹ خسارے کا تخمینہ گزشتہ مالی سال کے اعداد و شمار کی بنیاد پر جی ڈی پی کا منفی 2.2فیصد لگایا گیا ہے۔ آئی ایم ایف اس خسارے کو فاضل میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ جس کیلئے حکومت کو مالی ایڈجسٹمنٹ آئندہ دو سال میں جی ڈی پی کا 1.1فیصد کرنا ہو گا۔ ان شرائط کے تحت مالی استحکام کیلئے حکومت کے پاس قرضوں میں غیر معمولی کمی اور سبسڈیز کے علاوہ ترقیاتی پروگرام میں بھی کٹوتی کرنی ہو گی۔

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو تحفظ دیا جائے گا۔ تاکہ معاشرے کے غیر محفوظ اور کمزور طبقات کی بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔ ممکن ہے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو لاگت میں شراکت کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں نصف نصف تقسیم کر دیا جائے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بھی اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کر دیا جائے۔ مالی وصولیوں کے شعبے میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس بڑی شرط ہو سکتا ہے۔ جبکہ موجودہ جی ایس ٹی کو تبدیل کر دیا جائے۔ خدمات پر جی ایس ٹی صوبوں کے دائرہ اختیار میں ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مالی معاملات طے کرنے کیلئے صوبوں کو اعتماد میں لینے کا وزیر خزانہ اسد عمر کا اقدام قابل تحسین ہے۔ اس وقت گردشی قرضے کا حجم 1643ارب روپے ہے۔ رابطہ کرنے پر فنانس ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پر بات کرنا اس مرحلے پر قبل از وقت ہو گا۔






Source link