8

پہلی پہلی مہربانی ۔۔۔۔۔۔ اور پھر یوں ہوا کہ فوج نے میاں شریف کے بیٹے محمد نواز شریف کے سر پر دست شفقت رکھ دیا ۔۔۔۔ ضیاء شاہد کی کتاب سے ایک ایسا انکشاف جو (ن) لیگیوں کو دن میں تارے دکھا دے


لاہور (ویب ڈیسک) نامور پاکستانی صحافی ، دانشور اور کالم نگار اپنی ایک کتاب “میرا دوست نواز شریف” میں رقمطراز ہیں ۔۔۔۔۔۔ ایک زمانے میں مشہور تھا کہ اتفاق فونڈری اینڈ ورکشاپ میاں شریف کی ملکیت ہے جن کے چھ بھائی تھے ۔ یہ کہ ان میں بڑا اتفاق ہے اس لیے فونڈری کا نام اتفاق ہے

اور انکے گھر بھی ماڈل ٹاؤن کی ایک ہی سڑک پر بنائے گئے کہ بھائیوں کی رہائش بھی ساتھ ساتھ ہے اور انکی محنت کو مشترکہ کوشش کے سبب اس فونڈری کو اتنا عروج ملا کہ بھٹو کا دور آیا تو کوٹ لکپت میں اتفاق فونڈری بہت بڑا کارخانہ تھا اور اسٹیل کے کاروبار میں یہ ادارہ سر فہرست شمار کیا جاتا تھا ۔ جن دنوں اتفاق فونڈری ریلوے کے پاس تھی تو معلوم نہیں سچ یا جھوٹ یہ خبریں عام تھیں کہ زیادہ تر لوہار ریلوے املاک کا لوہا چرا کر میاں شریف کی فونڈری کو بیچ دیتے تھے ریلوے ایک بڑا ادارہ تھا اور کرپشن کا ہمیشہ سے یہ عالم تھا کہ خود ہمارے کالج اور یونیورسٹی کے دور میں بے شمار ساتھی اصل میں ریلوے کے ملازم ہوتے تھے جو کبھی دفتر نہیں جاتے تھے تنخواہوں کا فکس حصہ متعلقہ افسر کو دیتے تھے اور مہینے بعد صرف اپنی تنخواہ لینے متعلقہ دفتر جا کر شکل دکھاتے تھے ۔ بھٹو نے جب کارخانے قومیائے تو بیکو کے ساتھ اتفاق کو بھی بحق سرکار ضبط کر لیا گیا غالبا ً میاں شریف صاحب کی فیملی جو بھٹو صاحب کے اس اقدام سے شدید طور پر متاثر ہوئی تھی بھٹو مخالفت ہی میں اصغر خان کی طرف مائل ہوئی جو بھٹو کے سب سے بڑے بہادر اور ووکل مخالف شمار ہوتے تھے میاں شریف کی رہائش گاہ شروع میں ریلوے روڈ کے علاقے میں تھی اور میاں شریف کی سماجی خدمات اور مخیر طرز عمل کے باعث اندرون شہر عوام میں وہ قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ، جنرل ضیاء الحق نے میاں شریف کا ادارہ اتفاق انہیں واپس کر دیا اور غالبا یہی واپسی وہ سبب بنی جس کے باعث میاں شریف کے بیٹے محمد نواز شریف کے سرپر فوج نے ہاتھ رکھ دیا ۔ (ش س م)






Source link