41

مسلم لیگ (ق) اور تحریک انصاف کے درمیان ناراضگی کے بعد ایک بار پھر رومانس اور نائب وزیراعظم مونس الٰہی ۔۔۔۔ایک دنگ کر ڈالنےو الی سیاسی پیشگوئی


لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کی سیاست کے رنگ ڈھنگ نرالے ہیں، یہاں جو بہتر ’’حکمت عملی‘‘ کا مظاہرہ کرنے کی اہلیت کا حامل، وہی مستفید بھی ہوتا ہے اور جسے اپنی اہمیت کا احساس ہو، سودا کاری بھی وہی بہتر کرتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) میں جو چھپن چھپائی کا کھیل ہو رہا تھا

نامور کالم نگار چوہدری خادم حسین اپنے ایک سیاسی تجزیے میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔وہ اختتام پذیر ہوگیا۔ اگرچہ معاملات پہلے ہی طے پا چکے تھے اور سب پر یہ عیاں تھا کہ بات بگڑ ہی نہیں سکتی اور جو پس پردہ ہے وہ پورا ہوگا اور اعلان بھی سامنے آ جائے گا۔ گذری اتوار کو وزیراعظم عمران خان تو دبئی گئے تھے، انہوں نے اپنے مشیر خاص (سیاسی امور) نعیم الحق کو لاہور روانہ کیا کہ چودھری برادران کے ہاں حاضری دیں۔ بات چیت پہلے ہو چکی تھی، صوبے میں ایک وزیر کا اضافہ بھی ہوگیا تھا۔ تاہم اتمام حجت باقی، سو وہ بھی پوری ہونا تھی جو ہوگئی۔ نعیم الحق نے چودھری شجاعت حسین اور مونس الٰہی سے مذاکرات کئے اور پھر میڈیا کے سامنے اعلان ہوگیا کہ سب ٹھیک ہے۔ یہ کسی دشمن نے اڑائی کہ مسلم لیگ (ق) الگ ہو جائے گی۔ نعیم الحق نے تو کہا سازشیوں کا خیال اور کوشش تھی کہ یہ الگ ہو جائیں، لیکن ہم نے تو اتحاد کو مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم ان کو ساتھ ملا اوراتحاد کو مضبوط بنا کر تبدیلی لائیں گے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وفاقی کابینہ میں توسیع ہوگی تو مطالبہ بھی پورا کر دیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مونس الٰہی کابینہ میں شریک ہوں گے۔ یار لوگ چودھری برادران کی حکمت عملی کی تعریف کرتے ہیں اور اب یہ کہہ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے دور میں نائب وزیراعظم کی بھی تو جگہ تھی؟ چودھری شجاعت حسین نے بھی اس موقع پر اتحاد برقراررکھنے کی تائید کی اور کہا ’’ہم سردار عثمان بزدار کے خلاف کسی سازش میں شریک نہیں ہوں گے‘‘۔(ش س م)






Source link