14

بڑے کام کا انکشاف :پنجاب اور بلوچستان میں عمران خان کو دراصل کون بلیک میل کر رہا ہے ؟ناقافل یقین نام سامنے آگیا


کراچی(ویب ڈیسک ) پاکستان کے سینئر صحافی و تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی غیرفعالیت کی وجہ سے فاٹا دوبارہ غیرمستحکم ہوتا نظر آرہا ہے۔ ایک طبقہ جھوٹ اور سچ کے ساتھ مظلومیت کا نعرہ لگائے لیکن اس بیانیہ کو سیاسی طور پر کاؤنٹر نہیں کیا جاتا تو وہ زور پکڑے گا۔


سی پیک میں سست روی نہیں آئی توجہ اکنامک زونز پر چلی گئی ہے۔عمران خان پنجاب اور بلوچستان میں بلیک میل ہورہے ہیں۔سعودی عرب کا آئل ریفائنری لگانا پاکستان کیلئے گیم چینجر ہوگا۔ وزیراعظم کو بیوروکریٹک اور وزراء کی ٹیم میں بڑی تبدیلیاں لانی ہوں گی۔جو شخص پنجاب بینک کا صدربننے جارہا ہے وہ پرویز الٰہی کا قریبی ہے۔ وفاقی وزراء کے ساتھ پنجاب کا وزیراعلیٰ بھی بدلنا ہوگا۔پی ٹی آئی حکومت میں صلاحیتوں اور اعتماد کا فقدان ہے۔حکومتی بنچوں سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ بننا روایت کے برخلاف ہوگا۔خارجہ پالیسی کا زیادہ بوجھ اسلام آباد کے بجائے راولپنڈی پر ہے۔پرویز الٰہی طاقتور ہیں تو عمران خان انہیں وزیراعلیٰ پنجاب بنادیں۔ کپتان کو کپتانی سنبھالنی پڑے گی پارٹ ٹائم کپتانی نہیں چلے گی۔ دفاعی تجزیہ کار امجد شعیب،سینئر صحافی محمد مالک اور کالم نگار مشرف زیدی نے ان خیالات کا اظہار نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے کیا۔دفاعی تجزیہ کار امجد شعیب نےکہا کہ عمران خان کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا مگر انہوں نے کوئی دعویٰ ہوم ورک کے بعد نہیں کیا ہے۔عمران خان نعروں سے باہر نکل کر زمینی حقائق کے مطابق کام کریں تو بہتر کارکردگی دکھاسکتے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کی غیرفعالیت کی وجہ سے فاٹا دوبارہ غیرمستحکم ہوتا نظر آرہا ہے۔


ایک طبقہ کچھ جھوٹ اور کچھ سچ کے ساتھ مظلومیت کا نعرہ لگائے لیکن کوئی اس بیانیہ کو سیاسی طور پر کاؤنٹر نہیں کرتا تو وہ زور پکڑتا جائے گا۔افغانستان میں امن عمل کو تباہ کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ فاٹا کو غیر مستحکم کردیا جائے۔ امجد شعیب کا کہنا تھا کہ حکومت نے ابھی تک پالیسیاں نہیں بتائیں جس کی وجہ سے پھنسی ہوئی ہے۔چھ مہینے ہوگئے مگر اداروں میں اصلاحات کا عمل شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔پاکستان کو امریکا کے ساتھ اکیلے افغان عمل میں نہیں جانا چاہئے تھا۔امن عمل میں خطے کے دیگر ممالک کو نظر انداز کرنا ہمارے لئے بڑا نقصان ہے۔خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتے تو ہمارے لیے امریکا کو سنبھالنا آسان ہوتا اور ڈومور سے بچے رہتے۔ افغانستان میں استحکام پاکستان کے ساتھ روس،ایران اور چین کی بھی خواہش ہے۔ افغان عمل میں ان ممالک کو بھی شامل کرنے پر زور دینا چاہئے تھا۔ امجد شعیب نے کہا کہ سی پیک میں سست روی نہیں آئی بلکہ توجہ انفراسٹرکچر سے ہٹ کر اکنامک زونز پر چلی گئی ہے۔ پاکستان نے ہوم ورک نہیں کیا تھا کہ کون سی صنعتیں اور کہاں لگوانی ہیں۔





Source link