43

کیا یہ ہے نیا پاکستان ؟ سعودی ولی عہد کے پاکستان آنے سے قبل ہی تبدیلی سرکارکا بڑا فراڈ ۔۔۔ ایسی ناکامی منظر عام پر آگئی کہ خود عمران خان بھی ہکا بکا رہ گئے


اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان میں اپوزیشن جماعتیں نئی حکومت کیلئے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہیں، اور اب بھی ایسا ہی ہوا ہے ، مسلم لیگ ن نے گوادر میں آئل ریفائنری کی تعمیر ناممکن قرار دے دی ، یہ وہی آئل ریفائنری ہے کہ جس پر سعودی عرب بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے ،

مسلم لیگ ن نے گوادر میں ایشیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کی تعمیر ناممکن قرار دے دی ، مفتاح اسماعیل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گوادر میں ریفائنری کی تعمیر مشکل نظر آتی ہے، ریفائنری تعمیر ہو بھی جائے تو گوادر میں ایسی کوئی پائپ لائن نہیں جس سے تیل سپلائی کیا جا سکے۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کرنے جا رہے ہیں، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 2 روزہ سرکاری دورے کے سلسلے میں 16 فروری کو اسلام آباد پہنچیں گے۔ پاکستان پہنچنے کے بعد سعودی ولی عہد پاکستان میں 20 سے 30 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کریں گے۔ ان معاہدوں میں سب سے بڑا معاہدہ گوادر میں آئل ریفائنری کی تعمیر کا ہوگا، یاد رہے کہ سعودی عرب نے 10 سے 12 ارب ڈالر کی لاگت سے گوادر میں ایشیا کی سب سے بڑی آئل ریفائنری تعمیر کرنے کا اعلان کر رکھا ہے، تاہم اس حوالے سے رہنما ن لیگ اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کچھ اور ہی کہنا ہے۔ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں کہ گوادر میں سعودی عرب کی جانب سے آئل ریفائنری کی تعمیر مشکل نظر آتی ہے،

انھوں نے کہا کہ آئل ریفائنری تعمیر ہو بھی جائے تو گوادر میں ایسی کوئی پائپ لائن نہیں جس سے تیل سپلائی کیا جا سکے۔ ملک بھر میں گوادر کی آئل ریفائنری سے تیل کی سپلائی کیلئے حکومت کو 700 کلومیٹر کی طویل نئی پائپ لائن بچھانا ہوگی، یہ پائپ لائن گوادر سے نوابشاہ تک تعمیر کرنا پڑے گی، اس پائپ لائن کی تعمیر کے بنا گوادر میں آئل ریفائنری کی تعمیر کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا،







Source link