14

یہ بھی سندھ ہے – ایکسپریس اردو

< !DOCTYPE html PUBLIC "-//W3C//DTD HTML 4.0 Transitional//EN" "http://www.w3.org/TR/REC-html40/loose.dtd">


www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

مجھے بدھ گیارہ اپریل کا پورا دن پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے ساتھ گزارنے کا موقع ملا‘ یہ اہتمام وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کیا تھا‘ شاہ صاحب نے مجھے فون کیا اور بلاول بھٹو کے ساتھ تھر جانے کی دعوت دی‘ میں انھیں انکار نہ کر سکا۔

میں کراچی پہنچا‘ہم وزیراعلیٰ کے ساتھ تھرپارکر کے شہر اسلام کوٹ کے نئے ائیر پورٹ پر اترے‘ یہ ائیرپورٹ سندھ گورنمنٹ نے تھرکول اور تھرپاور پلانٹ کے لیے بنایا ہے‘ تھر میں چین کے دو ہزار کارکن‘ انجینئر اور ڈیزائنر کام کر رہے ہیں‘ یہ لوگ کراچی اور سکھر سے بڑی مشکل سے تھر پہنچائے جاتے ہیں‘ سیکیورٹی کا خاص خیال بھی رکھنا پڑتا ہے اور ان کی آمدورفت پر ٹھیک ٹھاک سرمایہ اور وقت بھی برباد ہوتا ہے چنانچہ حکومت نے اسلام کوٹ میں ائیرپورٹ بنا دیا۔

اسلام کوٹ میں سردست صرف چارٹر فلائیٹس اترتی ہیں لیکن یہاں سے عنقریب شنگھائی کے لیے ڈائریکٹ فلائیٹ بھی شروع ہو جائے گی‘ یہ ائیرپورٹ صحرا کے عین درمیان میں ہے‘ رن وے پر اترتے اور اڑتے وقت دور دور تک آبادی کا نام و نشان نظر نہیں آتا‘ یہ اس لحاظ سے ایک منفرد ائیرپورٹ ہے‘ تھرکول کی سائیٹ یہاں سے 45 منٹ کے فاصلے پر ہے۔

بلاول بھٹو اپنے جہاز پر اسلام کوٹ اترے‘ ان کا بلیک ہیلی کاپٹر ان کے آنے سے پہلے وہاں پہنچ چکا تھا‘ ہم ان کے ساتھ 15 منٹ میں سائیٹ پر پہنچ گئے‘ ہمارے دائیں بائیں اور آگے پیچھے دور دور تک صحرا تھا‘ تھر پاکستان کا پست ترین علاقہ ہے‘ زمین نشیب میں ہے‘ یہ علاقہ صحرا ہونے کے باوجود صحرا نہیں لگتا‘ بارشوں کے موسم میں پورا علاقہ سبز ہو جاتا ہے‘ آبادیاں دور دور ہیں اور چھوٹے چھوٹے دیہات پر مشتمل ہیں‘ 60فیصد ہندو اور 40فیصد مسلمان ہیں۔

گرمیوں میں درجہ حرارت 45 ڈگری تک چلا جاتا ہے‘ پانی اور روزگار کی شدید کمی ہے‘ افلاس بھی ہے اور جہالت بھی‘ لوگ گٹکا کھاتے ہیں اور کچی شراب پیتے ہیں‘ سیکڑوں لوگ ہر سال اس عادت بد کا نشانہ بن جاتے ہیں لیکن آپ قدرت کا کمال دیکھئے‘ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو قدرتی کوئلے کی دولت سے مالا مال کر رکھا ہے‘ تھر میں کوئلے کا دنیا کا ساتواں بڑا ذخیرہ ہے‘ زمین میں 175 ارب ٹن کوئلہ ہے‘ یہ کوئلہ 9 ہزار مربع کلومیٹر تک پھیلا ہے۔

یہ دولت پورے ملک کا مقدر بدل سکتی ہے لیکن ہم نے آج تک اس ذخیرے کو استعمال نہیں کیا‘ سندھ حکومت نے 2009ء میں ایک بہت بڑا اینی شیٹو لیا‘ حکومت نے سندھ اینگرو کول مائن کمپنی کے نام سے ایک ادارہ بنایا‘ 54 فیصد حصہ اپنی طرف سے ڈالا‘ 46 فیصد شیئرز اینگرو‘ حبکو‘ حبیب تھل لمیٹڈ‘ چائنا پاور انٹرنیشنل‘ چائنا مشینری انجینئرنگ کمپنی‘ ایچ بی ایل اور لبرٹی کمپنی نے لے لیے اور پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ شروع ہو گئی۔

یہ پارٹنر شپ تین حصوں پر مشتمل تھی‘ انفرااسٹرکچر‘ کوئلہ نکالنا اور کوئلے کے پاور پلانٹ لگانا‘ انفرا اسٹرکچر سندھ حکومت کی ذمے داری تھی‘ حکومت نے سائیٹ کو سڑکوں‘ پانی کی لائین اور ائیر پورٹ سے جوڑ دیا‘ کوئلہ نکالنا حکومت اور پرائیویٹ کمپنیوں کی مشترکہ ذمے داری تھی اور پاور پلانٹ خالصتاً پرائیویٹ کمپنیوں کا کام تھا‘یہ دونوں ذمے داریاں دھڑا دھڑ تکمیل کی طرف بڑھ رہی ہیں‘ حکومت اور پرائیویٹ کمپنیاں زمین کھود کر 129 میٹر نیچے چلی گئی ہیں۔

کوئلہ اب صرف 12 میٹر دور رہ گیا ہے‘ کوئلے کی کان دراصل کان نہیں ہوتی‘ یہ ایک وسیع اسٹیڈیم ہوتی ہے‘ کان کن ایک کلو میٹر رقبے کی مٹی اٹھاتے جاتے ہیں‘ مٹی کے بند بناتے جاتے ہیں اور زمین کے اندر اترتے جاتے ہیں اور یوں آپ کے سامنے سطح زمین کے نیچے کلوژیم جیسا اسٹیڈیم بن جاتا ہے‘ اسٹیڈیم کے اندر باقاعدہ سڑکیں بنتی ہیں اور کوئلہ ٹرکوں پر لاد کر اوپر لایا جاتا ہے۔

ہم دوپہر کے وقت بلاول بھٹو کے ساتھ تھرکول کے بلاک ٹو میں اترے‘ بلاک ٹو پر دوہزار لوگ کام کر رہے ہیں‘ ہمیں بتایا گیا کوئلہ نکالنے کا 95 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے‘ پاور پلانٹ بھی تیاری کے آخری مراحل میں ہے‘سال کے آخر تک بجلی بننا شروع ہو جائے گی‘ ہم تھرکول کے بلاک پر پہنچے‘ یہ نظارہ واقعی حیران کن تھا‘ ہمارے سامنے اسٹیڈیم جیسی کان تھی اور وہ کان دل کو کھینچ رہی تھی‘ کان کے اندر بلڈوزر اور ٹرک چل رہے تھے‘ مٹی کی آخری پرت سرمئی محسوس ہو رہی تھی۔

یہ سرمئی رنگ ثابت کر رہا تھا کوئلہ اب زیادہ دور نہیں‘ ہم کان کے بعد پاور پلانٹ پہنچے‘ پلانٹ بھی دھڑا دھڑ تعمیر ہو رہا تھا‘ یہ دو ارب ڈالر مالیت کا پراجیکٹ ہے‘ تھر سے شروع میں 38لاکھ ٹن کوئلہ سالانہ نکلے گا‘ یہ مقدار بعد ازاں کروڑ ٹن تک پہنچ جائے گی‘ پہلا پاور پلانٹ 660 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا‘ کوئلے کی سپلائی کے ساتھ ساتھ پاورپلانٹس کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا اوریوں وہ وقت آ جائے گا جب تھر پورے ملک کو بجلی فراہم کرے گا۔

کمپنی کے سربراہان کا کہنا تھا یہ کام اگر اسی رفتار سے جاری رہا تو تھر پانچ برسوں میں دس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے قابل ہو جائے گا‘ یہ کام اور تخمینے دونوں حیران کن بھی تھے اور قابل تقلید بھی‘ یہ منصوبہ خالصتاً پاکستانی کوئلے سے مکمل ہو گا چنانچہ بجلی کی فی یونٹ کاسٹ بہت کم ہو گی‘ سندھ حکومت اس منصوبے پر خاموشی سے کام کرتی رہی۔

میڈیا میں اس کا زیادہ ذکر نہیں ہوا چنانچہ میں تھرکول کے بارے میں زیادہ واقفیت نہیں رکھتا تھا‘ میں نے جب اپنی آنکھوں سے دیکھاتو میں واقعی متاثر ہوگیا‘ تھرکول پراجیکٹ بڑی تیزی سے علاقے کی ہیت اور مزاج بھی تبدیل کر رہا ہے‘ پراجیکٹ میں لوکل لوگوں کو ملازمتیں اور ٹریننگ مل رہی ہے‘ مٹی اٹھانے کا کام 80 ٹرک کرتے ہیں‘ یہ تمام ٹرک تھری عورتیں چلاتی ہیں۔

ہم نے اپنی آنکھوں سے مقامی عورتوں کو ٹرک چلاتے دیکھا‘ کوئلے کی کان سے نمکین پانی نکلتا ہے‘ یہ پانی کاشتکاری کے لیے مناسب ہوتا ہے‘ نمکین پانی سے ہونے والی کاشتکاری ’’بائیو سیلائن ایگریکلچر‘‘ کہلاتی ہے‘ تھر میں یہ کاشتکاری بھی شروع ہو چکی ہے‘ پراجیکٹ کے لوگ اپنی اگائی ہوئی سبزیاں کھاتے ہیں‘ کمپنی علاقے میں اسکول اور اسپتال بھی بنا رہی ہے اور یہ مقامی لوگوںکے لیے سستے گھر بھی تعمیر کر رہی ہے۔

یہ مقامی لوگوں کو ٹرینڈ بھی کر ر ہے ہیں‘ یہ لوگ علاقے میں نئی معاشرتی روایات بھی متعارف کرا رہے ہیں اور یہ طالب علموں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف بھی دے رہے ہیں‘ کمپنی کے سربراہان بار بار وزیراعلیٰ سے درخواست کر رہے تھے‘ ہمیں یہ فیصلہ کر لینا چاہیے حکومت مستقبل میں منافع کا دو سے پانچ فیصد علاقے کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے گی‘ وزیراعلیٰ نے حامی بھر لی لیکن یہ کام صوبائی اور وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر ممکن نہیں ہو سکے گا۔

تھر کے لوگ بھی پراجیکٹ پر بہت خوش تھے‘ یہ کبھی ملک کا پسماندہ ترین علاقہ ہوتا تھا‘ تھر کا قحط‘ خوراک کی کمی اور خراب لاء اینڈ آرڈر یہ کبھی پورے ملک میں محاورے کی حیثیت رکھتا تھا لیکن یہ محاورہ اب بدلتا ہوا نظر آ رہا ہے‘ تھر سڑکوں کے ذریعے ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جڑ چکا ہے۔

یہ علاقے جہاں سال پہلے تک فور بائی فور جیپ کے بغیر پہنچنا ممکن نہیں تھا اور جہاں لوگ دس دس گھنٹے کے مسلسل سفر کے بعد پہنچ پاتے تھے وہاں لوگ اب تین ساڑھے تین گھنٹے میں عام کار پر پہنچ جاتے ہیں‘ بچے اسکول بھی جا رہے ہیں اور مریضوںکا علاج بھی ہو رہا ہے‘ مجھے یقین ہے یہ پراجیکٹ مکمل ہو گیا تو علاقے میں روزگار کی کمی بھی نہیں رہے گی ۔

حکومت اور کمپنی علاقے میں صاف پانی کے ’’آراو پلانٹس‘‘ بھی لگا رہی ہے‘ ملک کی درجنوں این جی اوز اور اہل خیر بھی علاقے میں میٹھے پانی کے کنوئیں کھدوا رہے ہیں‘ ملک ریاض نے بھی تھر میں شمسی توانائی کے درجنوں ٹیوب ویل لگا دیے ہیں اورتھر کا لاء اینڈ آرڈر بھی ٹھیک ہو رہا ہے گویا پورا علاقہ تبدیل ہو رہا ہے۔

ہم شام تک تھر میں گھومتے رہے‘ پراجیکٹ کی سائیٹ پر پورا شہر آبادتھا‘ تھرکول بلاک ٹو میں چارہزار لوگ رہائش پذیر ہیں‘ یہ لوگ خاندانوں کے بغیر رہ رہے ہیں‘ یہ چودہ دن ڈیوٹی دیتے ہیں اور ایک ہفتہ چھٹی کرتے ہیں‘ اپریل کے دوسرے ہفتے میں درجہ حرارت چالیس ڈگری سینٹی گریڈ تھا لیکن یہ لوگ اس کے باوجود کام کر رہے تھے‘سیکیورٹی بہت ٹائیٹ تھی‘ فوج بھی تھی اور کمپنیوں کی ذاتی سیکیورٹی بھی‘ وائرلیس سسٹم بھی بہت مضبوط تھا تاہم موبائل فون کے سگنل نہیں تھے۔

تھر میں بہت کم جگہوں پر موبائل فون کام کرتے ہیں‘ علاقے کے لوگ بھیڑ بکریاں پال کر گزارہ کرتے ہیں‘ ہمیں علاقے میں بھیڑ بکریاں بھی نظر آئیں اور جنگلی موروں کے جھنڈ بھی‘ یہ مور‘ خواتین کے رنگین کپڑے اور کندھے تک سفید چوڑیاں تھر کی خاص پہچان ہیں‘ ہم نے یہ پہچان جگہ جگہ دیکھی۔

ملک میں سندھ اور پاکستان پیپلز پارٹی بیڈگورننس اور کراچی کے کچرے کی وجہ سے بہت بدنام ہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے سندھ حکومت نے تھر میں واقعی کمال کر دیا‘ ہمیں وہاں جا کر محسوس ہوا تھرکول پراجیکٹ پنجاب حکومت کی میٹروز سے بڑا اور کارآمد منصوبہ ہے‘ یہ منصوبہ اگر کامیاب ہو گیا تو یہ میاں نواز شریف کی موٹروے اور میاں شہباز شریف کی میٹروز کو بہت پیچھے چھوڑ دے گا‘ یہ مستقبل میں پاکستان پیپلز پارٹی کی پہچان بن جائے گا۔

میرا خیال ہے ہم اگر کراچی کے کچرے کے ساتھ ساتھ تھر کو بھی دیکھ لیں تو ہمیں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت اتنی بری نہیں لگے گی جتنی یہ میڈیا میں نظر آتی ہے‘ مجھے یقین ہے اگر میاں نواز شریف اور عمران خان ایک بار تھر کا چکر لگا لیں تو یہ بھی یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے ’’یہ بھی ایک سندھ ہے اور یہ سندھ پنجاب سے بہتر ہے‘‘ میرا مشورہ ہے عمران خان اور میاں نواز شریف کو ایک بار تھر ضرور جانا چاہیے‘ یہ دورہ ان کا پرسپشن بدل دے گا۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں