12

ایک اور محاذ کھل گیا۔۔۔!!! حکومت کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا


اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) ڈپٹی اسپیکرکیخلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد کانوٹس اپوزیشن نے سیکرٹری قومی اسمبلی کوجمع کرادیا۔ جمعہ کو نوٹس مرتضیٰ جاوید عباسی اورمحسن شاہنواز رانجھا نے جمع کرایا،ڈپٹی اسپیکرکیخلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس آرٹیکل 53 کی شق 7 کے پیرا ج کے تحت جمع کرایا گیا۔نوٹس میں ڈپٹی اسپیکرکے خلاف


آئین اور قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں،مختلف مواقع پر ڈپٹی اسپیکرکی طرف سے آئین اور قواعد کی خلاف ورزیوں کے حوالہ جات دئیے گئے ہیں،نوٹس کے 7 دن بعد قرارداد کو کارروائی کیلئے قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل کردیا جائیگا۔قراردا دمیں کہاگیاکہ ڈپٹی اسپیکر ارکان کا اعتمادکھو چکے ہیں، ڈپٹی اسپیکرنے قواعد کیخلاف ورزی کی ہے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بھی وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ حکومت پر الزام نہیں آنا چاہیے کہ وہ نوازشریف کا علاج کروانے میں رکاوٹ ہے۔وزارت کو چاہیے کہ قانون اورانسانی ہمدردی کی بنیاد پر نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ کرے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے درخواست ملی ہے۔وزارت داخلہ اپنی سفارش مجاز اتھارٹی کے سامنے رکھے گی۔ وزارت داخلہ نے یہ معاملہ نیب کو ریفرکیا ہے، شریف فیملی نے ای سی ایل سے نام نکالنے کیلئے نیب کو بھی درخواست دی ہے۔وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ درخواست کی حساس نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری اقدامات بروقت لیے۔ یہ رپورٹ میڈیکل بورڈ سے ان کا مئوقف حاصل کرنے کیلئے دی گئی ہے۔ شریف میڈیکل سٹی لاہورسے نواز شریف کی صحت کی رپورٹ طلب کی گئی۔ دوسری جانب ذرائع شریف فیملی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف اتوار کو قومی ایئرلائن پر لندن جائیں گے۔نوازشریف کے ہمراہ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف اور جنید صفدر بھی جائیں گے۔ ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ شریف فیملی کی جانب سے لندن میں 2 ڈاکٹروں سے رابطہ کیا گیا ہے۔ ہارلے اسٹریٹ کلینک میں سوموار کیلئے اپوائٹمنٹ لیا گیا ہے۔ اسی طرح شریف فیملی کی نیویارک میں بھی ڈاکٹرز سے بات ہورہی ہے۔ مزید برآں سابق وزیر اعظم نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے ایک بار پھر ان کی طبیعت کو تشویشناک قرار دیدیا۔ڈاکٹر عدنان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ سابق وزیر اعظم کے پلیٹس لٹس علاج کے باوجود مستحکم نہیں ہو رہے، پلیٹس لٹس مستحکم کرنے کیلئے دی جانے والی تھراپی بھی موثر ثابت نہیں ہو رہی۔ نوازشریف کے پلیٹ لیٹس کی تشخیص نہ ہونے سے مسائل بڑھتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کو صحت کی صورتحال کے پیش نظر سپیشلائزڈ کیئر اور جدید علاج کی ضرورت ہے۔









Source link