20

اسلام میں چار شادیوں کی اجازت مگر حضرت فاطمہؓ کی زندگی میں جب علی کرم اللہ وجہہ نے دوسری شادی کرنی چاہی تو رسول اللہؐ نے آپؓ کو کیوں روک دیا؟ پڑھیے حضرت علیؓ اور ابو جہل کی بیٹی سے شادی کی ایمان افروز تحریر


فتح مکہ کے بعد جب ابوجہل کا خاندان مسلمان ہوگیا تو حضرت علیؓ نے اس کی بیٹی سے (جس کا نام کسی نے جویریہ، کسی نے غوراء اور کسی نے جمیلہ بیان کیا ہے) نکاح کرنا چاہا۔ لڑکی کے خاندان والوں نے کہا کہ ہم رسول اللہﷺ کی بیٹی پر بیٹی نہیں


دیں گے، جب تک آپؐ سے پرچھ نہ لیں۔ چنانچہ انہوں نے اس کا ذکر حضورﷺ سے کیا۔ ایک روایت کی رو سے خود حضرت علیؓ نے بھی اشارۃً حضورﷺ سے اجازت طلب کی اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہؓ نے بھی ان باتوں کا چرچہ سن لیا اور جا کر اپنے والد ماجد کی خدمت میں عرض کیا کہ ’’ آپؐ کی قوم کے لوگ سمجھتے ہیں کہ آپؐ کو اپنی بیٹیوں کی پرواہ نہیں ہے۔ دیکھیے، یہ علی اب ابوجہل کی بیٹی سے شادی کرنے والے ہیں‘‘ ۔ اس پر حضورﷺ نے ایک خطبہ میں فرمایا:ان بنی ھشام بن المغیرۃ استأذنونی ان ینکحوا ابنتھم علی بن ابی طالب فلا اٰذن ثم لا اٰذن ثم لا اٰذن الا ان یرید ابن ابی طالب ان یطلق ابنتی وینکح ابنتھم فانما ھی بضعۃ منی یریبنی مارابھا ویو ذینی ما اذاھا۔’’بنی ہشام بن مغیرہ نے مجھ سے اس بات کی اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی علی ابن ابو طالب کے نکاح میں دیں۔ میں اس کی اجازت نہیں دیتا، نہیں دیتا، نہیں دیتا الا یہ کہ ابو طالب کا بیٹا میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے نکاح کرلے۔ میری بیٹی میرا ٹکڑا ہے۔ جو کچھ اسے ناگوار ہوگا، وہ مجھے ناگوار ہوگا، اور جو چیز اسے تکلیف دے گی، وہ مجھے تکلیف دے گی‘‘۔وانی لست احرم حلالا ولا احل حراما ولٰکن واللہ لا تجتمع بنت رسول اللہ وبنت عدو اللہ ابداً’’میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہیں کرتا مگر خدا کی قسم اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے رسول کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتی‘‘۔(وفی روایۃ) ان فاطمۃ منی وانا اتخوف ان تفتن فی دینھا۔(ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا) ’’فاطمہ مجھ سے ہے اور میں ڈرتا ہوں کہ وہ کہیں اپنے دین کے معاملہ میں فتنہ میں نہ پڑجائے ‘‘۔امام زین العابدین علی بن حسینؓ اور ابو مُلَیکہ نے حضرت مِسُوَر بن مخرمہ سے روایت ہے اور اس کی تائید حضرت عبداللہ بن زبیر کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے۔ نیز ابو حنظلہ اور سوید بن غفلہ کی مرسل روایات بھی اس کی موید ہیں۔ امام بخاریؒ نے کتاب فرض الخمس، کتاب فضائل اصحاب النبیﷺ اور کتاب النکاح میں، مسلم نے کتاب فضائل الصحابہ میں، ابوداؤد نے کتاب النکاح میں، ابن ماجہ نے بھی کتاب النکاح میں، ترمذی نے کتاب المناقب میں اور حاکم نے کتاب معرفتہ الصحابہ میں متعدد سندوں سے ان روایات کو نقل کیا ہے۔









Source link