10

حالات تنگ ہیں تو یہی کام کر سکتا ہوں اب ۔۔ ۔۔ معروف پاکستانی کرکٹر ٹیکسی ڈرائیور بن گیا ، نام جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی


کراچی(ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ سے ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کا کردار ختم ہونے کے بعد ڈیپارٹمنٹس کی ٹیموں کے کھلاڑی مسلسل بیروزگار ہور ہے ہیں، بعض کھلاڑی معاشی مسائل میں گھر گئے ، کئی اداروں نے کھلاڑیوں کو ملازمتوں سے فارغ کردیا جنہوں نے متبادل روزگار کی تلاش شروع کردی ہے۔انہی کھلاڑیوںمیں ایک فضل سبحان تھے


جو حبیب بینک سے وابستہ تھے اور ماہانہ ایک روپے کما رہے تھے تاہم ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ختم ہونے کے بعد وہ بھی دیگر کرکٹرز کی طرح اپنے گھر کا چولہا جلانے اور دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے کرائے کی سوزوکی پک اپ چلانے پر مجبور ہے۔31سالہ فضل سبحان کاکہنا تھا کہ ڈیپارٹمنٹل کرکٹ میں انہیں اچھی تنخواہ مل رہی تھی جس میں اچھا گزارہ ہورہا تھا تاہم اب وہ30،35ہزار روپے ماہانہ کے لیے سوزوکی چلانے پر مجبور ہیں اور یہ بھی نہیں معلوم کہ کل یہ بھی نہ ملی تو کیا ہوگا،ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان انڈر 19اور اے ٹیموں کی نمائندگی کرچکے ہیں اور بھارت کے خلاف لاہور میں میچز بھی کھیلے ہوئے ہیں ،وہ اب تک40فرسٹ کلا س،29لسٹ اے اور6ٹونٹی ٹونٹی میچز کھیل چکے ہیں ۔یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سال قائد اعظم ٹرافی میں چھ ٹیموں کو شامل کیا ہے جبکہ پاکستان کرکٹ سے ڈپارٹمنٹس کا کردار عملی ختم کردیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈیپارٹمنٹل ٹیمیں بند ہونے سے مزید کھلاڑی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔









Source link