16

جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی میں صلح ہوگئی | پاکستان


جہانگیر ترین اور  شاہ محمود قریشی کے درمیان اختلافات کی خبریں کافی عرصے سے سامنے آرہی تھیں—فوٹو:فائل

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی سے اختلافات ختم ہوگئے اب کوئی مسئلہ بیچ میں نہیں آئے گا۔

لودھراں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ اب ہم دونوں مل کر پاکستان تحریک انصاف کیلئے کام کریں گے۔

جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ حج پر جانے سے پہلے شاہ محمود قریشی سے ملاقات ہوئی تھی جہاں ہم دونوں گلے ملے۔

اُن کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی اور میرا دل اب مکمل طور پر صاف ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما جہانگیر ترین اور پارٹی کے نائب صدر اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے درمیان اختلافات کی خبریں کافی عرصے سے سامنے آرہی تھیں۔

سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی درخواست پر 15 دسمبر 2017 کو فیصلہ سناتے ہوئے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت جہانگیر ترین کو اسمبلی کی رکنیت  اور کسی بھی سرکاری  اور  پارٹی عہدے کیلئے نااہل قرار دیا تھا۔

نااہلی کا فیصلہ آنے کے بعد بھی جہانگیر ترین کابینہ اجلاسوں میں شریک ہوتے رہے تھے جس پر اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید کی جارہی تھی۔

پارٹی کے نائب صدر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سرکاری اجلاسوں میں بیٹھنے پر (ن) لیگ کو بولنے کا موقع ملتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین پی ٹی آئی کے مخالفین کو موقع دے رہے ہیں اور کارکن ذہنی طور پر اسے قبول نہیں کر پا رہے جب کہ (ن) لیگ سوال اٹھاتی ہے کہ یہ توہین عدالت نہیں تو اور کیا ہے۔

بعد ازاں وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس میں پارٹی کے چیئرمین اور وزیراعظم عمران خان نے شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے تنازع میں کابینہ ارکان کو بیان بازی سے روک دیا تھا۔

کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران اس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعات فوادچوہدری کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین اور شاہ محمودقریشی کے معاملے پر وزیراعظم نے ناپسندیدگی کا اظہار کیاہے، وزیراعظم نے کہاہےکہ پارٹی کے اندرونی معاملات باہر ڈسکس نہیں ہونی چاہئیں۔

اس سے قبل عام انتخابات 2018 کیلئے ٹکٹوں کی تقسیم اور انتخابات میں کامیابی کے بعد وزارتوں کی تقسیم کے معاملے پر بھی تحریک انصاف کے دونوں رہنما کھل کر آمنے سامنے آئے تھے۔





Source link