34

حکومتی خزانہ خالی۔۔۔ حکومت نے حج پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کا اعلان کر دیا


اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) وزیر برائے مذہبی امور پیر انوار الحق نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ خزانہ خالی ہوچکا ہے، حج پر سبسڈی کس طرح دیں؟ اس سال حج کے انتظامات پچھلے سالوں کی نسبت اچھے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹ کی قائئمہ کمیٹی برائے مذہبی


امور کا اجلاس منعقد کیا گیا، اس اجلاس میں رواں برس اور آنے والے سالوں کے حوالے سے پاکستانی عازمین کے لیے حج کے دوران کیے جانے والے امور کا بغور جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس کے دوران سسیکرٹری وزات مذہبی امور نے کمیٹی کو بریف کرتے ہوئے بتایا کہ ملائیشیا کے ماڈل پر حج فنڈز کا قیام زیر غور تو ہے لیکن ایک سال تک پیسہ تاخیر سے آتا ہے، جسکی وجہ سے سعودی عرب میں انتظامات مہنگے کرنا پڑ تے ہیں لیکن اب وزارت مزہبی امور کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ 3 سالوں کے لیے حج پالیسی بنائی جائے، اس پالیسی کا فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے عمارتوں کے ساتھ معاہدے سستے بھی ہونگے اور اچھے بھی ۔ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے مذہبی امور قاری پیر انوار الحق قادری نے بتایا کہ مسلسل حج کرنے کی بنیاد پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ روان برس حج کے انتظامات پچھلے سالوں کی نسبت بہت بہتر تھے، لیکن اب حکومتی خزانہ خالی ہے حج پر مزید سبسڈی نہیں دی جا سکتی ۔ اجلاس میں کمیٹی کی جانب سے حج دو ہزار انیس کے انتظامات کے حوالے سے سینیٹر حافظ عبدلکریم کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی، جس کے ارکان میں سینیٹر منظور احمد اور سینیٹر کرشان کماری شامل ہیں، یہ ذیلی کمیٹی سفارشات مرتب کرنے کے بعد اعلیٰ کمیٹی کو رپورٹ پیش کرے گی ، اس کے بعد آئندہ 3 سالہ پالیسی کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا ۔









Source link