16

پاکستانی روپے نے ڈالر کو پچھاڑ کر رکھ دیا ۔۔۔ ایک ہی دن میں ڈالر کتنا سستا ہو گیا ؟ جانیے


کراچی (ویب ڈیسک) آج کاروبار کے اختتام پر انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی ہے تاہم اوپن مارکیٹ میں ڈالر مستحکم رہا تفصیلات کے مطابق انٹر بینک میں کاروبار کے اختتام پر ڈال کی قدر میں 13 پیسے کمی ہوئی جس کے بعد ڈالر 156 روپے 32 پیسے پر بند ہو گیاہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں


ڈالر 156 روپے 60 پیسے پر فروخت ہو رہاہے ۔دوسری جانب سٹا ک مارکیٹ میں بھی آج مستحکم ہی نظام رہا یعنی نہ تو زیادہ چڑھاﺅ دیکھنے میں آیا اور نہ ہی مارکیٹ گراوٹ کا شکار ہوئی ۔ سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز ہوا تو 100 انڈیکس 33 ہزار 476 پوائنٹس کی سطح پر تھا تاہم کاروبار کے اختتام پر اس میں 47 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور انڈیکس 33 ہزار 523 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیاہے ۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستانیوں نے تیل کی بڑھتی قیمتوں کا توڑ نکال لیا ، بغیر پٹرول کے چلنے والی موٹر سائیکل ایجاد کر لی ہے اس موٹر سائیکل میں دیکھنے میں کوئی خاص فرق نہیں اس کا ڈیزائن اور فیچر سب کچھ روایتی ہے مگر اس کا انجن مختلف ہے اس میں پٹرول نہیں ڈلتا بلکہ یہ مکمل طور پر بجلی پر چلتی ہے اس بائیک ک ے ریچارج پر ماہانہ 500 روپے کا خرچہ آتا ہے جو کہ پٹرول سے کہیں سستا ہے اور ماحول دوست بھی ہے اس کے علاوہ ساہیوال کے لوگوں نے الیکٹرک کٹ بھی متعارف کروا دی ہے جو کہ محض 5500 روپے میں مہیا کی جا رہی ہے ، اس موٹر سائیکل کی قیمت کے بارے ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا ، لیکن یہ پاکستان کا مستقبل سمجھی جا رہی ہے ، پاکستان میں الیکٹرک وہیکل پالیسیتحریک انصاف کی حکومت نے رواں سال پاکستان کی الیکٹرک وہیکل پالیسی متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا جس پر وزارت ماحولیات اور وزارت صنعت و پیداوار کام کر رہے ہیں۔موسمیاتی تبدیلی پر وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیر ملک امین اسلم نے کہا تھا کہ سنہ 2030 تک پاکستان میں 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی جبکہ وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ الیکٹرک وہیکل پالیسی کو موجودہ آٹو پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا۔پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بنانے میں دلچسپی لینے والے اسمبلرز حکومت کی پالیسی کے منتظر ہیں اور اس سلسلے میں کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکسوں میں ابتدائی ریلیف چاہتے ہیں۔چوہدری زاہد کے مطابق ’جب کسی چیز کو سہولت دینی ہو یا اسے آگے لے کر آنا ہو تو پھر اس کے لیے حکومتی تعاون بھی ضروری ہوتا ہے۔‘









Source link