11

لیتھیئم آئن بیٹری بناکر انقلاب لانے والوں کیلئے کیمیاء کا نوبیل انعام | دنیا


تینوں ماہرین کو لیتھیئم آئن بیٹری کی تیاری پر دیا گیا اور اِس ایجاد نے انسانی زندگیوں میں انقلاب برپا کردیا ہے: نوبیل انعام کمیٹی — فوٹو: نوبیل پرائز آفیشل 

 کیمیاء (کیمسٹری) کا نوبیل انعام برائے 2019 مشترکہ طور پر تین سائنسدانوں کو دیا گیا۔

اسٹاک ہوم میں دی رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسس نے 2019 کا نوبیل انعام برائے کیمیاء کا اعلان کیا۔

نوبیل انعام مشترکہ طور پر امریکا کے جون بی گڈانف، برطانیہ کے ایم اسٹینلے اور جاپانی ماہر اکیرا یوشینو کو دیا گیا۔ یہ انعام ماہرین کو لیتھیئم آئن بیٹری کی تیاری پر دیا گیا۔

نوبیل کمیٹی کے مطابق لیتھیئم بیٹری انسانی زندگیوں میں انقلاب لاچکی ہے،  اب یہ بیٹریاں موبائل فون،  لیپ ٹاپ اور بجلی سے چلنے والی گاڑیوں میں استعمال کی جارہی ہیں۔

اس اعلان کے بعد جون بی گڈانف نوبیل انعام حاصل کرنے والے عمر رسیدہ سائنسدان بن گئے ہیں۔ جرمنی میں پیدا ہونے والے امریکی سائنسدان کی عمر 97 برس ہے اور وہ اس عمر میں بھی امریکا کی یونیورسٹی آف ٹیکساس میں مکینیکل انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ ہیں۔

نوبیل انعام حاصل کرنے والے تینوں سائنسدانوں کو 90 لاکھ سوئیڈش کرونا دیے جائیں گے جو کہ پاکستانی روپوں میں 14 کروڑ 19 لاکھ روپے سے زائد کی رقم بنتی ہے جبکہ یہ انعامی رقم تینوں میں مساوی تقسیم کی جائے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز طبیعیات کا نوبیل انعام برائے 2019 مشترکہ طور پر 3 سائنسدانوں کو دیا گیا۔ جیتنے والوں میں ایک 84 سالہ کینیڈین نژاد امریکی سائنسدان جیمز پیبلز اور سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے دو سائنسدانوں 77 سالہ مائیکل میئر اور 53 سالہ دیدیئر کوئلو نے جیتا۔

سال 2019 کیلئے طب کا نوبیل انعام بھی مشترکہ طور پر 2 امریکیوں ولیم کیلن ، گریگ سمینزا اور ایک برطانوی سائنسدان سر پیٹر ریٹ کلف کو دیا گیا۔





Source link