18

جنوبی افریقا کا ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ | کھیل


سنچوریں: جنوبی افریقا نے تیسرے اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ میں ٹاس جیت پر بولنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ 

جنوبی افریقا کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز کے بعد پاکستان ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی وائٹ واش کا سامنا ہے، سیریز میں میزبان ٹیم کو 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔

کپتان سرفراز احمد کی وطن واپسی کے بعد شعیب ملک کیلئے مشکل آزمائش ہے۔ جنوبی افریقی ٹیم نے پاکستان کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016 کے بعد کسی بھی سیریز میں ناقابل شکست رہنے کے سلسلے کو بھی توڑ دیا۔

اس شکست کے ساتھ ہی پاکستان کی مسلسل 9 جبکہ ہدف کے تعاقب میں مسلسل 11 فتوحات کا سلسلہ بھی ٹوٹ گیا۔ جنوبی افریقا اور پاکستان کے درمیان تیسرا اور آخری ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل بدھ کو سپراسپورٹ پارک سنچورین میں ہورہا ہے۔میچ رات نو بجے شروع ہوگا۔

وائٹ واش سے بچنے کیلئے پاکستان ٹیم کو میچ میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔ سنچورین میں پاکستان نے2013 میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں جنوبی افریقا کو95 رنز سے شکست دی تھی۔ سنچورین میں جنوبی افریقا نے 7 ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے ہیں جن میں سے 4 جیتے اور تین میں اسے شکست ہوئی۔

جنوبی افریقا نے دورے میں پاکستان ٹیم کو تینوں فارمیٹس میں شکست دی ہے۔ ٹیسٹ سیریز میں میزبان ٹیم 0-3 سے فاتح رہی۔ ون ڈے سیریز میں پاکستان نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن جنوبی افریقا 2-3 سے کامیاب رہا۔

شعیب ملک کی کپتانی میں ٹی ٹوئنٹی سیریز میں جوہانسبرگ میں جنوبی افریقا نے پاکستان کو دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد 7 رنز سے شکست دے دی۔ پہلے ٹی ٹوئنٹی میں جنوبی افریقا نے پاکستان کو 6 رنز سے ہرایا تھا۔

3 ٹیسٹ میچوں میں وائٹ واش کے بعد پانچ میں سے صرف دو ایک روزہ میچوں میں کامیابی، کپتان سرفراز پر چار میچوں کی پابندی کے بعد ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سریز میں بھی شکست۔ ناکامی کی یہ داستان پاکستان میں شائقین کرکٹ کیلئے یقیناً کافی تکلیف دہ ثابت ہو گی۔

پاکستانی بولنگ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں نسبتاً کمزور جنوبی افریقی ٹیم کے خلاف مکمل بے بس دکھائی دی۔ سنچورین میچ کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کا دوماہ طویل دورہ بھی ختم ہوجائے گا۔

بابر اعظم نے دوسرے میچ میں غیرمعمولی اننگز کھیلی لیکن وہ میچ کو فنش نہ کرسکے۔ بابر نے 13 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 58 گیندوں پر 90 جبکہ حسن طلعت نے سات چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 55 رنز کی اننگز کھیلی۔

بابر نے اپنی اننگز کے دوران چار مرتبہ چوکوں کی ہیٹ ٹرک کی یعنی ایک اوور میں لگاتار تین چوکے لگائے۔ حسین طلعت نے بھی دونوں میچوں میں اچھی بیٹنگ کی لیکن وہ بھی ٹیم کو فتح سے ہمکنار نہ کراسکے۔

پاکستانی بولنگ کی خراب کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ میچ فاسٹ بولر عثمان خان شنواری کیلئے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا جن کے ایک اوور میں 29 رنز پڑے اور انہوں نے اپنے اسپیل میں 63 رنز دیے۔

اس سے قبل یہ بدترین ریکارڈ فہیم اشرف کے پاس تھا جنہوں نے گزشتہ سال نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے 4 اوور میں 55 رنز دیے تھے۔

خیال رہے کہ پاکستان ٹی ٹوئںٹی رینکنگ میں 134 ریٹنگ پوائنٹس کے ساتھ پہلی پوزیشن پر ہے۔ جنوبی افریقا کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں وائٹ واش کی صورت میں بھی اس کی پہلی پوزیشن پر کوئی فرق نہیں پڑے گا البتہ اسے ایک ریٹنگ پوائنٹ سے محروم ہونا پڑے گا۔





Source link