42

گیس کی قیمت میں 10 فیصدسے 143 فیصد تک کااضافہ کیا گیا ہے،حکومت نے بڑا اعتراف کرلیا


اسلام آباد (این این آئی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کو وزارت پٹرولیم ڈویژن کی طر ف سے بتایا گیا ہے کہ گیس بلوں میں اضافے کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، صارفین کوبلوں کی چار اقساط کرانے کی سہولت دی گئی ہے، صارفین کے پہلے سلیب کیلئے گیس کی قیمت میں 10 فیصد، دوسرے کیلئے 15 فیصد، تیسرے کیلئے 20 ،چوتھے کیلئے 25 فیصد، پانچویں کیلئے 30 فیصد اور چھٹے اور ساتویں سلیپ کیلئے 143 فیصد تک کااضافہ کیا گیا ہے،ایل پی جی کی غیر قانونی فروخت بند کرانے کیلئے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اختیار دیدیا ہے،حکومت

صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ٹیکسوں میں کمی کرتی رہتی ہے، گیس کی فراہمی بارے ہماری پہلی ترجیح گھریلو و کمرشل صارفین ہیں۔بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس کمیٹی چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ اجلاس میں سینیٹر سکندر میندرو، سیمی ایزدی، ڈاکٹر اشوک کمار، ڈاکٹر اسد اشرف، محمد اکرم، سینیٹر نجمہ حمید، ستارہ ایاز اور دیگر ارکان کے علاوہ وزارت پٹرولیم، اوگرا، ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کے افسران نے شرکت کی۔ چیئرپرسن اوگرا عظمیٰ عادل نے کمیٹی کو اوگرا کے امور پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گیس چوری، زائد بلوں اور دیگر معاملات کے حوالے سے اوگرا شکایات وصول کرتا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ ہم نے حکومت کوسفارش کی تھی کہ گیس کی فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت کم از کم 620 سے 630 روپے ہونی چاہیے اور گیس کا 50 فیصد پہلے سلیب کے صارفین سے وصول کرناچاہیے جبکہ دوسرے اور تیسرے سلیب کے لئے بھی ہم نے اضافہ تجویز کیا تھا۔ حکومت نے پہلے سلیب کے لئے 10فیصد، دوسرے 15 فیصد، تیسرے کے لئے 20 فیصد، چوتھے کے لئے 25 فیصد ، پانچویں کے لئے 30 فیصد اور چھٹے اور ساتویں کے لئے 143 فیصد کااضافہ کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ ایل پی جی کی غیر قانونی فروخت بند کرائیں۔ انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت پٹرول پر 14روپے ، مٹی کے تیل پر 6 روپے، ڈیزل پر 18 روپے اور ہائی آکٹین پر 14 روپے فی لیٹر پر پٹرولیم لیوی وصول کی جارہی ہے جبکہ سیلز ٹیکس 17 فیصد ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے ٹیکسوں میں کمی کرتی رہتی ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری پٹرولیم نے کمیٹی کو بتایاکہ پہلے سلیب کے صارفین کی تعدادسب سے زیادہ ہے جن کے لئے 10فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ 500 مکعب میٹر سے زائد گیس استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 2 لاکھ 26 ہزار ہے جن کے لئے 143 فیصد کا گیس کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ زائد بلوں کے معاملے کی تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو 7 دنوں میں اپنی سفارشات دے گی۔ گیس کی قیمتوں میں اضافہ موسم سرما کے لئے ہے۔ انہوں نے کہاکہ گیس کی فراہمی کے حوالے سے ہماری پہلی ترجیح گھریلو و کمرشل صارفین، دوسری زیرو ریٹڈ برآمدی صنعت اوربجلی گھر، تیسری کیپٹو پاور، جنرل انڈسٹری اور کھاد فیکٹریاں، چوتھی ترجیح سیمنٹ کا شعبہ اور آخری ترجیح سی این جی کا شعبہ ہے۔ گیس کے بلوں میں زیادہ اضافہ صرف 2 فیصد صارفین کا ہوا ہے۔ ایس این جی پی ایل کے قائم مقام منیجنگ ڈائریکٹر عامر طفیل نے کمیٹی کو بتایاکہ جن صارفن کے بل 20ہزار روپے سے زائد آئے ہیں ان کے بلوں کی 4 اقساط کی جائیں گی۔ ٹیرف بڑھنے کی وجہ سے بل زیادہ آئے ہیں اور صرف آخری دو سلیب کے صارفین کے بلوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہخیبر پختونخوا میں گیس کی پیداوار اس وقت 400 ایم ایم سی ایف ڈی ہے اور اس کی کھپت 300 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔ صرف آخری دو سلیب کے صارفین کی تعداد صرف 82 ہزار ہے ۔ حکومت اس وقت بھی گھریلو صارفین کو 55 فیصد سبسڈی دے رہی ہے۔ ارجنٹ گیس کنکشنز کے لئے بھی 6 ماہ پہلے درخواست درکار ہوتی ہے۔ گھریلو صارفین کے لئے گیس کی قیمت خرید 765روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے اور ہم 350 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت وصول کررہے ہیں۔صرف 45 فیصد کی وصولی صارفین سے ہوتی ہے۔ ایم ڈی ایس ایس جی سی عمران فاروقی نے کمیٹی کو بتایاکہ بلوچستان میں اس وقت گیس کا کوئی شارٹ فال نہیں ہے تاہم پریشر کی کمی کا مسئلہ درپیش ہے۔ ہمارے گیس کے ذخائر میں کمی آرہی ہے۔ سندھ 65 فیصد، بلوچستان 12 سے 13 فیصد، پنجاب 2 سے 3 فیصد اور کے پی کے 8سے 10 فیصد گیس پید اکررہا ہے ۔ ہماری مجموعی پیداوار4 ارب مکعب فٹ ہے اور اس وقت ہمیں 2 ارب مکعب فٹ گیس کی کمی کا سامنا ہے۔قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ جس صوبے سے گیس نکل رہی ہے اسے ترجیحی طورپر فراہم کرنا آئینی تقاضہ اور عدالتی حکم ہے۔ لگتا ہے کہ اس وقت آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جس صوبے سے بھی نکل رہی ہے اسے ترجیحی بنیاد پر گیس فراہم کی جائے ۔ زائد بلنگ کے مسئلے کو فوری حل کیا جائے اور گیس کے استعمال، بچت اور تحفظ کے لئے خصوصی مہم چلانے کے ساتھ ساتھ ریگولر پٹرول اور ہائی آکٹین کی قیمت میں بے تحاشہ فرق کے معاملے کا بھی جائزہ لیاجائے۔ قائمہ کمیٹی کو گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے معاملے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔





Source link