41

کیا امریکا تیسری عالمی جنگ کا متحمل ہوسکتا ہے؟


امریکا کےلیے یہی بہتر ہوگا کہ وہ دنیا کو ایک اور جنگ کی طرف نہ دھکیلے وگرنہ طاقت کا توازن اس کے ہاتھ سے نکل کر کہیں اور جاسکتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکا کےلیے یہی بہتر ہوگا کہ وہ دنیا کو ایک اور جنگ کی طرف نہ دھکیلے وگرنہ طاقت کا توازن اس کے ہاتھ سے نکل کر کہیں اور جاسکتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

تاریخ کبھی کبھی اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ حب الوطنی، قوم پرستی کی ضد ہے۔ پرانے خوانخوار دیو بیدار ہورہے ہیں اور وہ انتشار اور موت کے بیج بونے کےلیے بے قرار ہیں، دنیا میں قیام امن کےلیے زبانی دعوے کیے جاتے رہے ہیں لیکن ایک بار پھر دنیا آگ و خون کی دلدل میں دھنستی جارہی ہے۔ آج سے 105 سال قبل ایک غریب گھرانے کا سرب نوجوان گاوریلو پرنکوپ جو اپنی محرومیوں سے ناآشنا تھا، لیکن اسے انتقام کا جام پلا کر تیار کیا گیاتھا۔ اس نوجوان نے آسٹرہینگرین تخت کے وارث آرک ڈیوک فرائز فرنینڈس پر گولی چلائی اور وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ گاور پرنکپ فرط مسرت سے اس خمار میں مبتلا تھا کہ اس نے لوگوں کے مسائل حل کردیے ہیں۔ وہ اس سے بے خبر تھا کہ جو گولی اس نے چلائی ہے، اس کا سفر 4 سال تک جاری رہے گا، وہ ایک گولی پورے یورپ کو خون میں نہلاتی رہے گی، اس کی بھینٹ مختلف ممالک کے تقریباً 90 لاکھ فوجی چڑھ جائیں گے اور 10 ملین شہری آبادی ملیامیٹ ہوجائی گی۔ جرمن اور فرانس شدید نقصان سے دو چار ہوں گے اور ان کی 80 فیصد مرد آبادی کو محاذ جنگ پر جانا پڑے گا، اور شہر کے شہر مردوں سے خالی ہوجائیں گے۔

لاکھوں خواتین جو برسوں سے کام کرنے کا حق مانگ رہی تھیں، ان کو کارخانوں اور دفاتر کا چارج دے دیا جائے گا۔ یہ وہ ادارے تھے جن کے مکین محاذ جنگ سے کبھی لوٹ کر نہیں آئے۔ یہ سب ایک گولی کا کرشمہ تھا جو سرب نوجوان نے اس لیے چلائی کہ وہ سمجھتا تھا کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا حساب بے باق کررہا ہے۔ کیا ناانصافیوں کا حساب آگ اور بارود سے برابر ہوتا ہے؟ آج سوسال بعد تباہ کن جنگ کا آغاز کرنے اور بڑھنے والوں میں سے کوئی ایک بھی زندہ نہیں۔

پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر 11 نومبر 1918 بوقت دوپہر 11 بجے فریقین کے درمیان معاہدۂ امن اس دعوے کے ساتھ ہوا کہ آئندہ کوئی جنگ نہیں لڑی جائے گی۔ مگر صرف 21 سال بعد ہی پہلی جنگ عظیم سے کہیں زیادہ خوفناک اور بھیانک جنگ شروع ہوگئی، جسے ہم دوسری جنگ عظیم کہتے ہیں جو 1939 میں شروع ہوئی اور 1945 میں ختم ہوئی۔ لاکھوں فوجی اور سویلین مارے گئے، اس میں ایک طرف جرمنی کے مرد آہن ہٹلر تھے اور جاپان ان کا حلیف تھا۔ دوسری جانب پوری دنیا پر حکمرانی کرنے والا تاج برطانیہ تھا، اور امریکا اس کا دست راست تھا۔

امریکا سمیت پوری یورپی ممالک ساتھ تھے۔ اس خونریز جنگ کے خاتمے سے قبل دنیا میں پہلی بار ایٹم بم کا استعمال ہوا اور امریکا نے جاپان کے شہر ’’ہیروشما‘‘ پر 6 اگست 1945 کو پہلا ایٹم بم گرایا، جس سے 20 ہزار فوجی اور ایک لاکھ 10 ہزار افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ پھر اس کے تین بعد ناگاساکی پر ایٹم بم پھینکا گیا جس میں 1 لاکھ 40 ہزار ہلاکتیں ہوئیں، اور لاکھوں لوگ شدید زخمی اور معذور ہوگئے۔ ان دونوں شہروں کئی سال گھاس تک نہیں اُگ سکی اور آبادی پر اس کے مضر اثرات کا شمار کرنا ممکن نہیں۔

دنیا کو عالمی مسائل سے نجات دلانے اور مختلف ممالک کے درمیان باہمی اختلافات کو ختم کرانے کےلیے 10جنوری 1920 کو قائم ہونے والی لیگ آف نیشن کی ناکامی پر 1945 میں اقوام متحدہ کی داغ بیل ڈالی گئی۔ اس ادارے سے جو توقعات وابستہ کی گئیں وہ آج تک پوری نہیں ہوئیں اور ہمیشہ یہی دیکھنے میں آیا کہ یو این او کے فیصلے عالمی طاقتوں کے زیر اثر رہے۔ بالخصوص مسلم ممالک کے حوالے سے اقوام متحدہ کا کردار نہایت ہی افسوسناک رہا۔ ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں وہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہا اور دوسری جانب مشرقی تیمور میں، جو ایک مسلمان ملک کا حصہ تھا، فوری طور پر رائے شماری کروا کر اسے ایک علیحدہ عیسائی ریاست (ایسٹ تیمور) کا درجہ دے دیا گیا۔ اقوام متحدہ کی موجودگی کے باوجود دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا جنگ و جدل کا میدان بنی رہی اور عالمی اقوام کا یہ پلیٹ فارم خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتا رہا۔

ویت نام کی خوفناک جنگ، پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی تین جنگیں، چین اور بھارت کی جنگ، ایران عراق جنگ، گلف وار سمیت مختلف جنگوں میں اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر رہا اور اس کی اسی کمزوری کے باعث اب دنیا جنگ و جدل کا کھلا میدان بن چکی ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق طاقتور کمزور کو زیر نگیں کرنے میں مصروف ہے۔ فلسطین، افغانستان، عراق، لیبیا، شام، برما (روہنگیائی مسلمان) اور یمن میں انسانی خون اتنا ارزاں ہوگیا ہے کہ ان کےلیے کوئی دو آنسو بہانے کو بھی تیار نہیں۔ ناانصافیوں، ظلم اور اپنی طاقت منوانے کی بے لگام خواہشات نے دنیا میں جنگ کا ایندھن پھر سے گرم کردیا ہے۔

دنیا بدل رہی ہے، آخر کوئی کب تک اور کتنا ظلم سہے گا؟ امریکا کب تک اپنی عالمی بالادستی قائم رکھے سکے گا؟ چین، روس، پاکستان، ترکی اور ایران جیسے ممالک پر مشتمل بلاک جلد امریکا کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آسکتا ہے۔ امریکا کی ڈوبتی ہوئی معیشت کے سامنے چین کی ابھرتی ہوئی معیشت، امریکا کے خطرناک ہتھیاروں کے سامنے روس کے مہلک ہتھیار بھی موجود ہیں۔ پاکستان کی پروفیشنل فوج، ترکی اور ایران کے سیاسی بصیرت رکھنے والے حکمران وہ عوامل ہیں جو امریکا کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کررہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکا اتنی آسانی سے اپنی یونی پولر طاقت کی حیثیت چھوڑ دے گا؟ اس کا جواب یقیناً ’’نہیں‘‘ میں ہے۔

وہ ہر حربہ اختیار کرے گا جس سے دنیا اس کی مطیع و فرمانبردار رہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف جارہی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ عالمی جنگوں نے سپر پاورز کی حیثیت کو تبدیل کیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم اس کی واضح مثال ہے۔

وہ برطانیہ جس کی حدود میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور پوری دنیا میں اس کی کالونیاں تھیں، وہ خود بتدریج امریکی کالونی کی شکل اختیار کرگیا۔ ان تمام معروضی حالات میں امریکا کےلیے یہی بہتر ہوگا کہ وہ دنیا کو ایک اور جنگ کی طرف نہ دھکیلے وگرنہ طاقت کا توازن اس کے ہاتھ سے نکل کر کہیں اور جاسکتا ہے اور یقیناً امریکا کے باشعور عوام مستقبل میں کسی کی کالونی بننا پسند نہیں کریں گے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا کو اپنے تسلط میں رکھنے والا ملک خود کسی اور کے تسلط میں آجائے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔





Source link