18

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا ازخودنوٹس کیس کا فیصلہ جاری کردیا


اسلام آباد : سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت ملکی سالمیت کےخلاف کام نہیں کرسکتی اور نہ کسی جنگجوگروپ سےملتاجلتانام رکھ سکتی ہے، سیاسی جماعتیں بیرون ملک سےفنڈزنہیں لےسکتیں، کوئی سیاسی جماعت ایساکرتی ہےتوحکومت اس کوکالعدم کرنےکااختیاررکھتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا ازخودنوٹس کیس کا تحریری فیصلہ ویب سائٹ جاری کردیا، ویب سائٹ پرجاری فیصلہ 45 صفحات پرمشتمل ہے، فیصلہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی جانب سےتحریرکیاگیاہے۔

دوران سماعت جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ از خود نوٹس کیس کافیصلہ سنانا مشکل کام ہے، فیصلے میں کہا گیا کہ سیاسی جماعت بنانا ہر پاکستانی کابنیادی حق ہے لیکن کوئی سیاسی جماعت ملکی سالمیت کےخلاف کام نہیں کرسکتی۔

کوئی سیاسی جماعت ملکی سالمیت کےخلاف کام نہیں کرسکتی اور نہ  کسی جنگجوگروپ سےملتاجلتانام رکھ سکتی ہے،فیصلہ

فیصلےمیں کہا گیا  ہر سیاسی جماعت کے فنڈزکےذرائع معلوم ہوناضروری ہیں، الیکشن کمیشن نےتصدیق کی ٹی ایل پی نےسورس آف فنڈزنہیں بتائے۔

تحریری  فیصلے کے مطابق کہ تحریک لبیک پاکستان بطورسیاسی جماعت رجسٹرڈہوئی، الیکشن ایکٹ کےتحت سیاسی پارٹی کوآئین کےمنافی پروپیگنڈا کرنا منع ہے،سیاسی جماعتیں دہشت گردی میں بھی ملوث نہیں ہوسکتی ہیں، اور فرقہ ورانہ، مذہبی اورصوبائی منافرت بھی نہیں پھیلاسکتیں جبکہ سیاسی جماعت کسی جنگجو گروپ سےملتا جلتانام بھی نہیں رکھ سکتیں۔

سیاسی جماعتیں بیرون ملک سےفنڈزنہیں لےسکتیں،فنڈزکےذرائع بھی معلوم ہونا ضروری ہیں،سپریم کورٹ کا فیصلہ

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سیاسی جماعتیں ارکان کوملٹری اور پیراملٹری تربیت نہیں دے سکتیں اور نہ ہی بیرون ملک سے فنڈز لےسکتیں ہیں،کوئی سیاسی جماعت یہ سب کرتی ہےتو حکومت اس کو کالعدم کرنےکااختیاررکھتی ہے۔

مزید پڑھیں : حکومت اورتحریک لبیک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا

حکم نامے میں آفس کوہدایت کی ہے کہ فیصلے کی کاپی حکومت، سیکریٹری دفاع ، سیکریٹری داخلہ،سیکریٹری انسانی حقوق ومذہبی اموراورپیمرا کو بھجوائی جائے جبکہ فیصلے کی کاپی آرمی چیف، آئی ایس آئی چیف، ڈی جی آئی ایس پی آر، ایم آئی سربراہ اورآئی بی سربراہ کوبھجوانے کی بھی ہدایتکی گئی ہے۔

یاد رہے کہ نومبر 2017  میں ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کے معاملے پر فیض آباد انٹرچینج پر تحریک لبیک کی جانب سے 22 روز تک دھرنا دیا گیا تھا، فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے کے خلاف سیکورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران مظاہرین سے جھڑپوں میں پولیس اہلکار سمیت 5 افراد جاں بحق اور 188  افراد زخمی ہوئے جبکہ پولیس نے درجنوں مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔

فیض آباد دھرنے کے مظاہرین کے مطالبے پر  وفاقی وزیرقانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد وفاقی حکومت اور مذہبی جماعت تحریک لبیک کے درمیان معاملات طے پاگئے اور دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ ہوگیا تھا۔

Comments

comments





Source link