37

سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا | پاکستان


شہریوں کو سیاسی جماعتیں بنانے اور ان کا رکن بننےکا حق حاصل ہے اور ہر شہری اور سیاسی جماعت کو اجتماع اور احتجاج کا حق حاصل ہے، فیصلہ۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا از خود نوٹس کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

43 صفحات پر مشتمل فیصلے کی کاپی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کو سیاسی جماعتیں بنانے اور ان کا رکن بننےکا حق حاصل ہے اور ہر شہری اور سیاسی جماعت کو اجتماع اور احتجاج کا حق حاصل ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اجتماع اور احتجاج پُرامن اور قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے جس سے دیگر شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت متاثر نہ ہو، دیگر شہریوں کے آزادانہ حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں ہدایت دی کہ سیاسی جماعتوں سے متعلق قانون پر عمل نہ کرنے والی سیاسی جماعت کے خلاف الیکشن کمیشن کارروائی کرے اور ہر سیاسی جماعت کو اپنے فنڈز کے ذرائع سے متعلق جواب دہ ہونا چاہیے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ریاست کو غیر جانبد ار اور منصفانہ ہونا چاہیے، قانون کا اطلاق سب پر ہونا چاہیے، چاہے وہ حکومت میں ہوں یا اداروں میں، آزادانہ کام کرنا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں سانحہ 12 مئی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سانحہ 12 مئی سے بری مثال قائم ہوئی، تشدد کے ذریعے ایجنڈے کے حصول کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ





Source link