8

  بات چیت مکمل، صرف امن معاہدے پر دستخط ہونا باقی تھے،پھرٹرمپ نے مذاکرات منسوخی کا اعلان کیسے کردیا؟طالبان ترجمان سہیل شاہین کاانٹرویو، حیرت انگیزانکشافات


دوہا (آن لائن)افغان طالبان کے ترجمان نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغان امن مذاکرات منسوخ کرنے کے اعلان کو حیران کن قرار دیا ہے۔اگر بیرونی افواج ہم پر حملہ کرتی ہیں جبکہ بمباری اور رات کی کارروائیاں جاری رکھی جاتی ہیں تو پھر طالبان بھی گزشتہ 18 سال کی طرح حملے جاری رکھیں گے،قطر میں واقع طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے قطری ٹی وی کو انٹرویو میں بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت مکمل ہو گئی تھی جبکہ صرف امن معاہدے پر دستخط ہونے باقی تھے۔صدر ٹرمپ نے بات چیت

منسوخ کرنے کا اعلان گزشتہ ہفتے کابل میں ہونے والے خود کش دھماکے کے بعد کیا تھا،جس میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے،اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔صدر ٹرمپ نے مذاکرات معطل کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی طالبان کے نمائندوں اور افغان صدر اشرف غنی سے کیمپ ڈیوڈ میں طے شدہ الگ الگ ملاقاتیں بھی منسوخ کر دی تھیں۔صدر ٹرمپ سے طالبان نمائندوں کی ملاقات کی دعوت کی تصدیق کرتے ہوئے طالبان ترجمان نے کہا کہ طالبان قیادت نے فیصلہ کیا تھا کہ یہ ملاقات امریکہ سے امن معاہدے طے پانے کے بعد ہی ہو سکتی ہے اس بارے میں امریکی عہدے داروں کو بھی آگاہ کر دیا تھا۔پیر کو ایک اور بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات مکمل طور پر ختم کر دیے گئے ہیں۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ(طالبان)یہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو ہلاک کر کے وہ بات چیت میں اپنی پوزیشن مستحکم کر سکتے ہیں، آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے،اس لیے بات چیت ختم کر دی گئی ہے۔طالبان کے ترجمان کے بقول صدر ٹرمپ کی طرف بات چیت منسوخ کرنے کا اقدام ان کے لیے حیران کن ہے۔قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان نے کہا کہ ہمارے لیے یہ بات حیران کن تھی کیونکہ ہم نے پہلے ہی امریکہ کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ امن معاہدے کے لیے بات چیت مکمل کر لی تھی۔امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کے نو ادوار ہوئے جن میں دونوں جانب سے زیادہ تر اختلافات دور کر لیے گئے تھے۔امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے بھی متعدد بار یہ اعلان کیا کہ امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق ہو گیا ہے۔گزشتہ لگ بھگ ایک سال سے جاری مذاکرات کا محور چار معاملات تھے،جن میں افغانستان سے غیر ملکی فوج کا انخلا، بین الافغان مذاکرات، مستقبل میں جنگ بندی اور کسی شدت پسند گروہ کا افغانستان سرزمین استعمال کرکے باہر حملہ کرنے کی اجازت نہ دینے کے نکات شامل تھے۔طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ طالبان نے ان مذاکرات میں جنگ بندی پر اتفاق نہیں کیا تھا۔ ان کے بقول غیر ملکی افواج کے انخلا کا معاہدے طے پانے کے بعد وہ دیگر طالبان دھڑوں کی ساتھ بات چیت کا آغاز کریں گے۔ اگر جنگ بندی پر اتفاق ہوتا ہے تو وہ افغانستان میں حملے بند کر دیں گے۔سہیل شاہین نے واضح کیا کہ طالبان کا امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ طے ہونے کے بعد وہ امریکی فوج کے انخلا کے لیے محفوظ راستہ دینے پر تیار تھے۔اگر امن معاہدے پر دستخط ہوتے ہیں تو وہ اب بھی محفوظ راستہ دینے پر تیار ہیں۔ان کے بقول اگر معاہدے پر دستخط ہوتے ہیں تو پھر یہ ہماری ذمہ داری ہو گی کہ ہم ان پر حملے نہ کریں اور انہیں محفوظ راستہ فراہم کریں۔افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر امن معاہدے پر دستخط کے بغیر فوجی انخلا ہوگا تو پھر طالبان یہ طے کریں گے کہ فورسز پر حملے کیے جائیں یا روک دیے جائیں۔سہیل شاہین نے مزید کہا کہ حملے کرنے یا نہ کرنے کا انحصار طالبان پر ہو گا کیونکہ کوئی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔تاہم سہیل شاہین نے کہا کہ اگر غیر ملکی فوج طالبان پر حملے نہیں کرنا چاہتی جبکہ امریکہ افغانستان سے فوجی انخلا چاہتا ہے اور انخلا کے بعد وہ معاہدے پر دستخط کرتا ہے تو تب بھی طالبان غیر ملکی افواج پر حملہ نہیں کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر بیرونی افواج ہم پر حملہ کرتی ہیں جبکہ بمباری اور رات کی کارروائیاں جاری رکھی جاتی ہیں تو پھر طالبان بھی گزشتہ 18 سال کی طرح حملے جاری رکھیں گے۔

موضوعات:

loading…





Source link