14

کشیدہ حالات معیشت کو لے ڈوبے ۔۔۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج سے افسوسناک خبر آ گئی


کراچی(ویب ڈیسک) پاکستان اسٹاک ایکس چینج دوبارہ مندی کا شکار ہو گئی، کاروبار بھی چوالیس فیصد کم ہوا۔ اسٹاک مارکیٹ میں دو روز کی مسلسل تیزی کے بعد مندی رہی، کاروبار کے آغاز کے مثبت آغاز بعد بازار میں کافی اتار چڑھاو دیکھا گیا،، ٹریڈنگ کے دوران ہنڈرڈ انڈیکس مین دو سو ساٹھ پوائنٹ


کی کمی دیکھی گئی تاہم کاروبار کے اختتام پر انڈیکس پینسٹھ پوائنٹ کی کمی سے اکتیس ہزار چار سو اکاسی پر بند ہوا۔شئیرز کی خرید و فروخت میں چوالیس فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، مجموعی طور پر دس کروڑ اکتیس لاکھ شئیرز کا کام ہوا، تین سو چالیس کمپنیوں کے شئیرز کا کاروبار ہوا، ایک سو انسٹھ کی قیمت میں اضافہ جبکہ ایک سو تریپن کمپنیوں کے شئیرز کی قیمت کم ہوئی۔دوسری جانب تنظیم تاجران پاکستان کے سینئر وائس چیئرمین اور کراچی سندھ تاجر اتحاد کے چیئرمین شیخ حبیب نے کہا ہے کہ سالانہ15کروڑروپے تک کا ٹرن اوور کرنے والے تاجروںکو فکس ٹیکس میں شامل کیا جائے، ہم کسی صورت میں ٹیکس کے خلاف نہیں ہیں ، ہمارا ہدف ایف بی آر سے مذاکرات کرکے تاجروں کے لیے کوئی قابل عمل و باعزت راستہ نکالنا ہے، جس سے تاجر کے لیے ٹیکس دینا آسان ہوجائے اور حکومتی آمدن میں اضافہ ممکن ہو سکے اور ٹیکس کے دائرے کار میں بھی اضافہ ہو۔گزشتہ روز اپنے ایک جاری کردہ بیان میںشیخ حبیب نے کہا کہ سالانہ 15 کروڑ روپے سیل تک کے تاجروں کے لیے سادہ و آسان ٹیکس اسکیم لائی جائے، یہ ٹیکس آسان و سادہ اردو کے فارم کے زریعے تاجر خود بینک میں جمع کرا سکیں اوراس تاجر سی6 برس کا آڈٹ نہ ہو جب کہ سادہ فارم کے ذریعے خاص حد تک کی ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کرانے پر کوئی جرمانہ نہ لگایا جائے۔شیخ حبیب کا مزید کہنا تھا کہ تاجر برادری حکومت سے ہر قسم کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہے اور تمام تاجر ٹیکس دینا چاہتے ہیں لیکن ایف بی آر کی جانب سے بنائی جانے والی مشکل پالیسیوں سے خوفزدہ ہیں، انہیں خوف کی فضا سے باہر نکالنے کے لیے کم سے کم3برس تک اس سادہ ٹیکس نظام کے ذریعے ٹیکس وصول کیا جائے اور انہیں ٹیکس کے حوالے سے آگاہی فراہم کی جائے تاکہ تاجر برادری خوشی سے ٹیکس کی ادائیگی کرے ۔









Source link