14

سابق ترک وزیراعظم داؤد اولو نے اردون سے راہ جدا کر لی، پارٹی چھوڑنے کا اعلان


انقرہ: سابق ترک وزیر اعظم داؤد اولو نے صدر  طیب اردون سے راہ جدا کرتے ہوئے نئی سیاسی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا.

تفصیلات کے مطابق ترکی کے سابق وزیراعظم احمد داؤد اولو نے ایک پریس کانفرنس میں جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کی رکنیت چھوڑنے کا اعلان کیا۔

اس فیصلے کے پیچھے اردوان اور داؤد اولو کے بڑھتے اختلافات اور پارٹی کی حالیہ کارکردگی تھی، کچھ عرصے سے پارٹی ارکان کی جانب سے داؤد اولو کو پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ بھی کیا جارہا تھا.

تجزیہ کاروں کے مطابق داؤد اولو کا استعفیٰ طیب اردوان کے لیے ایک دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، کہا جارہا ہے کہ داؤد اولو کو جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے کئی اہم ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

مزید پڑھیں: ترکی کے لیے پیٹریاٹ میزائل کی فروخت سے متعلق امریکی پیشکش ختم

خیال رہے کہ 2014 میں رجب طیب اردوان کے صدر منتخب ہونے کے بعد داؤد اولو نے وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالا تھا، مگر اختیارات پر تنازع کے باعث وہ 2016 میں اپنے منصب سے مستعفی ہو گئے۔

حالیہ بلدیاتی انتخابات میں حکمراں جماعت کی شکست کے بعد وہ ایک بڑے ناقد کے طور پر سامنے آئے.

توقع کی جارہی ہے کہ داؤد اولو کی جماعت ترکی کے 81 میں سے 70 صوبوں میں متحرک نظر آئے گی.

Comments

comments





Source link