11

’’بس بہت ہوا، ۔۔۔‘‘ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے پرائیویٹ اسکولز کو وارننگ جاری کرتے ہوئے بڑا حکم جاری کردیا


اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے پرائیویٹ اسکولز کو خبردار کیا ہے کہ فیسیں سپریم کورٹ کے حکم سے زیادہ ہوئیں تو اسکولوں کیخلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی، فیس کے علاوہ کسی اور دروازے سے فنڈز وصولی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے میڈیا سے بات چیت


کرتے ہوئے کہا کہ ابھی نئے سکول کا سال شروع ہوا ہے تو نجی اسکولوں نے فیسز میں اضافہ کر دیا گیا ہے،نجی سکول پانچ فی صد سے زیادہ اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اس حوالے احکامات جاری کئے ہوئے ہیں،صوبائی حکومت سے درخواست کی ہے کہ کسی نجی اسکول میں فیس بڑھائی گئی ہے تو کارروائی عمل میں لائی جائے۔شفقت محمود نے کہا نجی اسکول کتابوں اور دیگر چیزوں میں والدین سے پیسے بٹورتے ہیں، تمام نجی اسکولز کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ فیسز میں اضافہ نہ کریں، والدین احتجاج کر رہے ہیں ان کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے طے شدہ فیسز کے طریقہ کار پر عمل کیا جائے، سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نا ہونے کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے واضح کیا ہے کہ عدالتی اجازت سے زائد فیس لینے پر ایکشن ہوگا،نجی تعلیمی اداروں کو احتجاج کرنے والے والدین سے مذاکرات کر نے چاہئی.جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے تین سالہ کنٹریکٹ کا دورانیہ مکمل کرنے والے اساتذہ کو مستقل کرنے کا اعلان کردیا۔ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے تین سالہ کنٹریکٹ کا دورانیہ مکمل کرنے والے اساتذہ کو ریگولر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، نئے نوٹیفکیشن میں مدت ملازمت 3 سال ہونے پر اساتذہ کو اپنے سروس کا ریکارڈ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے زونل ہیڈز متعلقہ اساتذہ کی فائلیں 2 دن کے اندر ڈی ای اوز کے پاس جمع کرائیں گے۔واضح رہے کہ اس سے قبل کنٹریکٹ اساتذہ کو ریگولر ہونے کے لیے 4 سال سروس کا دورانیہ مکمل کرنا ضروری ہوتا تھا، وزیر اعلیٰ پنجاب نے مدت کم کر کے 3 سال کردی ہے، اس سہولت سے پنجاب بھر کے ہزاروں اساتذہ کو فائدہ ہوگا۔









Source link