10

’’ میں قوم سے معافی مانگتا ہوں۔۔۔‘‘ سابق وزیر اعظم نے غلطی تسلیم کر لی ، سر عام قوم سے معافی مانگ لی


اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے چیئر نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی تقرری پر قوم سے معافی مانگ لی اور کہاہے کہ یہ فیصلہ ہونا چاہئے کہ ملک کابینہ نے چلانا ہے یا نیب نے۔ احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے مسلم لیگ کے


سینئر رہنماؤں نے ملاقات کی جس میں موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ملاقات کر نے والوں میں خواجہ آصف، رانا تنویر ،سابق ڈپٹی اسپیکر مرتضی جاوید عباسی اور ملک ابرار شامل تھے ۔ میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ مجھ پر الزم لگایا کہ میں وزارت خارجہ کی گاڑی استعمال کرتا ہوں۔ انہوںنے کہاکہ ملک کا وزیراعظم تھا، بتا دیتے تو آفس پہنچنے کیلئے تانگہ یا اوبر کرا لیتا۔انہوںنے کہاکہ ایک سال سے نیب تفتیش کر رہا ہے، 55 دن سے ریمانڈ چل رہا ہے، ابھی تک کیس سمجھ نہیں آیا۔انہوںنے کہاکہ نیب کا ادارہ ہی غلط ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ ن لیگ کو توڑنے کے لیے بنایا گیا تھا۔انہوںنے کہاکہ چیئرمین نیب کی تقرری کے لیے قوم سے معافی مانگتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے نام آیا تھا، اتفاق رائے سے تقرری کا فیصلہ کیا۔انہوںنے کہاکہ یہ کیسا ادارہ ہے کہ پہلے سابق وزیراعظم کو گرفتار کرتے ہیں اور اس کے بعد ان کے خلاف کیس بناتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ میں نے اگر کوئی کرپشن کی ہے تو بتائیں کیا کرپشن کی گئی ہے۔انہوںنے کہاکہ تفتیشی افسر کہتا ہے کہ کابینہ کا فیصلہ غلط تھا، یہ فیصلہ ہونا چاہئے کہ ملک کابینہ نے چلانا ہے یا نیب نے۔خیال رہے کہ احتساب کے عمل پر احتجاج کرنے پر اپوزیشن جماعتوں کو اس لیے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے چیئرمین نیب کو خود منتخبب کیا تھا اور آج اگر چیئرمین نیب انکے خلاف انکوائری کر رہے ہیں تو پھر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج کیوں کیا جارہا ہے؟ انکو اگر لگتا تھا کہ چیئرمین نیب قابل شخص نہیں ہیں تو پھر انہیں منتخب ہی کیون کِیا گیا؟









Source link