12

ہانگ کانگ اور مسئلہ کشمیر کے معاملے پر امریکہ کا پراسرار کردار کھل کر سامنے آ گیا


لاہور(ویب ڈیسک) تاریخ جغرافیہ اور سیاسیات کے ماہرین اور طالب علموں کے لیے اس وقت ایک بڑی دلچسپ اور حیران کُن صورتحال پیدا ہو چکی ہے، ایک طرف جموں وکشمیر کو غیرآئینی اور زبردستی طور پر بھارت نے ایک طرح سے ناجائز قبضہ کرلیا ہے جبکہ دوسری طرف ہانگ کانگ جیسے ایک معاہدے کے تحت برطانیہ نے


نامور کالم نگار چوہدری فرخ شہزاداپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔ چین کو حوالے کیا تھا وہاں فسادات پھوٹ پڑے ہیں اور چین کے مسائل میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ عالمی طاقتیں کشمیر کے معاملے میں مکمل خاموش ہیں جبکہ بھارت کی حمایت میں ہیں مگر ہانگ کانگ کے بحران میں ہر کوئی اندر سے خوش ہے اور چین کی درپردہ اور اعلانیہ دونوں سطح پر مخالفت کی جا رہی ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، اس سے عالمی دُنیا بالخصوص امریکہ کا چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔ کشمیریوں کی حمایت اس لیے نہیں کی جارہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں جبکہ دوسری طرف ہانگ کانگ کا ذکر ہوتا ہے تو امریکہ کا دل درد سے بھر جاتا ہے اور انگلینڈ کے دل میں بھی کانٹے چبھنے لگتے ہیں۔ یہ ڈبل سٹینڈرڈ ایک افسوسناک صورتحال ہے جس سے یہ آنے والے وقت میں عالمی سطح پر کئی مزید فلیش پوائنٹ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔مسئلہ کشمیر صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی جانب سے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے، لیکن اب اسے عالمی سطح پر قدرے بہتر پذیرائی ملنا شروع ہو ئی ہے ۔ وزیراعظم عمران کے دور امریکہ کے دوران جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکش کی تو اس کا بھارت پر اُلٹا اثر ہوا اور اس نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے وہاں کرفیو نافذ کر کے ، مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ


زیادہ تیز کر دیا۔ اور اس کے بعد بھارت کو اس امر سے روکنے کے بجائے امریکی صدر نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ بھارت اور پاکستان کے مابین مسئلہ ہے جسے وہ مل کر حل کریں۔ گزشتہ ماہ جی سیون اجلاس کے سلسلے میں فرانس کے شہر بیارٹز میں امریکی صدر سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ملاقات کی تو اس وقت مسئلہ کشمیر پر بھی بات ہوئی، امریکی صدر نے ”کشمیر ہمارا اندرونی معاملہ ہے“ کے بھارتی مو¿قف کی نفی تو کی لیکن خود مزید کوئی کرادار ادا کرنے کے بجائے فقط یہ کہہ دیاکہ امید ہے پاکستان اور بھارت مل کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کشمیر پر ثالثی کی پیشکش دہراتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ وہ تنازع کشمیر کے حل کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے تنازع کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کے اصرار پر تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ امریکی صدر اپنی تمام تر توجہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نہیں چاہتے کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے دو جوہری طاقتیں خطے میں کسی نئی جنگ میں ملوث ہوں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعات میں الجھا رہا تو وہ افغان امن عمل میں یکسوئی سے اپنا کردار ادا نہیں کر سکے گا۔ لہٰذا صدر ٹرمپ ثالثی کی پیشکش کر رہے ہیں۔ دراصل صدر ٹرمپ اگلے سال امریکہ کے صدارتی انتخابات میں خود کو بطور اسٹیٹس مین منوانا چاہتے ہیں اور


اس کے لیے ضروری ہے کہ عالمی سطح پر کسی بڑے مسئلے کے حل کا کریڈٹ ان کے پاس ہو۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق شمالی کوریا، ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ تنازعات کے حل میں تاحال صدر ٹرمپ کامیاب نہیں ہو سکے۔ بھارت کسی بھی ایسی ثالثی کی پیشکش کو کبھی بھی قبول نہیں کرے گا کیوں کہ یہ اس کے دیرینہ مو¿قف کی نفی ہو گی۔جی سیون ممالک میں دنیا کے اثرو رسوخ رکھنے والے ممالک شامل ہوتے ہیں ایسے میں بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھا کر کشمیر سے متعلق اپنے بیانیے کو تقویت دینا چاہتا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی وزیراعظم نے فرانسیسی صدر سے ملاقات میں رافیل طیاروں کے معاہدے پر بھی گفتگوکی۔ عالمی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ شملہ معاہدے کے بعد سے بھارت کا یہ موقف رہا ہے کہ تنازع کشمیر میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت قابل قبول نہیں ہو گی۔ ان کے بقول پاکستان کا بیانیہ اب یہ ہونا چاہیے کہ بھارت کے حالیہ اقدامات کے بعد شملہ معاہدے کی کوئی وقعت نہیں رہی۔ دوسری جانب بھارت مسئلہ کشمیر پر بات ہی نہیں کرنا چاہتا اور جب دیگر ممالک یہ کہتے ہیں کہ دونوں ممالک بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کو حل کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مسئلے کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ امریکہ کی پاکستان میں تعینات رہنے والی سابق سفیر این پیٹرسن کا کہنا ہے کہ بھارت امریکہ کا خطے میں اہم شراکت دار ہے۔ امریکہ کی یہ خواہش ہے کہ بھارت خطے میں چین کے بڑھتے


ہوئے کردار کو محدود کرنے کے لیے سرگرم رہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی قیادت کشمیر کے معاملے پر بھارت کو ناراض نہیں کر سکتی۔ ان کے بقول صدر ٹرمپ بھی ایسا ہی کریں گے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ امریکہ بھارت کے چین کے ساتھ تنازعات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تاہم بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگا۔تنازع کشمیر پر چین پاکستان کے مو¿قف کا حمایتی ہے تاہم امریکہ اور دیگر عالمی قوتیں چین کے مقابلے میں بھارت کو خطے میں مضبوط دیکھنا چاہتی ہیں جس کی وجہ سے بھارت کی بین الاقوامی اہمیت بڑھ گئی ہے۔این پیٹرسن کے مطابق بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ایسے وقت میں ختم کیا ہے جب امریکہ اور طالبان کے مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں اور اس میں پاکستان کردار نہایت اہم ہے۔ بھارت نے آرٹیکل 370 منسوخ کرنے کا اعلان سوچ سمجھ کر کیا ہے جب امریکہ اور طالبان کے مذاکرات حساس موڑ پر ہیں اور پاکستان کو اہمیت مل رہی ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ امریکہ خطے میں چین کے مقابلے میں بھارت کو مضبوط اور بااثر دیکھنا چاہتا ہے، اس لئے ہانگ کانگ اور چین کے مسئلہ پر امریکہ اس قدر سرد مہری کا مظاہرہ نہیں کر رہا جیسامسئلہ کشمیرپر کرتا آرہا ہے۔ہانگ کانگ کی تاریخ بڑی پُرآشوب ہے۔ یہ زمانہ قدیم میں جنوبی چین کا ایک شہر تھا۔ 1840ءمیں برطانیہ اور چین کے در میان طویل جنگ ہوئی جسے Opium War کہا جاتا ہے۔ برطانیہ کا چین سے مطالبہ تھا کہ Opium یعنی

نشہ آور افیون کےبدلے میں چین ہمیں مصالحہ جات اور دیگر تجارتی پراڈکٹ دے مگر چین نے انکار کر دیا۔ ان افیونی جنگوں میں برطانیہ نے چین کے شہر ہانگ کانگ پر قبضہ کرلیا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد ہانگ کانگ کافی عرصہ تک جاپان کے زیر تسلط رہا۔ 1898ءمیں برطانیہ نے 99 سالہ لیز پر ایک دفعہ پھر ہانگ کانگ کو اپنی حکومت میں شامل کر لیا جسے وائسرائے ہند کے زیرنگیں چلایا جاتا تھا۔ 1984ءمیں برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر اور چینی حکومت کے درمیان ایک جوائنٹ ڈکلیئریشن سائن کیا گیا جس میں برطانیہ اس شرط پر ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کرنے پر رضامند ہوا کہ ہانگ کانگ کی خودمختاری برقرار رکھی جائے گی۔ اس معاہدے کے تحت 99سالہ لیز پر مکمل ہونے پر 1997ءمیں ہانگ کانگ پھر چین کے پاس آگیا جسے ون کنٹری، ٹوسسٹم فارمولا کے تحت چلایا جارہا ہے جس میں ہانگ کانگ کو محدود خودمختاری حاصل ہے۔ چین نے کئی بار دھمکی دی ہے کہ وہ ہانگ کانگ پر قبضہ کر کے اسے اپنے مین لینڈ چین میں شامل کر لیں گا مگر عالمی دباﺅ کے تحت چین یہ نہیں کر سکتا۔ ہانگ کانگ کی موجودہ Status یہ ہے کہ یہ نہ تو چین کے ماتحت ہے اور نہ ہی یہ چین سے مکمل آزاد ہے۔ہانگ کانگ دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ سنگاپور ایئرپورٹ دوبئی کے بعد دُنیا کا مصروف ترین ایئرپورٹ ہے جہاں گزشتہ سال 80 ملین مسافر بطور سیاح یہاں آئے۔ چینی سیاسی طور پر کسی قیمت پر ہانگ کانگ سے دستبردار ہونے

کو تیار نہیں ہیں۔ مارگریٹ تھیچر کے ساتھ معاہدے میں یہ بھی قرار پایا تھا کہ 1997ءسے اگلے 50 سال یعنی 2047ءتک چین ہانگ کانگ کی خودمختاری کا احترام کرنے کا پابند ہے جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ہانگ کانگ پر مکمل قبضے کے لیے چین کی بے چینی بڑھتی جا رہی ہے مگر دوسری طرف ہانگ کانگ کے شہری چین کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں جیسے جموں کشمیر والے بھارت کو۔ گویا 2047ءتو بہت دُور ہے، چین اور ہانگ کانگ کا فیصلہ اس سے پہلے ہو جانا چاہئے۔ امریکہ، برطانیہ اور مغربی ممالک ہانگ کانگ میں چینی مفادات کو نقصان پہنچانے اور ہانگ کانگ میں مظاہروں کی پشت پناہی کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ امریکہ کو تجارتی جنگ میں چین سے جو شکست ہوئی ہے وہ اس کا بدلہ لینے کے لیے تلملا رہا ہے۔ اس لیے وہ ہانگ کانگ میں شورش کو ہوا دے رہے ہیں مگر میرا ذاتی خیال ہے کہ چین کو جب بھی یہ محسوس ہوا کہ معاملات اس کے قابو سے باہر ہو رہے ہیں تو کیمونسٹ پارٹی آف چائنا نے ہانگ کانگ پر قبضہ کر لینا ہے، اس کے بعد کیا ہو گا حالات کا فیصلہ وقت کرے گا۔چینی صدر شی جنگ پنگ 2012ءمیں برسراقتدار آئے تھے، ہانگ کانگ میں کئی ہفتوں سے جاری مظاہرے ان کے اقتدار کا سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ ہانگ کانگ کی آئینی سربراہ مسز کیری لامہ (Mrs Carrie Lama) چین کی منظور نظر ہیں، کوئی سربراہ چین کی آشیرباد کے بغیر عہدہ نہیں سنبھال سکتا۔حالیہ مظاہروں

لاہور(ویب ڈیسک) تاریخ جغرافیہ اور سیاسیات کے ماہرین اور طالب علموں کے لیے اس وقت ایک بڑی دلچسپ اور حیران کُن صورتحال پیدا ہو چکی ہے، ایک طرف جموں وکشمیر کو غیرآئینی اور زبردستی طور پر بھارت نے ایک طرح سے ناجائز قبضہ کرلیا ہے جبکہ دوسری طرف ہانگ کانگ جیسے ایک معاہدے کے تحت برطانیہ نے

نامور کالم نگار چوہدری فرخ شہزاداپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔ چین کو حوالے کیا تھا وہاں فسادات پھوٹ پڑے ہیں اور چین کے مسائل میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ عالمی طاقتیں کشمیر کے معاملے میں مکمل خاموش ہیں جبکہ بھارت کی حمایت میں ہیں مگر ہانگ کانگ کے بحران میں ہر کوئی اندر سے خوش ہے اور چین کی درپردہ اور اعلانیہ دونوں سطح پر مخالفت کی جا رہی ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے جا رہے ہیں، اس سے عالمی دُنیا بالخصوص امریکہ کا چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔ کشمیریوں کی حمایت اس لیے نہیں کی جارہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں جبکہ دوسری طرف ہانگ کانگ کا ذکر ہوتا ہے تو امریکہ کا دل درد سے بھر جاتا ہے اور انگلینڈ کے دل میں بھی کانٹے چبھنے لگتے ہیں۔ یہ ڈبل سٹینڈرڈ ایک افسوسناک صورتحال ہے جس سے یہ آنے والے وقت میں عالمی سطح پر کئی مزید فلیش پوائنٹ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔مسئلہ کشمیر صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی جانب سے نظرانداز کیا جاتا رہا ہے، لیکن اب اسے عالمی سطح پر قدرے بہتر پذیرائی ملنا شروع ہو ئی ہے ۔ وزیراعظم عمران کے دور امریکہ کے دوران جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکش کی تو اس کا بھارت پر اُلٹا اثر ہوا اور اس نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے وہاں کرفیو نافذ کر کے ، مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ

زیادہ تیز کر دیا۔ اور اس کے بعد بھارت کو اس امر سے روکنے کے بجائے امریکی صدر نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ بھارت اور پاکستان کے مابین مسئلہ ہے جسے وہ مل کر حل کریں۔ گزشتہ ماہ جی سیون اجلاس کے سلسلے میں فرانس کے شہر بیارٹز میں امریکی صدر سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ملاقات کی تو اس وقت مسئلہ کشمیر پر بھی بات ہوئی، امریکی صدر نے ”کشمیر ہمارا اندرونی معاملہ ہے“ کے بھارتی مو¿قف کی نفی تو کی لیکن خود مزید کوئی کرادار ادا کرنے کے بجائے فقط یہ کہہ دیاکہ امید ہے پاکستان اور بھارت مل کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کشمیر پر ثالثی کی پیشکش دہراتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ وہ تنازع کشمیر کے حل کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے تنازع کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کے اصرار پر تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ امریکی صدر اپنی تمام تر توجہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نہیں چاہتے کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے دو جوہری طاقتیں خطے میں کسی نئی جنگ میں ملوث ہوں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر پاکستان بھارت کے ساتھ تنازعات میں الجھا رہا تو وہ افغان امن عمل میں یکسوئی سے اپنا کردار ادا نہیں کر سکے گا۔ لہٰذا صدر ٹرمپ ثالثی کی پیشکش کر رہے ہیں۔ دراصل صدر ٹرمپ اگلے سال امریکہ کے صدارتی انتخابات میں خود کو بطور اسٹیٹس مین منوانا چاہتے ہیں اور

اس کے لیے ضروری ہے کہ عالمی سطح پر کسی بڑے مسئلے کے حل کا کریڈٹ ان کے پاس ہو۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق شمالی کوریا، ایران اور دیگر ممالک کے ساتھ تنازعات کے حل میں تاحال صدر ٹرمپ کامیاب نہیں ہو سکے۔ بھارت کسی بھی ایسی ثالثی کی پیشکش کو کبھی بھی قبول نہیں کرے گا کیوں کہ یہ اس کے دیرینہ مو¿قف کی نفی ہو گی۔جی سیون ممالک میں دنیا کے اثرو رسوخ رکھنے والے ممالک شامل ہوتے ہیں ایسے میں بھارت اس موقع سے فائدہ اٹھا کر کشمیر سے متعلق اپنے بیانیے کو تقویت دینا چاہتا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی وزیراعظم نے فرانسیسی صدر سے ملاقات میں رافیل طیاروں کے معاہدے پر بھی گفتگوکی۔ عالمی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ شملہ معاہدے کے بعد سے بھارت کا یہ موقف رہا ہے کہ تنازع کشمیر میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت قابل قبول نہیں ہو گی۔ ان کے بقول پاکستان کا بیانیہ اب یہ ہونا چاہیے کہ بھارت کے حالیہ اقدامات کے بعد شملہ معاہدے کی کوئی وقعت نہیں رہی۔ دوسری جانب بھارت مسئلہ کشمیر پر بات ہی نہیں کرنا چاہتا اور جب دیگر ممالک یہ کہتے ہیں کہ دونوں ممالک بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کو حل کریں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مسئلے کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ امریکہ کی پاکستان میں تعینات رہنے والی سابق سفیر این پیٹرسن کا کہنا ہے کہ بھارت امریکہ کا خطے میں اہم شراکت دار ہے۔ امریکہ کی یہ خواہش ہے کہ بھارت خطے میں چین کے بڑھتے

ہوئے کردار کو محدود کرنے کے لیے سرگرم رہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی قیادت کشمیر کے معاملے پر بھارت کو ناراض نہیں کر سکتی۔ ان کے بقول صدر ٹرمپ بھی ایسا ہی کریں گے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ امریکہ بھارت کے چین کے ساتھ تنازعات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تاہم بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگا۔تنازع کشمیر پر چین پاکستان کے مو¿قف کا حمایتی ہے تاہم امریکہ اور دیگر عالمی قوتیں چین کے مقابلے میں بھارت کو خطے میں مضبوط دیکھنا چاہتی ہیں جس کی وجہ سے بھارت کی بین الاقوامی اہمیت بڑھ گئی ہے۔این پیٹرسن کے مطابق بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ایسے وقت میں ختم کیا ہے جب امریکہ اور طالبان کے مذاکرات حتمی مراحل میں ہیں اور اس میں پاکستان کردار نہایت اہم ہے۔ بھارت نے آرٹیکل 370 منسوخ کرنے کا اعلان سوچ سمجھ کر کیا ہے جب امریکہ اور طالبان کے مذاکرات حساس موڑ پر ہیں اور پاکستان کو اہمیت مل رہی ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ امریکہ خطے میں چین کے مقابلے میں بھارت کو مضبوط اور بااثر دیکھنا چاہتا ہے، اس لئے ہانگ کانگ اور چین کے مسئلہ پر امریکہ اس قدر سرد مہری کا مظاہرہ نہیں کر رہا جیسامسئلہ کشمیرپر کرتا آرہا ہے۔ہانگ کانگ کی تاریخ بڑی پُرآشوب ہے۔ یہ زمانہ قدیم میں جنوبی چین کا ایک شہر تھا۔ 1840ءمیں برطانیہ اور چین کے در میان طویل جنگ ہوئی جسے Opium War کہا جاتا ہے۔ برطانیہ کا چین سے مطالبہ تھا کہ Opium یعنی

نشہ آور افیون کےبدلے میں چین ہمیں مصالحہ جات اور دیگر تجارتی پراڈکٹ دے مگر چین نے انکار کر دیا۔ ان افیونی جنگوں میں برطانیہ نے چین کے شہر ہانگ کانگ پر قبضہ کرلیا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد ہانگ کانگ کافی عرصہ تک جاپان کے زیر تسلط رہا۔ 1898ءمیں برطانیہ نے 99 سالہ لیز پر ایک دفعہ پھر ہانگ کانگ کو اپنی حکومت میں شامل کر لیا جسے وائسرائے ہند کے زیرنگیں چلایا جاتا تھا۔ 1984ءمیں برطانوی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر اور چینی حکومت کے درمیان ایک جوائنٹ ڈکلیئریشن سائن کیا گیا جس میں برطانیہ اس شرط پر ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کرنے پر رضامند ہوا کہ ہانگ کانگ کی خودمختاری برقرار رکھی جائے گی۔ اس معاہدے کے تحت 99سالہ لیز پر مکمل ہونے پر 1997ءمیں ہانگ کانگ پھر چین کے پاس آگیا جسے ون کنٹری، ٹوسسٹم فارمولا کے تحت چلایا جارہا ہے جس میں ہانگ کانگ کو محدود خودمختاری حاصل ہے۔ چین نے کئی بار دھمکی دی ہے کہ وہ ہانگ کانگ پر قبضہ کر کے اسے اپنے مین لینڈ چین میں شامل کر لیں گا مگر عالمی دباﺅ کے تحت چین یہ نہیں کر سکتا۔ ہانگ کانگ کی موجودہ Status یہ ہے کہ یہ نہ تو چین کے ماتحت ہے اور نہ ہی یہ چین سے مکمل آزاد ہے۔ہانگ کانگ دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ سنگاپور ایئرپورٹ دوبئی کے بعد دُنیا کا مصروف ترین ایئرپورٹ ہے جہاں گزشتہ سال 80 ملین مسافر بطور سیاح یہاں آئے۔ چینی سیاسی طور پر کسی قیمت پر ہانگ کانگ سے دستبردار ہونے

کو تیار نہیں ہیں۔ مارگریٹ تھیچر کے ساتھ معاہدے میں یہ بھی قرار پایا تھا کہ 1997ءسے اگلے 50 سال یعنی 2047ءتک چین ہانگ کانگ کی خودمختاری کا احترام کرنے کا پابند ہے جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ہانگ کانگ پر مکمل قبضے کے لیے چین کی بے چینی بڑھتی جا رہی ہے مگر دوسری طرف ہانگ کانگ کے شہری چین کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں جیسے جموں کشمیر والے بھارت کو۔ گویا 2047ءتو بہت دُور ہے، چین اور ہانگ کانگ کا فیصلہ اس سے پہلے ہو جانا چاہئے۔ امریکہ، برطانیہ اور مغربی ممالک ہانگ کانگ میں چینی مفادات کو نقصان پہنچانے اور ہانگ کانگ میں مظاہروں کی پشت پناہی کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ امریکہ کو تجارتی جنگ میں چین سے جو شکست ہوئی ہے وہ اس کا بدلہ لینے کے لیے تلملا رہا ہے۔ اس لیے وہ ہانگ کانگ میں شورش کو ہوا دے رہے ہیں مگر میرا ذاتی خیال ہے کہ چین کو جب بھی یہ محسوس ہوا کہ معاملات اس کے قابو سے باہر ہو رہے ہیں تو کیمونسٹ پارٹی آف چائنا نے ہانگ کانگ پر قبضہ کر لینا ہے، اس کے بعد کیا ہو گا حالات کا فیصلہ وقت کرے گا۔چینی صدر شی جنگ پنگ 2012ءمیں برسراقتدار آئے تھے، ہانگ کانگ میں کئی ہفتوں سے جاری مظاہرے ان کے اقتدار کا سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ ہانگ کانگ کی آئینی سربراہ مسز کیری لامہ (Mrs Carrie Lama) چین کی منظور نظر ہیں، کوئی سربراہ چین کی آشیرباد کے بغیر عہدہ نہیں سنبھال سکتا۔حالیہ مظاہروں

کی وجہ جون میں ہونے والا ایک فیصلہ تھا جس کے تحت ہانگ کانگ میں سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو چینی حکومت کے حوالے کرنے اور چین میں ان پر مقدمہ چلانے کا قانون پاس ہوا۔ اس قانون پر ہانگ کانگ کے شہریوں کے شدید احتجاج پر معطل کرنا پڑا اور چین ایک طرح سے بیک فٹ پر چلا گیا مگر مظاہرین اب بہت آگے جا چکے ہیں۔ اب ان کے مطالبات مذکورہ قانون کے خلاف نہیں بلکہ انہوں نے اور بھی مطالبات شروع کر دیئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قانون کی عارضی معطلی کافی نہیں، اسے مستقل ختم کیا جائے۔ تمام گرفتار شہری رہا کیے جائیں اور شخصی آزادیاں بحال کی جائیں، ہمارے احتجاج کو ہنگامہ آرائی یا غیر قانونی کہنا بند کیا جائے۔ دوسری طرف چینی حکومت کہتی ہے کہ یہ لوگ غیرملکی طاقتوں کے ایما پر ایسا کر رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں طرف شدت پسندی اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔ چین نے ہانگ کانگ کی حدود سے 4 کلومیٹر کے فاصلے پر چینی شہر Shenezen میں اپنی فوج کو چوکس کر رکھا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورت میں وہاں سے 10منٹ میں ہانگ کانگ پہنچ سکے۔امریکی جریدے فارن پالیسی میگزین کے حالیہ شمارے میں مضمون شائع ہوا ہے کہ چین اپنے پاﺅں پر خود کلہاڑی مار رہا ہے۔ یہ ایک طرح کی ہائبرڈ (Hybrid) جنگ ہے جس میں سوشل میڈیا کا بے پناہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ فیس بک اور ٹویٹر نے الزام لگایا ہے کہ گوگل کے ذیلی ادارے یوٹیوب پر بہت سے پلیٹ فارم

ہانگ کانگ مظاہرین کے خلاف چینی پراپیگنڈہ میں ملوث ہیں۔ گوگل نے ایسے چینل بند کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ جنگ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی لڑی جا رہی ہے۔ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ عالمی میڈیا اور سپرپاورز کو ہانگ کانگ میں ہونے والے گزشتہ 13ہفتوں کے مظاہروں کی تو بڑی فکر ہے مگر کشمیر جہاں مسلمان کا وسیع پیمانے پر قتل عام ہو رہا ہے اس کی کسی کو فکر نہیں۔ ہانگ کانگ مظاہروں کا کشمیر کو نقصان ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہانگ کانگ کے واقعات نہ ہوتے تو اس وقت تک چین انڈیا سے لداخ چھین چکا ہوتا لیکن چین دونوں طرف بڑے تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ چین کی توجہ لداخ سے زیادہ ہانگ کانگ پر ہے کیونکہ وہاں امریکہ کھلم کھلا چین کو چیلنج کر رہا ہے۔ اس کا اندازہ آپ اس طرح کر سکتے ہیں کہ چین مخالف مظاہروں میں احتجاج کرنے والوں نے امریکی پرچم اُٹھائے ہوتے ہیں اور پلے کارڈز اور بینروں پر لکھا ہوتا ہے کہ ”ڈونلڈ ٹرمپ! ہانگ کانگ آزاد کرانے میں ہماری مدد کرو“۔ اس کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس قانون پر اعتراض کرتے ہوئے ان مظاہروں کا آغاز ہوا تھا وہ چین نے واپس لے لیا ہے مگر مظاہرین پھر بھی سڑکوں پر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب ہمارا مطالبہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کا ہے۔ یہاں الیکشن کروائے جائیں اور اقتدار جمہوری طریقے سے منتخب لوگوں کو دیا جائے، ہانگ کانگ چین کا ایک طرح سے گھر کا

پچھلا صحن یا Back Yard ہے اور چین کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کے گھر کے صحن پر امریکہ کا قبضہ ہو جائے۔ بات بہت آگے جاتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکہ کا خطے میں انڈیا کو مضبوط بنانے کا خواب بھی چین کو محدود کرنے کے لیے تھا، اب ہانگ کانگ کی شکل میں امریکہ یہ سمجھے گا کہ چین کے گھر بھی گھس چکا ہے۔ہانگ کانگ کے چین مخالف مظاہروں کے منظم ہونے کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ مظاہروں کے درمیان وہ گیس ماسک پہن لیتے ہیں اور پولیس کے لاٹھی چارج سے محفوظ رہنے کے لیے وہ جیکٹس استعمال کرتے ہیں۔ اس ہفتے انہوں نے نہایت کامیابی کے ساتھ ایئرپورٹ جانے والے روڈ اور ریل کے راستے بند کر دیئے تاکہ بین الاقوامی پروازوں میں خلل اندازی کی جا سکے۔ چین مخالف ہانگ کانگ نیشنل پارٹی کو کالعدم قرار دیا گیا تھا مگر حالیہ مظاہروں

میں اس پارٹی کے لوگ امریکی جھنڈے اُٹھا کر شرکت کرتے ہیں۔ مظاہروں کی باگ ڈور 22 سالہ نوجوان Joshua Wong کے ہاتھ میں ہے جو نوجوان نسل کے جذبات پر پٹرول چھڑکنے کا ماہر ہے لیکن ہانگ کانگ میں چین مخالف اصل طاقت وہاں کے میڈیا چینل Next Digital کے مالک Jimmi Lai ہیں، یہ امریکہ نواز ارب پتی سرمایہ کار ہے جس نے حال ہی میں امریکی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جان بولٹن سے ملاقات کے بعد وال سٹریٹ جرنل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے بہتر چین کو کوئی امریکی صدر نہیں سمجھتا کیونکہ ٹرمپ بدمعاشوں کو سمجھنے کا

ماہر ہے حالانکہ یہ خود چین میں پیدا ہوا تھا۔ Jimmy Lai نے 9 سال کی عمر میں ریلوے سٹیشن پر مسافروں کے بیگ اُٹھانے کا کام شروع کیا۔ ایک دفعہ ہانگ کانگ سے چین جانے والے ایک مسافر نے اُسے ایک چاکلیٹ دیا جس کا ذائقہ جمی کو اتنا اچھا لگا کہ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ چین سے غیرقانونی طور پر ہانگ کانگ جائے گا تاکہ خوشحال ہو سکے۔ آج وہ ہانگ کانگ کا امیرترین آدمی ہے جس نے وہاں میڈیا کے فیلڈ میں اپنی سلطنت قائم کر لی ہے۔ کپڑے کا دنیا بھر میں مقبول برانڈ Giordano بھی جمی کی ملکیت ہے۔ یہ بندہ 1989ئ، 2014ءاور 2019ءکے تمام مظاہروں کا سرغنہ ہے۔ ہانگ کانگ میں ”Daily Apple“ کے نام سے اس کا اخبار بھی ہے۔ چین کے حمایت یافتہ طبقے جو ہانگ کانگ سے تعلق رکھتے ہیں وہ جمی کو A Running Dog of USA کہتے ہیں۔اس وقت امریکی ادارہ National Endowment for Democracy یا NED جو دُنیا بھر میں حکومتوں کے تختے اُلٹنے میں بدنام ہے وہ ہانگ کانگ کو مالی امداد دے رہا ہے۔ جمہوریت کے نام پر Degime Change میں امریکہ کا کردار سارے عالم کے سامنے ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا اس دفعہ امریکہ کو ہانگ کانگ میں کامیابی ملے گی اور اگر چین ناکام ہو گیا تو اس کا ردعمل کیا ہو گا۔ ویسے چین کسی قیمت پر امریکی عزائم پورے نہیں ہونے دے گا۔مندرجہ بالابحث سے یہ بات بآسانی سمجھی جا سکتی ہے کہ امریکہ وہاں ہی سنجیدہ ہوتا ہے جہاں اس کے اپنے مفادات ہوتے ہیں، بصورت دیگر…. اوروں کو شیشیے میں اتارنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، ہانک کانگ کی خودمختار حیثیت نہ صرف قائم ہے بلکہ امریکہ واضح انداز میں اس کی مدد بھی کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے اور وہاں ظلم کا بازار گرم رکھنے والے بھارت پر امریکہ کو کوئی اعتراض نہیں۔





Source link