13

درجۂ حرارت کے ساتھ جارحیت اور تشدد میں اضافہ!


موسمیاتی تبدیلیوں کا بڑا تعلق دماغ پر ہونے والے اثرات سے بھی ہے۔ (فوٹو: فائل)

موسمیاتی تبدیلیوں کا بڑا تعلق دماغ پر ہونے والے اثرات سے بھی ہے۔ (فوٹو: فائل)

ہماری بہت پیاری اور محترم زہرہ نگاہ نے لکھا تھا کہ ’’سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے!‘‘ جی ہاں ضرور ہوتا ہے، لیکن افسوس کہ اب ہمارے شہروں میں کوئی دستور کوئی قانون موجود نہیں۔ اگر کچھ ہے تو بس جارحیت، ظلم، ناانصافی اور افراتفری۔ ایسی خبریں ملتی ہیں کہ اپنے انسان ہونے پر شرم آتی ہے۔

لوگوں کو یاد ہی ہوگا کہ چند روز قبل ایک 14 سالہ بچے کو چوری کے شبہے میں کس طرح پیٹا گیا اور صرف پیٹا ہی نہیں گیا بلکہ اس کے کپڑے اتارے گئے، وڈیو بناکر سوشل میڈیا پر ڈالی گئی اور پھر مار مار کر اسے جان سے ہی مار دیا گیا۔ ایک ذہنی مریض صلاح الدین کو پولیس پکڑ لیتی ہے، لیکن جرم ثابت ہونے سے پہلے مار مار کر اس کی ہڈیاں توڑ دیتی ہے، جلا کر کھال اتار کر بالآخر موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔ چھوٹی بچیوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی پھر قتل۔ یہ سب کیا ہے؟ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ ہم کسی پاگل خانے کے مکین ہیں، سب پاگل ہوچکے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں، ایسے لوگوں میں سے بیشتر ذہنی مریض ہیں۔ یہاں ہم کسی بھی ظلم، زیادتی کی حمایت نہیں کررہے بلکہ وہ وجوہات تلاش کرنا مقصود ہے جس کے زیر اثر معاشرے پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں گررہے ہیں۔

اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ افراتفری اور عدم برداشت صرف ہمارے معاشرے میں ہی نہیں، بلکہ کمزور معیشت اور موسمیاتی تبدیلیوں سے براہ راست متاثرہ تمام معاشرے اسی عذاب سے گزر رہے ہیں۔ انسانوں کے اس رویے کے پس پشت ایسی بہت سی کڑیاں ہیں جو مقامی سطح سے اٹھ کر عالمی مظاہر سے جڑ جاتی ہیں۔ جی ہاں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں گلوبل وارمنگ اور درجۂ حرارت کے بڑھنے سے صرف ماحول ہی نہیں، انسان کا دل و دماغ بھی متاثر ہونے لگتا ہے۔ اردگرد کی گرمی کا اثر انسان پر منفی پڑتا ہے۔ اس کا مزاج شدت پسندی کی طرف مائل ہونے اور اس کا رویہ بدلنے لگتا ہے۔ جس کا نتیجہ مار پیٹ، گھریلو تشدد، زیادتی اور کبھی کبھی قتل تک بھی بات پہنچ جاتی ہے۔ اگر مزید تجزیہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجائے گی کہ ایسے واقعات زیادہ تر گرم موسم میں رونما ہوتے ہیں۔

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کی براہ راست زد میں ہے۔ معاشی اعتبار سے اور اگرحقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی سے بڑا خطرہ کلائمیٹ چینج سے لاحق ہے۔ سیلاب، خشک سالی، سمندری طوفان، تیز اور بے ترتیب بارشیں، غرض یہ کہ ہمیں ہر طرح کے خطرات لاحق ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کے نتیجے میں تشدد اور جارحیت بڑھ رہی ہے لیکن اس پر کسی کی توجہ نہیں۔ کیونکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے سائنس داں، ماحولیاتی ماہرین اور معیشت داں اور صرف ہمارے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں ماحول کی تباہی یا کسی معاشرے کو کلائمیٹ چینج سے پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ صرف معیشت کی کسوٹی پر پرکھ کر ہی لیا جاتا ہے۔ کسی بھی قدرتی آفات کے نتیجے میں پھیلنے والی تباہی کو پیسے اور ڈالروں میں تولا جاتا ہے لیکن اس تباہی سے جو نقصان انسان کے دل و دماغ اور ذہن کو پہنچتا ہے، وہ نقصان کسی ریسرچ پیپر یا کسی سائنسی مقالے میں نظر نہیں آتا۔

مثلاً سیلاب میں ہم گن لیتے ہیں کہ کتنے پل منہدم ہوئے، کتنی سڑکیں ٹوٹیں اور کتنے گھر مسمار ہوئے۔ اسے فوراً روپوں میں تبدیل کرکے نقصان کا اندازہ لگالیا جاتا ہے۔ لیکن ان گھروں میں رہنے والوں پر کیا بیتی؟ اپنے پیاروں کے بچھڑنے، گھروں کے اجڑنے اور سینت سینت کر رکھی جمع پونجی سے محرومی کے خوف نے ان کے دل ودماغ پر کیا اثر ڈالا، یہ کسی کو نظر نہیں آتا۔ یہ نقصان کسی ریسرچ پیپر یا کسی سائنسی مقالے کا حصہ نہیں بنتا۔ یہ نقصان بعد ازاں ایسی محرومی کو جنم دیتا ہے جس سے لڑتے لڑتے انسان جارح اور متشدد ہوجاتا ہے اور پھر معاشرے میں ایسے ہی واقعات جنم لیتے ہیں جن کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی یاد رکھا جائے کہ جارح اور متشدد افراد دراصل مریض ہوتے ہیں، جو مرض بڑھنے پر اپنی جان بھی لے لیتے ہیں۔ اپنے اردگرد نظر رکھیں اور ایسے لوگ نظر آئیں تو ان کے گھر والوں کو علاج کے حوالے سے متوجہ کیا جائے۔

آئیے اس حوالے سے ایک تحقیق کا جائزہ لیتے ہیں، جس میں اس مسئلے پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔

یہ ریسرچ پیپر Non-Economic Loss & Damage: Exploring the Mental Health Impact of Climate Change کے نام سے شائع ہوا ہے اور اس کے مصنف اور محقق ہیں بشارت سعید ہیں، جو لیڈ پاکستان میں کلائمیٹ چینج کوآرڈینیٹر ہیں۔ یہ تحقیق ایک این جی او ’’ لیڈ پاکستان‘‘ کے زیر اہتمام شائع ہوئی ہے۔ لیڈ پاکستان کے سابق سربراہ علی توقیر شیخ کے مطابق یہ دنیا بھر میں پہلی تحقیق ہے جس میں کلائمیٹ چینج سے انسان کے دماغ اور احساسات کو پہنچنے والے نقصانات پر بات کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نقصانات دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک تو فوری طور پر وقوع پذیر ہوتے ہیں، جیسے سیلاب آگیا تو اس سے ہونے ولے نقصانات فوراً نظر آجاتے ہیں، لیکن کچھ نقصانات دھیرے دھیرے ہوتے ہیں جو دماغ کو پہنچتے ہیں، جن میں خوف، ڈپریشن اور دیگر امراض شامل ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق کلائمیٹ چینج سے لاحق اہم اور بڑے خطرات مثلاً سیلاب اور خشک سالی سے ہونے والے نقصانات میں معاشی نقصانات کا تخمینہ لگانا بہت آسان ہے۔ مثلاً بہت آسانی سے گنا جاسکتا ہے کہ کتنے گھرمنہدم ہوئے، کتنے پل گرے، کتنی سڑکیں تباہ ہوئیں۔ ان کی مالیت کیا تھی۔ زراعت میں کیا کیا نقصانات ہوئے، کون کون سی فصل کتنے من یا ٹن تباہ ہوئی وغیرہ۔ مگر اس کا تخمینہ لگانا آسان نہیں کہ اس صورت حال میں لوگوں کے ذہنوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے، وہ کتنے خوف زدہ ہوئے، کتنے ڈپریشن اور تیزابیت کا شکار ہوئے، خوشیوں سے کتنے دور ہوئے۔

علی توقیر شیخ کے مطابق کلائمیٹ چینج اور دماغی صحت کے حوالے سے اگر تعلق جوڑا جائے تو درجۂ حرارت کا بڑھنا اور جارحیت میں براہ راست تعلق بنتا ہے۔ گرمی کی شدت ماحول میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ اردگرد کی گرمی دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے اور ایک چڑچڑاپن، فرسٹریشن اور جارحیت انسان میں پیدا ہونے لگتی ہے، جس کا نتیجہ گھریلو تشدد بعض اوقات، جنسی زیادتیاں، خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانا اور اس کی انتہا خودکشی پر جاکر منتج ہوتی ہے۔

پاکستان کے نامور آبی ماہر خالد مہتداللہ کے الفاظ میں ’’ آپ اسے اہمیت نہیں دیتے جسے ناپ یا گن نہ سکیں۔‘‘ گویا دنیا کی نظر میں نقصان صرف وہی ہے جسے کرنسی میں تبدیل کرکے دیکھا جاسکے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل سینڈل کے مطابق ’’ہم دراصل مارکیٹ سوسائٹیز ہیں اور مارکیٹ میں ہر شے یا تو خریدی جاتی ہے یا فروخت کی جاتی ہے۔ گویا بازار میں ایسی کوئی شے اہمیت نہیں رکھتی جو کرنسی کی کسوٹی پر پرکھی نہ جاسکے۔‘‘

دماغی صحت اور کلائمیٹ چینج کے درمیان تعلق کو واضح کرنے کےلیے سائنس اور جذبات و احساسات کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ اگر صرف سائنس کو اہمیت دی گئی تو بات بنے گی نہیں۔ ترقی یافتہ معاشروں میں تو رائج ہے کہ آفت زدہ لوگوں کو ماہر نفسیات سے علاج کروایا جاتا ہے مگر ہمارے معاشرے میں اب بھی یہ معیوب بات سمجھی جاتی ہے۔ بشارت سعید جو اس تحقیقی مقالے کے مصنف ہیں، کے مطابق قدرتی آفات سے دوچار لوگوں کی اگر ذہنی صحت خراب ہے تو آپ انہیں کتنی ہی نوکریاں دے دیں، مالی امداد دے دیں، لوگوں کو فرق نہیں پڑے گا، ان کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ان کے مطابق ذہنی صحت اور کلائمیٹ چینج میں براہ راست اور بالواسطہ دونوں حوالوں سے تعلق موجود ہے۔ براہ راست تبدیلیوں میں فوراً ہونے والے نقصانات شامل ہیں، جبکہ بالواسطہ نقصانات میں ذہنی اور دماغی امراض شامل ہیں، جن کے اثرات دھیرے دھیرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔

کلائمیٹ چینج یا آب و ہوا کی تبدیلی نامی بلا نے پاکستان کا رخ کر رکھا ہے اور عالمی ادارے اسے خطرے کی زد میں آنے والے ممالک میں ٹاپ ٹین میں بتا رہے ہیں۔ ایک بین الاقوامی ادارے (تھنک ٹینک) جرمن واچ کے مطابق آب و ہوا کی تبدیلی سے لاحق خطرات کی زد میں آنے والے ممالک میں پاکستان ساتویں نمبر پر ہے، لیکن اسے آپ پہلا نمبر ہی سمجھیے۔ کیونکہ پہلے چھ نمبروں پر جو ممالک موجود ہیں وہ ہیٹی، فجی اور زمبابوے وغیرہ جیسے ملک ہیں اور ان کی کل آبادی شاید کراچی کی آبادی سے بھی کم ہو۔ گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان ہی پہلے نمبر پر ہے۔ جرمن واچ ہی کے مطابق پچھلے بیس سال میں پاکستان کی معیشت کو 3.8 بلین ڈالرز کا نقصان پہنچا ہے، یعنی 0.6 فیصد جی ڈی پی کا۔ اور پاکستان نے جو جانی نقصان بھگتا ہے، وہ علیحدہ ہے۔ اسی ادارے کے مطابق اوسطاً سالانہ 523.1 اور بیس سال میں 10,642 جانیں ضائع ہوئیں۔

ان ہی بیس سال میں پاکستان نے آب و ہوا کی تبدیلی سے پیش آنے والی 141 آفات برداشت کیں، جن میں سیلاب، خشک سالی، بے موسم شدید بارشیں، برف باری کے طوفان، گلیشیئرز کی جھیلوں کا پھٹنا (Glacial Lake Outburdt Floods (GLOF اور درجۂ حرارت کا بڑھنا (Heat waves) وغیرہ شامل ہیں۔

 

تھرپارکر میں خشک سالی اور ڈپریشن کے اثرات

اس تحقیق کے حوالے سے اگر تھرپارکر کا جائزہ لیں تو بہت سی پیچیدہ گتھیاں سلجھتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت نے تھرپارکر جیسے قحط سالی کے شکار علاقے میں مزید تباہی پھیلا دی ہے۔ کلائمیٹ چینج سے ہونے والی مسلسل خشک سالی کم از کم 42 میں سے 30 خودکشیوں کی وجہ ہے۔

انسانی ترقیاتی اشارے ( Human Development Index) میں سندھ کے ضلع تھرپارکر کو اس کی غربت اور پسماندگی کے باعث سب سے نچلا درجہ دیا گیا ہے۔ سندھ ریلیف ڈپارٹمنٹ کے مطابق اس ضلع کو خشک سالی کے حوالے سے آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔ 1986 سے 2012 کے درمیان یہ ضلع کوئی 13 بار مختلف قسم کی آفات سے دوچار ہوا، جس میں خشک سالی اولین نمبروں پر رہی۔ جبکہ ان میں سے 5 آفات 2001 سے 2012 کے درمیان آئی ہیں۔ 2012 سے لے کر اب تک تھرپارکر نے متواتر تین بار شدید خشک سالی کا مقابلہ کیا ہے، جس کا سبب یقیناً کلائمیٹ چینج ہے۔ ایک ایسے علاقے میں جہاں غربت پہلے ہی عروج پر ہو، زندگی گزارنے کےلیے گزربسر چھوٹی موٹی زراعت اور مویشی بانی پر ہو اور تمام دارومدار بارشوں کے پانی پر ہو، وہاں باران رحمت منہ موڑ لے اور چاروں جانب خشک سالی چھا جائے تو پھر جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا ایک معجزہ ہی ٹھہرتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں 2011 سے اب تک خودکشیوں کے 130 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ جبکہ صرف 2014 میں خودکشی کے 42 دلخراش واقعات ہوئے۔ یعنی 2011 (24 کیس) کے مقابلے میں 75 فیصداضافہ ہوا۔ ایک این جی او اویر (AWARE) کے جمع کردہ اعدادوشمار کے مطابق خشک سالی کے دنوں میں خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوتے دیکھا گیا۔

اور اب اس بات کو ماننے کےلیے کسی ماہر کی ضرورت نہیں کہ خودکشیوں کی وجہ میں یقیناً غربت، بے روزگاری اور دیگر سماجی اور معاشی دبائو کا بڑا ہاتھ ہوگا۔ لوگ ذرائع روزگار نہ ہونے کے باعث قرض لے لیتے ہیں جس کا دبائو بھی ذہن پر پڑتا ہے، پھر چونکہ قرض وقت پر ادا نہیں ہوپاتا تو یہ دبائو اور بڑھ جاتا ہے۔ نوکری یا زراعت ختم ہوجانے اور حالات خراب ہونے پر اپنے خاندان کے سامنے اپنے ناکارہ ہونے کا احساس بڑھتا ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ ان مذکورہ مسائل سے مریضوں میں ڈپریشن، تیزابیت اور خودکشی کا رحجان بڑھتا ہے۔

لیڈ پاکستان کے جمع کردہ اعدادوشمار کے مطابق تھرپارکر میں 250 گھروں کا سروے کیا گیا تھا۔ ان میں سے 31 فیصد افراد نے کہا کہ وہ انتہائی درجے کے ڈپریشن سے گزر رہے ہیں۔ 6 فیصد نے کہا کہ وہ بہت بے چارگی کے احساسات سے گزر رہے ہیں۔ جبکہ 67 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ خشک سالی کا اثر ان کی نفسیات، سماج اور ثقافت پر بدترین ہوا ہے۔ 70 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ اس خشک سالی کے دائرے سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکتے۔ جبکہ 89 فیصد افراد کہنا تھا کہ مشکل وقت میں کوئی رشتے دار، کوئی دوست یا کوئی ادارہ ان کی مدد کو نہیں آیا۔ یہ احساسات مستقبل کے حوالے سے خوف کو بھی جنم دیتے ہیں۔

قدرتی آفات میں جو سب سے بڑا عذاب انسان بھگتتا ہے، وہ اس کے آبائی علاقوں سے دور ہوجانا ہے۔ لیکن دماغی امراض کی ایک کیفیت ایسی بھی ہے جس میں انسان اپنی جگہ سے دور نہیں ہوتا لیکن محسوس ایسا ہی کرتا ہے۔ اس کیفیت کےلیے بشارت سعید نے ایک لفظ solastalgia استعمال کیا، جس کی تشریح انہوں نے اس طرح کی کہ اگرچہ متاثرہ انسان اپنی جگہ موجود ہوتا ہے مگر چونکہ اس کے اردگرد کی اشیا جن سے اس کی وابستگی تھی وہ تباہ ہوجاتی ہیں، درخت پیڑ پودے، فصلیں، مویشی یہ سب اس سے چھن جاتے ہیں تو وہ solastalgia کی حالت میں چلا جاتا ہے، جو دماغی امراض کی ایک شدید شکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تھر میں لوگوں نے بتایا کہ پہلے بڑا جوش و خروش تھا لیکن اب نہیں رہا، کسی بات سے خوشی نہیں ہوتی، جینے کی امنگ ختم ہوگئی ہے۔

اس تحقیق کے سامنے آنے سے یہ بات تو طے ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا بڑا تعلق دماغ پر ہونے والے اثرات سے بھی ہے۔ لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ ہم ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے دماغی اور ذہنی اثرات پر بھی بات کریں۔ حکومت اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے، اسپتال اس حوالے سے اپنے شعبے ترتیب دیں اور اپنے کام کو دیہاتوں تک لے جائیں۔ حکومت اب کوشش کررہی ہے کہ قدرتی آفات کا شکار لوگوں کےلیے انشورنس کی سہولت فراہم کی جائے تو اس کا دائرہ دماغی اثرات تک بھی بڑھایا جائے۔ اس کے علاوہ اس موضوع پر اب ذرائع ابلاغ میں بھی بات ہونی چاہیے تاکہ عوام کو شعور اور آگاہی حاصل ہے۔

یاد رہے کہ ہم صحت پر سالانہ بجٹ کا ایک فیصد خرچ کرتے ہیں اور اس میں بھی دماغی امراض کےلیے کوئی خاص حصہ نہیں ہوتا۔ کسی ماہر نفسیات تک پہنچنا ہمارے معاشرے میں کس قدر مشکل ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ یہاں دس لاکھ لوگوں کےلیے ایک ماہر نفسیات ہے اور جو ہیں وہ بھی شہروں میں موجود ہیں اور ہماری 70 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہے۔ یہ بھی یاد رکھا جائے کہ آفات کا شکار زیادہ تر دیہی اور غریب لوگ ہی ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں جلد اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔





Source link