11

وفاقی وزیر قانون کا کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا مطالبہ | پاکستان


وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم— فوٹو اے پی پی 

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کراچی میں گندگی کی ابتر صورتحال کے پیش نظر وفاق کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ کراچی کا انتظامی کنٹرول سنبھالے۔

 وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کراچی میں آئین کے آرٹیکل 149 (4) کے نفاذ کی تجویز پیش کی اور کہا کہ اس کے تحت وفاقی حکومت کراچی کے لیے احکامات جاری کرسکتی ہے ۔

فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی لگائے بغیر اس آرٹیکل سے انتظامی امور چلائے جاسکتے ہیں یہ غیر آئینی اور غیر جمہوری نہیں۔

 فروغ نسیم نے آرٹیکل 149 کی نفاذ تجویز پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ وزیر اعظم کے ساتھ سندھ اسمبلی تحلیل کرنے یا گورنر راج کی بات نہیں ہو رہی۔ 

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ وزیر اعظم کی کراچی کمیٹی غور کے بعد تجویز وزیر اعظم کو بھیج سکتی ہے معلوم نہیں وفاقی حکومت یہ تجویز مانے گی یا نہیں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ میرا ذاتی مؤقف ہے، تمام تجزیہ کراچی کمیٹی کے سامنے رکھوں گا تاہم کراچی کے انتظامی امور سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کمیٹی کرے گی۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ کراچی میں 11 برسوں میں صرف کچرا اور پانی کے مسائل نے جنم لیا ہے جس کے حل کے لیے تحریک انصاف اور ایم کیو ایم ایک پیج پر ہیں۔

سندھ حکومت 1 سال سےکھٹک رہی ہے ان کو صوبائی حکومت برداشت نہیں: سعید غنی

دوسری جانب وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے فروغ نسیم کی تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 149 میں ایسا کوئی اختیار نہیں کہ وفاق صوبائی حکومت سےکنٹرول لے۔

سعید غنی نے وفاقی وزیر قانون کی تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو وفاق کےماتحت لانےکو کچھ نہ ملا تو یہ آرٹیکل 149 نکال کرلےآئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں سندھ حکومت 1 سال سےکھٹک رہی ہے ان کو صوبائی حکومت برداشت نہیں جب کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال زیادہ خراب ہے وہاں 149 کا نفا ذیادہ بہتر ہے۔

وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کو ہدایات دے سکتی ہے لیکن سندھ کےلوگ بھی اس ملک کا حصہ ہیں ان کا مینڈیٹ تسلیم کیا جانا چاہیے۔

وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ امن وامان کی صورتحال یا معیشت کونقصان ہونےکی صورت میں آرٹیکل 149کام میں لایا جاسکتا ہے لہذا کچرا، سیوریج، اس طرح کے دیگر مسائل آرٹیکل 149 کے زمرے میں نہیں آتے۔





Source link