19

پہلی بار قابلِ رہائش سیارے میں پانی کے آثار دریافت | سائنس و ٹیکنالوجی


خلاء نوردوں کو ایک دور دراز کے ستارے K2-18 کے مدار میں قابل رہائش فاصلے پر گردش کرتے سیارے K2-18b کی فضاء میں پانی کی موجودگی کے آثار ملے ہیں— فوٹو: یورپین اسپیس ایجنسی

خلائی تحقیق میں مصروف سائنسدانوں کو کسی دوسرے سیارے میں پانی کی موجودگی کی کھوج میں بڑی پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔

خلاء نوردوں کو ایک دور دراز کے ستارے K2-18 کے مدار میں قابل رہائش فاصلے پر گردش کرتے سیارے K2-18b کی فضاء میں پانی کی موجودگی کے آثار ملے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق خلائی سائنسدان طویل عرصے سے یہ بات جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ کیا اس کائنات میں ایسا کوئی اور سیارہ بھی موجود ہے جہاں زندگی موجود ہے یا پھر ہماری زمین ہی سب سے انوکھی ہے۔

اب پانی کی موجودگی ثابت ہونے کے بعد k2-18b خلاء میں زندگی کی تلاش کیلئے کی جانے والی تحقیق کے حوالے سے انتہائی اہم سیارہ بن گیا ہے۔

یہ تفصیلات سائنسی جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئیں جس میں کہا گیا ہے کہ آئندہ 10 برسوں کے دوران جدید خلائی ٹیلی اسکوپس کے وجود میں آنے کے بعد سائنسدان اس قابل ہوسکیں گے کہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ مذکورہ سیارے کی فضاء میں وہ گیسز موجود ہیں یا نہیں جو محض جاندار خارج کرتے ہیں۔

K2-18b پر ہونے والی تحقیق کی سربراہ پروفیسر جیووانا ٹینیٹی، جن کا تعلق یونیورسٹی کالج لندن سے ہے، انہوں نے اس کھوج کو حیران کن قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ‘ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ہمیں ایک ایسے سیارے میں پانی کے آثار ملے ہیں جو اپنے ستارے سے قابل رہائش فاصلے پر چکر لگارہا ہے اور جہاں کا درجہ حرارت بھی ایسا ہے جو جانداروں کے لیے موافق ہوتا ہے’۔

خیال رہے کہ ماہرین کی ایک ٹیم 2016 سے 2017 کے دوران حبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے دریافت ہونے والے سیاروں پر تحقیق کررہی ہے تاہم ان میں سے صرف k2-18b ہی واحد سیارہ ہے جس میں پانی کے آثار ملے۔

حاصل شدہ ڈیٹا کے کمپیوٹرائزڈ خاکے سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ سیارے کے کرہ ہوائی میں 50 فیصد تک پانی موجود ہوسکتا ہے۔

یہ سیارہ زمین کے حجم سے دو گنا بڑا ہے اور یہاں کا درجہ حرارت صفر سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہے، اس درجہ حرارت میں سیارے میں پانی مائع حالت میں موجود ہونے کے قوی امکانات ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم کے ایک رکن ڈاکٹر اینجیلوس سیارس کا کہنا ہے کہ نظام شمسی سے باہر کسی سیارے میں پانی کا ملنا انتہائی اہم اور پرجوش لمحہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کھوج نے ہمیں اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے مزید قریب پہنچادیا ہے کہ ‘کیا ہماری زمین سب سے منفرد ہے؟’

ان کا کہنا ہے کہ k2-18b میں زندگی ہوسکتی ہے تاہم فی الحال یہ بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی۔

خارجی سیارے کیا ہوتے ہیں؟

پہلا خارجی سیارہ 1992 میں دریافت ہوا تھا جو اپنے ستارے ‘پلسر’ کے مدار میں چکر لگارہا ہے— فوٹو: فائل

وہ سیارے جو ہمارے نظام شمسی کا حصہ نہیں اور کسی دور دراز کے اپنے ستارے کے مدار میں چکر لگاتے ہیں انہیں خارجہ سیارے کہا جاتا ہے۔

پہلا خارجی سیارہ 1992 میں دریافت ہوا تھا جو اپنے ستارے ‘پلسر’ کے مدار میں چکر لگارہا ہے۔ پلسر ایک نیوٹرون اسٹار ہے جو الیکٹرومیگنیٹک تابکاری خارج کرتا ہے۔

اب تک مختلف طریقوں کو استعمال کرکے تقریباً 4 ہزار کے قریب خارجی سیارے دریافت کیے جاچکے ہیں۔

ان میں سے بیشر سیارے بہت بڑے ہیں اور انہیں نظام شمسی کے سیارے مشتری اور نیپچون سے مشابہہ قرار دیا جاتا ہے۔

متعدد بڑے سیاروں کو اپنے ستارے سے بہت قریب مدار میں چکر لگاتے ہوئے پایا گیا ہے۔

کسی بھی سیارے میں زندگی گزارنے کیلئے ضروری ہے کہ وہ سیارہ اپنے ستارے سے معقول فاصلے پر ہو، اس میں پانی موجود ہو، وہ بہت زیادہ ٹھنڈا یا گرم نہ ہو۔

K2-18b زمین سے کتنا دور ہے؟

امریکی خلائی ایجنسی ناسا 2021 میں ‘جیمز ویب ٹیلی اسکوپ’ لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس سے سائنسدانوں کو اب تک دریافت ہونے والے سیاروں کو مزید قریب سے دیکھنے کا موقع مل سکے گا— فوٹو: فائل

K2-18b سال 2015 میں دریافت ہوا تھا اور یہ اپنے ستارے کے گرد ایک چکر 33 دنوں میں مکمل کرتا ہے۔

یہ زمین سے تقریباً 111 نوری سال (650 ملین ملین میل) دور ہے، یہ فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ فی الحال اس سیارے پر کوئی تحقیقی مشن نہیں بھیجا جاسکتا۔

اس سیارے کی مزید تحقیق کا ایک ہی آپشن ہے اور وہ یہ کہ اسپیس ٹیلی اسکوپس کے اگلے جنریشن کا انتظار کیا جائے جو 2020 میں متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا 2021 میں ‘جیمز ویب ٹیلی اسکوپ’ لانچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس سے سائنسدانوں کو اب تک دریافت ہونے والے سیاروں کو مزید قریب سے دیکھنے کا موقع مل سکے گا۔





Source link