14

پی ٹی آئی رہنما کے بھتیجے اور کزن نے اصل کہانی سامنے رکھ دی – Hassan Nisar Official Urdu News Website


پشاور(ویب ڈیسک) بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست کرنے والے پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے کے کزن اور بھتیجے کا ردعمل سامنے آگیا۔ سابق سینیٹر امرجیت سنگھ ملہوترا نے اپنے کزن بلدیوکمار کی بھارت منتقلی کی وجوہات کو ذاتی قرار دیا ہے۔ جیو نیوز سے گفتگو میں امرجیت سنگھ ملہوترا نے کہاکہ بلدیو کمار


کی بیوی بھارتی شہری ہے ،جو 6 ماہ پہلے بھارت گئی تھی ،وہ اب واپس نہیں آرہی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلدیو کمار بھارت میں سیاسی پناہ کی بات سستی شہرت اور شہریت کے لیے کررہا ہے۔بلدیو کمار کے بھتیجے راہول کمار نے بھی کہا کہ ہم پاکستان میں بہت خوش ہیں اور آرام سے اپنا کارروبار کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پتہ نہیں چاچو بلدیو کمار یہ سب باتیں کیوں کررہے ہیں۔واضح رہے کہ بلدیو کمار کو عدم ثبوت کی بنا پر سورن سنگھ کے قتل کے مقدمے سے بری کردیا گیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی بلدیو کمار نے اہل خانہ کے ہمراہ بھارت میں سیاسی پناہ کی درخواست دے دی۔ بلدیو کمار خیبر پختونخواہ اسمبلی میں باری کوٹ سے ریزرو سیٹ پر ممبر صوبائی اسمبلی رہ چکے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں پر ظلم ہورہا ہے۔ بلدیو کمار نے کچھ ماہ پہلے اپنی فیملی کو پاکستان سے لدھیانہ میں اپنے رشتہ داروں کے پاس کھنہ شہر بھیج دیا تھا اور وہ خود 12 اگست کو 3 ماہ کا ویزہ لے کر بھارت چلے گئے تھے تاہم اب ان کا پاکستان واپس آنے کا ارادہ نہیں ہے۔ بلدیو کمار کے مطابق ان پر 2016ء میں ان کے حلقہ کے ممبر اسمبلی سردار سورن سنگھ کے قتل کا جھوٹا الزام لگایا گیا تھا جس کے بعد 2 سال تک انہیں جیل میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہندو اور سکھ لیڈروں کا قتل کیا جارہا ہے اور میں یہاں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے سیاسی پناہ کی درخواست کروں گا۔ بلدیو کمار کا کہنا تھا کہ انہیں عمران خان صاحب سے بہت امیدیں وابستہ تھیں تاہم وزیر اعظم منتخب ہونےکے بعد سے وہ کافی بدل گئے ہیں۔









Source link