11

کشمیر کا مسئلہ کیسے حل ہو سکتا ہے ۔۔۔۔؟ پیر پگاڑا نے حل پیش کر دیا


کراچی(ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ اور حروں کے روحانی پیشوا پیر صاحب پگارا نے کہا ہے کہ کشمیر صرف پاکستان کا نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے، اقوام متحدہ کی قراردادیں کشمیر کو ایک متنازعہ اور قابل حل مسئلہ سمجھتی ہیں،بھارت من مانی کرتے ہوئے کشمیری عوام کو محکوم نہیں بنا سکتا۔


کنگری ہاؤس پر پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے جنرل سیکریٹری سردار عبدالرحیم اور رابطہ سیکریٹری عبدالکریم شیخ سے ملاقات اور یوم سیاہ کے موقعی پر ان کے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندہ تے ہوئےپیر صاحب پگارا نے کہا کہ ہندستان من مانی کرتے ہوئے کشمیری عوام کو محکوم نہیں بنا سکتا،بنیادی انسانی حقوق کی تنظیموں کو کشمیر میں غارت گری اور جبر کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔پیر صاحب پگارا نے کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ دنیا بھر میں زیادتیاں ہورہی ہیں اور ان کے بنیادی حقوق پائمال کیے جارہیں ہیں لیکن بھارت کشمیر میں جو بربریت دکھا رہا ہے پوری انسانیت اس پر شرمندہ ہے۔پیر صاحب پاگارا نے کہا کہ پاکستانی قوم اپنے کشمیری بہائیوں کے ساتھ مکمل طور پر شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ہم وقت آنے پر کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق لندن میں قائم جموںو کشمیرکونسل برائے انسانی حقوق کے صدر ڈاکٹر نذیر گیلانی نے حکومت پاکستان اور وزیر اعظم عمران خان سے جموںو کشمیر میں اقوام متحدہ کی فورسزکی تعیناتی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سید نذیر گیلانی نے لندن سے جاری ایک بیان میں حکومت پاکستان کو بھارت کی طرف سے اپنے آئین کی دفعہ 370 اور 35A کی منسوخی کے حالیہ غیر قانونی اقدامات کے تناظر میں فوری طور پرمقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی فورسز کی تعیناتی کی اپنی تجویز جو پاکستان نے جنوری1957ء کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 761ویں اجلاس میں دی تھی کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل پراس سلسلے میں زور دینا چاہیے ۔


انہوں نے جنوری1957ء میںاقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے 761ویں اجلاس میںپاکستان کی طرف سے جموںو کشمیر میں اقوام متحدہ فورسز کی تعیناتی کی تجویز پر فلپائن کے مندوب کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلپائن کے مندوب نے کہا تھا کہ جموںوکشمیر کو محفوظ اور داخلی امن کو یقینی بنانے کے عمل کو اقوام متحدہ کی فورسز کو فوری طورپر سونپ دینا چاہیے ۔ڈاکٹر نذید گیلانی نے کہا کہ رواں سال 5اگست کو بھارتی حکومت کی طرف سے لداخ اور جموںو کشمیر کو بھارتی یونین کے دو الگ علاقے قرار دینا نہ صرف اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی 30جنوری 1951کی قرار داد بلکہ ڈوگرہ مہاراجہ اور بھارت کے گورنر جنرل کے درمیان 27اکتوبر1947ء کے معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ بعد ازا ں بھارت اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کیلئے 15جنوری1948ء کو اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل میں اپنے اس عارضی الحاق سے بھی دستبرداروہ گیا تھا جس کے بعد سے بھارت کے جموںو کشمیر سے عارضی الحاق کی نوعیت یکسر بدل چکی ہے جیسا کہ 20فروری 1957ء کو سیکورٹی کونسل کے 773ویں اجلاس کی کارروائی کے پیرا46 میں وضاحت کی گئی ہے۔ جموں و کشمیرکونسل برائے انسانی حقوق کے صدر نے کہاکہ بھارت کے یکطرفہ اقدام کا مقصد جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر کے 92سال پرانے ریاست میں شہریت کے قانون کو ختم کرکے وہاںآباد ی کے تناسب کو بگاڑنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان دفعات کی منسوخی اور جنگی صورتحال اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرار دادوںاورتمام دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ اپنے چارٹر کے آرٹیکل 103کو ان تمام معاہدوں پر ترجیح دی جائے ۔








Source link