18

کوچۂ سخن – ایکسپریس اردو


کہتے ہیں جذبات کو تصور، تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے فوٹو: فائل

کہتے ہیں جذبات کو تصور، تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے فوٹو: فائل

غزل


ملتا نہیں ہے کوئی بھی رستہ فرار کا
سارا حصار توڑ دیا میں نے پیار کا
شاید اسی لیے تو ہے پتھرا گئی نظر
انداز دل خراش تھا ہر ایک وار کا
اقرار کی امید لگی جب سے دل کو ہے
رستہ نیا بھی دیکھ لیا اس دیار کا
جو بھی کیا عطا وہی میرا نصیب تھا
ممنون ہوں ہر حال میں پرورد گار کا
چل چھوڑ دل کو جھوٹی تسلی ابھی نہ دے
اب منتظر نہیں یہ کسی غم گسار کا
سبطِ علی صبا نہیں فرخ علی ہوں میں
ملحوظ احترام ہے ان کے وقار کا
(سید فرخ علی جواد۔ لاہور)

۔۔۔
غزل


صبر کر پچھتا نہ اب اے جانِ من کوئی نہیں
زندگی میں ری پلے کا آپشن کوئی نہیں
خط بھی اوروں کے توسط سے پہنچتے ہیں مجھے
مجھ مسافر سے زیادہ بے وطن کوئی نہیں
مسئلہ فن کار کی عزت کا تھوڑی ہے یہاں
بے ہنر کے پاس بھی تو اور فن کوئی نہیں
اس کے اترن بھی مکمل جسم ہیں اپنی جگہ
ان بھری الماریوں میں پیرہن کوئی نہیں
خواب کی آسائشوں نے کردیا غافل ہمیں
پتھروں پر سو رہے ہیں اور چبھن کوئی نہیں
ہر کسی کے واسطے محبوب کا نعم البدل
سچ کہوں تو چاند جیسا بدچلن کوئی نہیں
(اظہر فراغ۔ بہاولپور)

۔۔۔
غزل


مادہ پرست دور ہے اور شہرِ دوستاں
میں کب ہوں، کوئی اور ہے اور شہرِ دوستاں
پارہ مزاج آسماں، آتش مزاج میں
شعلہ مزاج شور ہے اور شہرِ دوستاں
آواز کی طلب نہیں، تنہائی کے سبب
پھر خواہشوں کی گور ہے اور شہرِ دوستاں
اک عالمِ خراب کے ہم راہ چل پڑا
غوغائے چور چور ہے اور شہرِ دوستاں
پیہم ہوں اس کے ساتھ مگر چھو بھی نہ سکوں
وہ لمحۂ سمور ہے اور شہرِ دوستاں
چائے ہے میرے سامنے اور میں کہیں ہوں اور
ہر پل لگے کٹھور ہے اور شہرِ دوستاں
فتہ فساد، اشک گری چھوڑ دوں مگر
کب خود پہ چلتا زور ہے اور شہرِ دوستاں
(انیس احمد ، لاہور)

۔۔۔
غزل


اب پرندوں میں ڈر ہے خون نہیں
اے خدا! رحم، شب شگون نہیں
ہم پتنگوں کا اپنا رونا ہے
روشنی ہے مگر سکون نہیں
سانس کیا موت ہی نہیں جن کو
خون ہی کیا جسے جنون نہیں
آدمی کرب کے کھلونے ہیں
یہ ہنسی والے کارٹون نہیں
اس میں خطرے کی کوئی بات نہیں
آسماں کے اگر ستون نہیں
(راشد امام۔ حافظ آباد)

۔۔۔
غزل


خواب دیدۂ مہتاب میں رکھا ہوا ہے
اک جہاں ہے جو گرداب میں رکھا ہوا ہے
اس کے جسم کی ہر قوس نشیلی سی ہے
اک سبھاؤ ہے، مے ناب میں رکھا ہوا ہے
چاندنی تو اتر آئی ہے ان کے رُخ پر
چاند کو میں نے آداب میں رکھا ہوا ہے
عزمِ سجدہ سے بولنے لگتا ہے وہ اب
کیا جنوں تو نے محراب میں رکھا ہوا ہے
شوقِ وصل میں مقبول لیے پھرتا ہوں
یہ فسوں بھی تو اسباب میں رکھا ہوا ہے
(سید مقبول حسین۔ راولپنڈی)

۔۔۔
غزل


آنکھ جب صفِ ماتم کو عبور کرتی ہے
تو عزا کی سب زنجیریں کافور کرتی ہے
آگہی معلم رہتی ہے مدتوں اپنی
پھر کہیں غزل کاغذ پر ظہور کرتی ہے
اک قلم لیے اپنی ہی بچار میں گم ہوں
ہمسری جسے چاہے مجھ سے دور کرتی ہے
سر کشی زمانے میں اب کہاں رہی تہمت
حل یہی تو میرے سارے امور کرتی ہے
آج اک کہانی اُس کو سنا دی کہ جس سے
ایک بات کی مہلت جسم طور کرتی ہے
دل تو اک مقدس سی بارگاہ ہے ساگر
بے چراغ شب یہ ہی نور نور کرتی ہے
(ساگر حضورپوری۔ حضور پور، سرگودھا)

۔۔۔
غزل


گیسوئے یار کے خم پہ جاں گنوائی ہے
رسمِ الفت تھی یہی خوب نبھائی ہے
سرِ عام یوں محفل آرائی عناد کے بیچ
مرے چارہ گر تو ہی بتا یہ دل ربائی ہے؟
ان کو آنا تھا، نہ آنا ہے، نہ آئیں گے کبھی
یہ ہمیں کس نے آنے کی امید دلائی ہے؟
دردِ مفارقت تھا یا وجہ تھی آہِ نیم شب
یوں ہی تو نہیں آنکھ مری بھر آئی ہے
دو ہی قیدی ہیں اس زندانِ فراموشاں کے
اک میں ہوں اور دیگر مری تنہائی ہے
سن کے سرگزشت تمام عامر وہ کہتا ہے
یہ تمہاری ہے؟ جو داستاں سنائی ہے
(عامر ظہور سرگانہ۔ گوجرہ)

۔۔۔
غزل


لفظ تیری جو زباں سے نکلا ہے
تیر بن کے وہ کماں سے نکلا ہے
لوٹ کر واپس نہیں آیا کبھی
آدمی جو بھی جہاں سے نکلا ہے
یہ اداسی کا دھواں جو پھیلا ہے
یہ دھواں میرے مکاں سے نکلا ہے
میرے بارے سوچتا ہو گا کبھی
جو بھی میرے آشیاں سے نکلا ہے
ماں کے رونے کو سمجھ نہ عام تُو
آبِ زم زم یہ کہاں سے نکلا ہے؟
(راجا خرم زیب۔ بہاولپور)

۔۔۔
غزل

مکین چھوڑ کے خالی مکان کیا گئے ہیں
کہ اپنے نام کی تختی کو بھی ہٹا گئے ہیں
وگرنہ رنج تھا ایسا کہ دَم نکل جاتا
لرزتے ہونٹ مرا حوصلہ بڑھا گئے ہیں
میں غم زدہ تری تصویر کو بنا رہا ہوں
سو رنگ بھرتے ہوئے ہاتھ لڑکھڑا گئے ہیں
تمہارے وصل کے امید کی کرن بھی نہیں
شبِ فراق کے سائے بھی دل پہ چھا گئے ہیں
تجھے گنوا کے بھی گریہ نہ کرتے اتنا حسن
کہ جتنے اشک تجھے پا کے ہم بہا گئے ہیں
(عطا الحسن۔ فیصل آباد)

۔۔۔
غزل
عمر گزری ہے سہارے نہیں بدلے میں نے
جو پیارے ہیں وہ پیارے نہیں بدلے میں نے
نیلے پیلے سے یہ لمحات ہیں جاگیر مری
ہجر میں اپنے اشارے نہیں بدلے میں نے
مدتوں بعد تری یاد کے میلے کپڑے
کچھ بدل بھی دیے، سارے نہیں بدلے میں نے
میں ندی تھی، تو مرے ساتھ کنارا تو تھا
ساتھ بہتی رہی، دھارے نہیں بدلے میں نے
خواب کو صبح کی دہلیز پہ لے آئی ہوں
آنکھ کھولی ہے نظارے نہیں بدلے میں نے
تیرے خوابوں سے ہی روشن رہا یہ دل کا دِیا
ہجر میں خواب تمہارے نہیں بدلے میں نے
(دیا جیم۔ فجی آئس لینڈ)

۔۔۔
’’عورت‘‘
اسے تم کیا کہو گے جو نئے ساتھی بنانے کو
پرانے دوستوں سے دامنِ دل یوں چھڑاتا ہے
کہ جیسے داغ کوئی اپنے دامن کا چھپاتا ہے
کہ جیسے آنکھ ملتے ہی کوئی آنکھیں چراتا ہے
کہ جیسے بھولنا چاہے تو کوئی بھول جاتا ہے!
تم اُس کو کیا سمجھتے ہو کہ اچھا وقت آتے ہی
جو مشکل وقت کے ساتھی تھے اُن کو بھول جاتا ہے
کہ جن کے دل میں رہتا تھا اُنہی کا دل دکھاتا ہے
بنانے میں جو شامل تھے انہی کو اب مٹاتا ہے
وہ انساں ہی نہیں جو اپنا ماضی بھول جاتا ہے!
بڑے بے درد ہوتے ہیں
یہ ہم جو مرد ہوتے ہیں
ہمارے ہی سبب عورت کو کتنے درد ہوتے ہیں
کوئی جیتا ہے کیسے جب کہ اتنے درد ہوتے ہیں؟
وہ ہر اک چیز جو عورت سے وابستہ ہے، عورت ہے
وہ اُس کی ریشمی زلفوں میں جو کنگھا ہے، عورت ہے
جو اُس کے سامنے رکھا ہوا شیشہ ہے، عورت ہے
سمندر سی حسیں آنکھوں میں جو قطرہ ہے، عورت ہے
وہ ہر اک شعر عورت پر کوئی کہتا ہے، عورت ہے
جو ہے اب کوکھ میں عورت کے وہ لڑکا بھی ہو تو کیا
کہ اُس لڑکے کے دل میں اب جو آئینہ ہے عورت ہے!
عجب ہے مرد کی فطرت بہت ہی ظلم ڈھاتا ہے
کبھی عورت کی صورت تھا جو عورت کو ستاتا ہے
وہ انساں ہی نہیں جو اپنا ماضی بھول جاتا ہے!
(رئیس ممتاز۔ دوحہ)

۔۔۔
غزل

مسائل اپنے لیے میں بڑھا نہیں سکتا
ہر ایک خوشۂ گندم جلا نہیں سکتا
قریب دور کی عینک سے دیکھتا ہوں مگر
قریب، دور کی عینک سے لا نہیں سکتا
غزل کا شعر ہی کافی ہے یاد میں اس کی
تمھارے کہنے پہ آنسو بہا نہیں سکتا
چلے گئے ہیں جو بیٹا وہ اچھے افسر تھے
ملازمت پہ تجھے اب لگا نہیں سکتا
میں توڑ پھوڑ کا عادی نہیں بنا حارث
ستارے چاند کی خاطر بھی لا نہیں سکتا
(حارث انعام۔ حکیم آباد، نوشہرہ)

۔۔۔
غزل

تمہارے غم میں جینا پڑ رہا ہے
نہیں کہنا تھا کہنا پڑ رہا ہے
اسے آواز دے دی اُس کی ماں نے
مجھے بھی اٹھ کے جانا پڑ رہا ہے
تمہارے بعد سب کچھ رُک گیا ہے
مگر گھر تو چلانا پڑ رہا ہے
پلٹ کر تم کو جانا ہے یہاں سے
گلا میرا کیوں سوکھا پڑ رہا ہے
قیامت ایسی کیا گزری ہے حاشر
جو مژگاں کو برسنا پڑ رہا ہے
(عرفان حاشر۔ لاہور)

۔۔۔
غزل


ہم پہ اک ظلم کر دیا گیا ہے
دِل محبت سے بھر دیا گیا ہے
اس کے آنگن میں اُڑ کے جانے کو
اِک پرندے کا پَر دیا گیا ہے
ہم نے اک پھول لینا چاہا تھا
باغ کانٹوں سے بھر دیا گیا ہے
اب تجھے سوچنا بھی مشکل ہے
اتنا مصروف کر دیا گیا ہے
کوئی تو یہ خبر سنا جائے
جینا آسان کر دیا گیا ہے
(سالم احسان۔ گوجرانوالہ)

کہتے ہیں جذبات کو تصور، تصور کو الفاظ مل جائیں تو شعر تخلیق ہوتا ہے اور یہ صفحہ آپ کے جذبات سے آراستہ تخلیقات سے سجایا جارہا ہے۔ آپ اپنی نظم، غزل مع تصویر ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کر سکتے ہیں۔ معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
صفحہ ’’کوچۂ سخن‘‘
روزنامہ ایکسپریس (سنڈے میگزین)،5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ، کراچی
[email protected]





Source link