13

چینی فوج بھاری عسکری قوت کے ساتھ بارڈر پر پہنچ گئی – Hassan Nisar Official Urdu News Website


بیجنگ (ویب ڈیسک) ہانگ میں بڑھتے ہوئے مظاہروں کے بعد چینی فوج ہانگ کانگ کی سرحد کے پاس پہنچ گئی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ چینی فوج کسی بھی وقت ہانگ کانگ میں داخل ہو کر کارروائی کر سکتی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی جانب سے ہانگ کانگ کے قریب سرحدی


شہر شین زین میں سکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حرکت بڑھائی جارہی ہے۔مسلح پولیس فورس کے دستوں کو بھی بکتر بند گاڑیوں میں تعینات کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت سے چین کھل کر پیغام دینا چاہتا ہے کہ ہانگ کانگ میں 10 ہفتوں سے جاری مظاہروں کو طاقت کے زور پرکچلنے کے لیے بھی تیار ہے۔ ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یہ حالات چینی حکمت کے لیے باعث تشویش ہوں گے لیکن بیجنگ حکومت خالی دھمکیوں پر یقین نہیں رکھتی ہے۔یاد رہے کہ 30 سال قبل بھی جب چین کے تیانانمن اسکوائر میں مظاہرے رُکنے کا نام نہیں لے رہے تھے تو کمیونسٹ قیادت نےن مظاہروں کو کچلنے میں بالکل ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی تھی۔ ذرائع کے مطابق اگر مسلح پیش قدمی ہوتی ہے تو ہانگ کانگ کو بہت نقصان ہو سکتا ہے۔ دنیا کے اہم مالیاتی مرکز کا کاروبار برباد ہو سکتا ہے اور لوگوں کو حاصل بنیادی آزادیاں ہمشہ کے لیے ختم یا متاثر بھی ہو سکتی ہیں۔اس موقعہ پر سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے بعد ہانگ کانگ کے لوگوں کا کیا بنے گا؟ واضح رہے کہ 1997 میں تاجِ برطانیہ نے ہانگ کانگ کا انتظام واپس چین کے سپرد کر دیا تھا اور اس وقت ایک معاہدہ طے کیا گیا تھا جس کے تحت ہانگ کانگ کے لوگوں کے لیے زیادہ شہری آزادیاں یقینی بنائی گئی تھیں البتہ حالیہ مظاہرے 1997 کے بعد سے اس شہر میں ہونے والے سب سے بڑے احتجاجی اجتماعات ہیں۔









Source link