12

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف ہزاروں افراد کالندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج


لندن (این این آئی)بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف ہزاروں افراد نے لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج کیا۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پاکستانی اور کشمیر کے پرچم تھامے ہوئے تھے جبکہ کئی افراد نے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جس پر کشمیر کے حق میں نعرے درج تھے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق لندن میں احتجاج کرنے والے مظاہرین نے کشمیر جل رہا ہے،فری کشمیراورمودی، چائے کو جنگ نہیں بناکےنعروں کے بینرز اٹھا رکھے تھے۔مظاہرے کے لیے طے شدہ مقامی وقت 1 بجے سے قبل ہی سیکڑوں افراد ہائی

کمیشن کے دائیں طرف پہلے سے جمع ہوئے اور لندن میں پاکستان کے حامیوں نے بھارتی اقدام کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کیا۔مقامی کشمیر کونسلز کے کارکنان اور اسپیکرز نے بھی احتجاج میں حصہ لیا اور مطالبہ کیا کہ بھارت، کشمیر میں اپنا قبضہ ختم کرے۔علاوہ ازیں سکھ برادری کے بھی افراد نے خالصتان کے بینرز تھامے اس مظاہرے میں پاکستان کے ساتھ حمایت کا اظہار کیا۔ موقع پر برطانوی پارلیمنٹ کے سابق رکن جیورج گیلووے نے مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ مودی دنیا کو جوہری جنگ کے دہانے پر لے گئے ہیں اور دنیا بھر کے لوگوں کی سکیورٹی اور تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔لندن میں ہونے والے اس احتجاج میں کئی مظاہرین برطانیہ کے دیگر شہروں سے خصوصی چارڈرڈ بسوں کے ذریعے آئے تھے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی سید زلفی بخاری بھی بھارتی ہائی کمیشن کے باہر احتجاج میں شریک ہوئے۔زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ میرے خیال سے یہ ریکارڈ توڑ ٹرن آؤٹ ہے اور یہ کشمیر کے لوگوں اور دیگر کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ آپریشن اور ظلم کے خلاف ہیں۔انہوں نے کہاکہ میرے خیال میں یہ بہت اہم ہے کہ اس طرح کی آوازیں عالمی برادری میں اٹھنی چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک ہے کہ دنیا کے کافی ممالک اس پر خاموش ہیں لیکن جتنے زیادہ لوگوں نے آج آواز بلند کی ہیں اس سے مسئلہ کشمیر نظرانداز نہیں رہے گا۔علاوہ ازیں پاکستان کرکٹ میں مشہور چاچا پاکستان چوہدری عبدالجلیل بھی اس مظاہرے میں کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے دکھائے دئیے۔چاچا کرکٹ کا کہنا تھا کہجنگ اچھی چیز نہیں لیکن اگر یہ ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری اقوام متحدہ کی تنظیم پر ہوگی، جس کی قراداد پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔





Source link