13

کشمیریوں کے بغیر کشمیر کے فیصلے


1947میں تقسیم ِ ہند و پاک کے وقت خیرپور میرس، بہاولپور ، بلوچستان ، آسام اور ناگالینڈاور منی پورسمیت کچھ علاقے غیر تصفیہ رہ گئے تھے ۔ جن میں کشمیر بھی شامل تھا ۔ بلوچستان ، خیرپور اور بہاولپور نے خود کو عوامی خواہشات پر خصوصی ریاستی ضمانتی ایگریمنٹس کی بنیاد پر پاکستان میں ضم کردیا ، جب کہ آسام، ناگا لینڈ ، منی پور اوردیگر نے بھارت کے ساتھ خودمختار ریاستوں کے طور پر الحاق کا فیصلہ کیا ۔ اُن میں کشمیر کا معاملہ و خطہ سب سے حساس اور اہمیت کا حامل تھا ۔

کشمیر کے عوام کی اکثریت کی خواہش پاکستان کے ساتھ الحاق کی تھی لیکن کشمیر کے راجا ہری سنگھ نے عوامی اُمنگوں کے برخلاف بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ دے دیا ۔ جسے کشمیری عوام نے تسلیم نہیں کیا اور وادی میں شور برپا ہوگیا ۔ یہ شور سیاسی بھونچال میں تبدیل ہونے کے بعد خطے میں نوزائیدہ ملکوں پاک بھارت جنگ کا باعث بن گیا ۔ دونوں ملکوں کی فوجوں نے کشمیر کی جانب پیش قدمی کی اور یوں کشمیر وادی ِ جنت سے بارود کے سلگتے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا ۔ وہ کشمیر جس کے لیے شاعر نے کہا تھا کہ :

چلو کشمیر چلتے ہیں

جہاں پر برف گرتی ہے

جہاں پتھر کے نیچے

پھول کھلتے ہیں

جہاں چشمے اُبلتے ہیں

جہاں بارش برستی ہے

برستی بارشوں میں بھی

جہاں کوہسار جلتے ہیں

چلو کشمیر چلتے ہیں

وہاں پھولوں کی مہک کے بجائے خون کی بُو پھیل گئی ۔ عالمی مصالحتی کوششوں سے مسئلے کے حل کے لیے بات چیت پر رضامندی کے بعد اقوام ِ متحدہ کی سرپنچی میں جن پوزیشنوں پر فوجیں موجود تھیں اُس جگہ کو ’لائین آف کنٹرول ‘قرار دیا گیا ، اور طے پایا کہ جب تک کشمیر کا کوئی ٹھوس حل نہ نکلے تب تک دونوں ملک اس لائین آف کنٹرول کی پابندی پر قائم رہیں گے ۔ جب کہ کشمیر کا فیصلہ اقوام ِ متحدہ کے چارٹر آف ڈیمانڈ و قرار داد کی روشنی میں کشمیری عوام کے حق ِ خودارادیت کے ذریعے کشمیری عوام ہی کرسکیں گے جو کہ اقوام ِ متحدہ کے زیر ِ نگرانی عوامی ریفرنڈم کرائے جانے والے فیصلے کے ذریعے ہونا تھا ۔

کشمیر کا پونچھ ، مظفر آباد ، جموں سے گلگت بلتستان تک پھیلا آزاد کشمیر کا 85.846مربع کلومیٹر رقبے کا حامل خطہ پاکستان کے زیر انتظام ہے اورجموں و کشمیراور لداخ والا 101.387مربع کلومیٹر رقبے کا حامل حصہ بھارت کے قبضے میں ہے۔ تب دونوں حصوں کی الگ آئینی و ریاستی حیثیت بحال رکھنے کے لیے کشمیری عوام اور اُن کی قیادت نے پہلی بار اپنی جمہوری قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں ملکوں سے مذاکرات کیے۔ اُن کے نتیجے میں پاکستان نے کشمیری عوام کی غیرمشروط حمایت میں کشمیر کو فوری ایک الگ الحاقی ریاست قرار دیتے ہوئے ، نہ صرف کشمیر کی سالمیت اور خودمختاری کو برقرار رکھا بلکہ وہاں کی ترقی و تعمیر میں بھی معاون کردار ادا کرتا رہا ۔

کشمیر کے تمام فیصلوں میں کشمیری اسمبلی اور حکومت کی رائے کو ہی حتمی سمجھا گیا۔ لیکن دوسری طرف کشمیر کے بھارتی حصے کی جانب سے اُس وقت کے عوامی رہنما شیخ عبداللہ نے نہرو سے 5ماہ کے طویل مذاکرات کے بعد آئینی و ریاستی ضمانت کی بنیاد پر بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا ۔ جس کے تحت بھارتی آئین میں آرٹیکل 370اور 35اے کی ترامیم کی گئیں ۔ اس ترمیم کے تحت کشمیر کو بھارت کی ایک علیحدہ خودمختار الحاقی ریاست قرار دیا گیا ۔ جس کا علیحدہ پرچم ، اسمبلی اور نظام ِ حکومت ہوگا، کشمیر سے متعلق کوئی بھی بھارتی فیصلہ تب تک لاگو نہیں ہوگا جب تک کشمیر کی اسمبلی اُس کی توثیق نہ کردے ۔ دفاع ، مواصلات اور خارجہ اُمور کے علاوہ باقی تمام ریاستی و سرکاری اُمور کشمیرکی اسمبلی اور حکومت کا استحقاق ہوں گے ۔

لیکن 70سال کے دوران ایک طرف بھارت وعدہ خلافی اوراُس ایگریمنٹ وآرٹیکل 370اور 35اے کی آئین شکنی و انحرافی کرتے ہوئے اُن اختیارات میں دخل اندازی کرتا رہا تو دوسری جانب کشمیر کے مکمل حل کے لیے اقوام ِ متحدہ کی قرار داد کے تحت عوامی ریفرنڈم کرانے کو بھی تیار نہ ہوا۔ پھر کشمیری عوام کی جانب سے اپنے خودارادیت کے حق کے لیے چلائی جانے والی تحریک کو کچلنے کے لیے بھارت کشمیریوں پرظلم و ستم کے پہاڑ توڑتا رہا ، مظالم ڈھانے میں جبرو بربریت کی انتہا کردی ۔ ہزاروں ماؤں کی کوکھ سونی کردی گئی ، ہزاروں بچے یتیم اور خواتین بیوہ بنادی گئیں ،ہزاروں بوڑھے والدین کے بڑھاپے کے سہارے اُن کے جوان بیٹوں کے خون کے ساتھ ہولی کھیلی گئی، جب کہ سیکڑوں حواؤں کی عصمت دری کرکے انسانیت کو شرمندہ کیا گیا ۔ اُس کے باوجود کشمیری عوام اپنے حق ِ خود ارادیت سے سبکدوش ہونے کو تیار نہیں بلکہ اب تو آزادی ہر کشمیری کے ایمان کا حصہ بن چکی ہے ۔

دیکھا جائے تو اس وقت جب دنیا میں جمہوری روایات کا بول بالا ہے، تمام غیر تصفیہ اُمور کو حل کرنے کے لیے گفت و شنید کو ہی واحد حل سمجھا جارہا ہے ۔جب جنوبی کوریا اور شمالی کوریا مذاکرات کی بناء پر ایک ہوچکے ہیں ، جب ہزارہا سالوں سے بھٹکنے والے کردوں کی قومی حیثیت تسلیم کرلی گئی ہے ، جب انگلینڈ اور یورپی یونین کے درمیان ریفرنڈم کے ذریعے پُرامن علیحدگی کا فیصلہ ہوچکا ہے ، ایسے میں ہزارہا سالوں سے خودمختار و آزاد ملک و قوم رہنے والے کشمیرکی آزادی کو بھارت دھونس و داداگیری اوربندوق کی نوک پر سلب کرنا چاہتا ہے ۔

بھارت جس کے آئین میں کشمیر کے علاوہ بھی ایسی کئی اور مثالیں موجود ہیں جیسے آئین کے آرٹیکل 371Aکے تحت ناگالینڈ اور 371Bکے تحت آسام اور دیگر7ریاستوں کو آزاد و خودمختار الحاقی ریاستیں قرار دیا گیا ہے ، اُن کے بھی علیحدہ پرچم ، اسمبلی اور نظام ِ حکومت کے ساتھ ساتھ وہاں بھارت کے دیگر علاقوں کے لوگوں پر جائیداد خریدنے اور وہاں کے وسائل وملازمتوں پر حق نہیں ۔ تو ایسے میں بھارت صرف کشمیرکی خودمختاری اور سالمیت کو برقرار رکھنے والی آئینی شقوں کو ختم کرنا اور پھر کشمیر کی جغرافیائی حدود میں ردو بدل کرتے ہوئے کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کیسے اور کیوں کررہا ہے ؟

بین الاقوامی تعلقات ِ عامہ اور تنازعوں پر گہری نظر رکھنے والے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنوبی ایشیا کے خطے میں عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات بڑھ جانے کی وجہ سے برصغیر کی جیو اسٹریٹجک و سوشیو اکنامک اہمیت کی بناء پر خطے میں مقامی محدود سامراجیت کے لیے کام ہورہا ہے اور اس سازش میں عالمی سامراج کا سب سے پسندیدہ مہرہ مودی ہے ، جوکہ نہ صرف امریکا، اسرائیل ، سعودی اور برطانیہ والے بلاک کا چہیتا ہے بلکہ روس کے ذریعے وہ روس ، چین و ایران والے بلاک کا بھی لاڈلہ بن چکا ہے ۔

کئی تجزیہ کار تو اِس معاملے کو سی پیک کے بھارت تک توسیع کی گیم کا حصہ قرار دے رہے ہیں ۔جب کہ کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکا اپنے روایتی حریفوں روس و چین کے ایشیا میں بڑھتے اثر کو توڑنے کے لیے کشمیر مسئلے کو جان بوجھ کر بڑھاوا دے رہا ہے تاکہ اس بہانے اُسے عراق کی طرح یہاں آنے کا موقع ملے یا پھر کم از کم کویت کی طرز پریہاں اپنی شمولیت برقرار رکھ سکے ۔ اور اِس لیے کافی عرصہ سے وہ خطے میں بھارت کو مہرہ بناکراُسے شہہ دیتا رہا ہے ۔ جیسے افغانستان، ایران اورسارک ممالک میں انڈیا کو فوقیت دلانا وغیرہ وغیرہ ۔ کچھ بھی ہو لیکن کشمیر کے حوالے سے اس وقت بھارت کا اقدام عالمی طورپر غلط و جابرانہ قرار دیا جارہا ہے۔

یہاں تک کہ خود بھارت کے اندر سے بھی مودی سرکار کے اس ظالمانہ فیصلے کے خلاف آوازیں اُٹھ رہی ہیں ، کشمیری پارلیامینٹیرینز کے علاوہ کانگریس اور دیگر جماعتوں نے بھی مودی سرکار کے اس فیصلے کو مسترد کردیا ہے ، جب کہ کشمیری عوام تو سڑکوں پر بھارتی افواج کی بے رحم کارروائیوں کے باوجود محوئے احتجاج ہیں ۔ جب کہ پاکستان اس معاملے میں فریق کی حیثیت سے ہنگامی حالات کا اعلان کرچکا ہے ، بھارت کے ہائی کمشنر کوپاکستان سے نکال دینے اور اپنا کمشنر بھارت نہ بھیجنے ، بھارت کے یوم ِ آزادی 15اگست کو یوم ِ سیاہ کے طور پر منانے اور 14اگست کو جشن ِ آزادی کو کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا ہے ، افواج ِ پاکستان کو جنگی حالات کے لیے الرٹ کردیا گیا ہے، جب کہ عالمی سطح پر ہم خیال ملکوں کے سربراہوں سے رابطے بھی کیے جارہے ہیں اور اقوام ِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بھی رابطہ کرکے اقوام ِ متحدہ کا اجلاس بلانے کی استدعا کی گئی ہے ۔

دنیا میں تاریخی طور پر جغرافیائی ، معاشی ، معاشرتی ، سیاسی و انتظامی حدود اور زبان ، ثقافت و تہذیب و تمدن رکھنے والی جتنی بھی قومیں ہیں ، آزادی و خودمختاری کے لیے خود ارادیت اُن کا حق ہے کہ وہ اپنی قومی و ریاستی حیثیت کا فیصلہ خود کریں ،کیونکہ یہ حق اقوام ِ متحدہ کے قوانین کے تحت بھی تسلیم شدہ ہے۔ اِسی طرح کشمیر کا فیصلہ کرنے کا اختیار بھی صرف اور صرف کشمیری عوام کو حاصل ہونا چاہیے ۔ بھارت کے عوام پر بھی تاریخ نے یہ ذمے داری عائد کردی ہے کہ وہ مودی سرکار کے اِس ظالمانہ و جابرانہ فیصلے کے خلاف مزاحمت کریں ۔ کیونکہ ڈیڑھ ارب کی تعداد رکھنے والے یہ عوام نہ صرف کشمیر و بھارت بلکہ اس پورے خطے کو عالمی سامراج کے ایک نئے شکنجے میں جانے سے محفوظ رکھنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ورنہ یہ واضح طورپر نظر آرہا ہے کہ برصغیر ایک مرتبہ پھر کمزور ہوکر عالمی قوتوں کے نشانے پر آجائے گا اور یہ سب کچھ بھارت کی ہٹ دھرمی اور ظالمانہ اقدام کی وجہ سے ہوگا ۔

لیکن یہ بات ہم سب کو یاد رکھنی چاہیے کہ برصغیر اِس وقت دو ایٹمی ممالک قوتوں ، دنیا کے تیسرے بڑے آبی وسائل کا حامل ، تیل و گیس اورکوئلے و سونے کے بے شمار ذخائراورسب سے بڑی بات گوادر ،بلوچستان سے ، کلکتہ بھارت اوربے آف بنگلا دیش تک پھیلے بحیرہ ہند(بحیرہ عرب )کے طویل گرم پانیوں کی خصوصیات کا حامل خطہ ہے ۔جس کی بناء پر نہ صرف دنیا میں اہمیت کا حامل ہے بلکہ وہ دنیا کا ایک نئی سپر پاور اور معاشی حب بن سکتا ہے ۔ اور یہی بات عالمی سامراجیت کی حامل قوتوں سے ہضم نہیں ہوتی ، اس لیے وہ گذشتہ صدی کے نصف سے ہی اس خطے کو کمزور اور بٹا ہوا رکھنا چاہتے ہیں ۔ جس کے لیے انھوں نے کشمیر کو ایک تنازعہ بنائے رکھا ہے ، جب کہ سقوط ِ ڈھاکہ کی طرز پر کئی سازشیں بھی اِسی سلسلے کی کڑی ہیں ۔

عالمی سامراجی قوتوں کی اس سازش میں مقامی سطح پر بھی کچھ قوتیں گھر کے بھیدی یا غدارکی طرح ملوث ہیں جو اپنے گروہی مفادات کی خاطر چپ چاپ اِس سازش میں شامل ہیں ، لیکن بھارت اور بھارتیہ جنتا پارٹی اور مودی سرکار اِس میں ایک کرایہ دار آلہ کار کے طور پر کھلے عام کام کررہے ہیں ۔ اِسی سبب اُس نے کشمیری عوام پر مظالم کا نیا سلسلہ شروع کررکھا ہے ۔ تاریخی طور پر ایک خطہ ہونے کے باوجود لداخ کو باقی کشمیر سے علیحدہ کردینا ، کشمیر میں بھارت کے دیگر علاقوں کے لوگوں کو جائیداد کی خرید و فروخت کا حق دینا، کاروبار و ملازمتوں میں حق دینا اور کشمیر کی علیحدہ پرچم، اسمبلی ، نظام ِ حکومت اور سیاسی ، معاشی ، معاشرتی و قومی ریاست کا درجہ ختم کرنا وغیرہ جیسے مظالم ڈھائے جارہے ہیں ۔ جوکہ نہ صرف اقوام ِ متحدہ کی قرار داد و چارٹر آف ڈیمانڈ کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خود بھارتی آئین کی بھی خلاف ورزی ہے ۔ پھر یہ بھی ایک امر حقیقت ہے کہ کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کشمیر کی آئین ساز اسمبلی نے کیا تھا اور اُسے ہی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اگر چاہے تو اس فیصلے کو ختم کرسکتی ہے۔

بھارتی آئین ، قانون ،صدر اور بھارتی لوک سبھا اسمبلی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنی طرف سے آرٹیکل 370اور 35اے کو ختم کرسکے ۔ اِس لیے مودی سرکار کے اس فیصلے کی کوئی آئینی و قانونی حیثیت نہیں ہے ۔ اور پھر کشمیر کا خطہ ایک عالمی تنازعے کی حیثیت رکھتا ہے ، جس سے متعلق کوئی بھی فیصلہ تمام فریقین یعنی بھارت ،پاکستان بالخصوص کشمیر ی قیادت کی موجودگی و رضامندی اور اقوام ِ متحدہ جیسے عالمی سطح کے ضمانتی اداروں کے پلیٹ فارم سے ہی قابل ِ قبول ہوسکتا ہے ۔ بصورت ِ دیگر اِس خطے میں ایک نہ ختم ہونے والی کشیدگی کے بڑھنے کے امکانات ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر اس خطے میں ایک بھیانک جنگ کو کوئی بھی روک نہیں سکتا کیونکہ برصغیر اِس وقت 1965یا 1970کی طرح نہیں بلکہ دو حریف ایٹمی قوتوں کا خطہ ہے ۔ یعنی یہاں جنگ کی صورت میں ایسی ہولناک تباہی پھیلنے کا اندیشہ ہے جس کے آگے تاریخ میں درج صلیبی جنگوں اور ہولوکاسٹ جیسے بھیانک حادثے بھی چھوٹے محسوس ہوں گے ۔

اور اِس تباہی کی تمام تر ذمے داری بھارت کی ہوگی ۔ اس لیے کشمیر معاملے کے تصفیے کے لیے تمام فریقین کو صرف اور صرف برصغیری بن کر سوچنا ہوگا ، جب کہ کوئی بھی متفقہ حل کشمیری عوام کی منشا اور رضامندی کے بغیر کسی حیثیت کا حامل نہ ہوگا کیونکہ کشمیری عوام کو 47میں فیصلوں میں شامل نہ کرنے کے نتائج یہ خطہ 72سال سے بھگت رہا ہے ۔ اگر پھر ایسی غلطی کی گئی تو یہ نہ بھارت کے فائدے میں ہوگا اور نہ ہی خطے کی سالمیت کے حق میں ہوگا ۔





Source link