11

ممتاز صحافی زیب اذکار سے مکالمہ (آخری حصہ)


زیب اذکار نے اعتماد سے جواب دیا ’’ ایسا بالکل نہیں ہے، اگر ایسا ہوتا تو شوکت صدیقی کے ناول ’’خدا کی بستی‘‘ اور ’’جانگلوس‘‘ کا بے شمار زبانوں میں ہرگز ترجمہ نہ ہوتا، فیض احمد فیض پر ڈاکٹر لدمیلا پی ایچ ڈی نہ کرتیں اور انھیں انعام و ایوارڈ سے نہ نوازا جاتا۔

بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں بھی بہت اچھے ناول اور افسانے تخلیق ہو رہے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کتابوں کے تراجم پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔اسی حوالے سے ممتاز و معتبر کالم نگار، سفر نامہ نگار اورکتابوں کے مصنف ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کی رائے کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔ انھوں نے ایک موقع پر کہا کہ عالمی ادب کے میدان میں ہم کہیں نظر نہیں آتے، اس کی وجہ دوسرے ممالک میں ادب کے شہ پاروں کے تراجم ہو رہے ہیں اور ترجمے کی زبان انگریزی ہے۔ اسی لیے ان کا کام آگے بھی بڑھتا ہے اور ایوارڈز اور انعام و اکرام سے بھی نوازا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں مشتاق یوسفی، نسیم انجم، ناول ’’نرک‘‘، مختار مسعود، انتظار حسین کی کتابیں ترجمہ نہ ہونے کی وجہ سے مغربی ملکوں تک نہیں پہنچ سکیں۔

ہم نے زیب اذکار سے کہا کہ فیض احمد فیض کو روس میں لینن ایوارڈ سے نوازا گیا تھا اس کی وجہ غالباً ان کی شہرت یافتہ تخلیقات رہی ہوں گی یا پھر تراجم؟

جواب تھا بہت سی وجوہات تھیں ان کی کتابوں کا ترجمہ بھی ہوچکا تھا اور اس کے علاوہ؟ انھوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ ہم سمجھ گئے تھے وہ مزید بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ ایوارڈز کے بارے میں انھوں نے کہا کہ جب پاکستانی تخلیق کاروں کی تحریریں نہیں پہنچ پاتی ہیں تو پھر ایوارڈز کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا البتہ اس موقع پر ایک بات کہنا چاہونگا کہ ایوارڈز دینے کا طریقہ کار بھی درست نہیں ہے۔ ہم نے لقمہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپ نے پتے کی بات کہی ہے۔ اقربا پروری، مصلحت اور پسندیدگی کے تقاضوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے اور ہمارے یہاں تو اس سے بڑھ کر کارنامے انجام دیے جاتے ہیں اور اچھے اچھے مصنّفین کو ہوا بھی نہیں لگنے دیتے کہ کب تقسیم ایوارڈز کی تقریب منعقد ہوگی اور کتابوں کو ارباب اختیار تک پہنچانے کا طریقہ کارکیا ہے؟

جناب زیب اذکار نے جواباً کہا بیشک ہماری ادبی شخصیات کا یہ رویہ قابل مذمت ہے اور مغرب میں بھی اس طرح کے کام سامنے آئے ہیں جنکے ذریعے شکوک پیدا ہوتے ہیں، جین پال سارتر نے جوکہ فرانسیسی ادیب تھا ادب کا نوبل پرائز قبول کرنے سے اس لیے انکار کردیا تھا کہ اسکا کہنا تھا کہ یہ طریقہ کار ناقص ہے رائٹرز اور فنکاروں کی خودداری کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے اس لیے خود اپنے لیے بھاگ دوڑکرنا مناسب نہیں لگتا ہے، یقینا عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ادبی کمیٹی اور ادب سے متعلقین ان حضرات کو جنھوں نے ادب کا ٹھیکیدار ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے انھیں اپنا رویہ تبدیل کرنا چاہیے اور کتابوں کے بارے میں مکمل معلومات کے ساتھ بددیانتی سے بچنا چاہیے۔

اچھا اب آتے ہیں آپ کی کتاب کی طرف۔ آپ کے افسانوں کا سندھی میں ترجمہ ہوچکا ہے مترجم ذوالفقار گادھی صاحب ہیں جو خود بھی شاعر اور ادیب ہیں،کیا آپ ان کے ترجمے سے مطمئن ہیں؟

زیب اذکار صاحب نے پرجوش ہوکر کہا سو فیصد اس کی وجہ وہ خود تخلیق کار ہیں، کئی کتابیں آچکی ہیں، استاد بھی ہیں اور اہم بات یہ بھی ہے کہ میں خود بھی سندھی زبان سے واقف ہوں، میرا کہنے کا مطلب اچھی طرح پڑھ اور سمجھ لیتا ہوں۔

سندھی کے علاوہ اور کتنی زبانیں آپ جانتے ہیں؟

بہت تو نہیں البتہ اردو جو ہماری قومی زبان ہے انگریزی اور پنجابی و سرائیکی زبانوں پر عبور حاصل ہے تو میں عرض کر رہا تھا میرے افسانوں کا ترجمہ بھائی ذوالفقار گادھی نے ’’چوپال‘‘ کے نام سے کیا ہے اور بہت خوب کیا ہے۔

آپ نے اس کی تقریب رونمائی کا اہتمام نہیں کیا جب کہ آپ دوسرے لکھاریوں کے لیے تو روز محفلیں سجاتے ہیں؟

بس آپ اسے میری لاپرواہی ہی سمجھیں۔ دوست احباب کا بہت اصرار ہے، لیکن میں سوچتا ہوں کہ مترجم بھی اندرون سندھ خیرپور سے آجائیں تب ہی کچھ کیا جاسکتا ہے۔آپ انھیں دعوت نامہ بھیجیں گے تو انشا اللہ ذوالفقار گادھی صاحب ضرور تشریف لائیں گے۔

جواب میں وہ بولے۔ فی الحال تو اپنے تنقیدی مضامین کو یکجا کر رہا ہوں تاکہ میری تینوں کتابیں جلد شایع ہوجائیں۔

اچھا شاعری اور خصوصاً شعر سنانے کے حوالے سے بھی کچھ بات ہوجائے؟ میرا مطلب ہے اپنے کچھ اشعار نذر قارئین کیجیے۔

میں جو اشعار سنانے جا رہا ہوں ان کی وجہ تخلیق میرے دونوں ناول ہیں۔ میں یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ نئی بات، نیا تجربہ کرنا اور اپنی تحریروں کو ایک نیا رخ دینا میری نگارشات کا خاصا بنتا جا رہا ہے۔ مجھے ایک ہی ڈگر یا ایک ہی انداز فکر کو اپنانا کچھ زیادہ پسند نہیں، یہ میری کوشش سے زیادہ قدرتی عمل ہوتا ہے۔میں نے پلاننگ نہیں کی تھی لیکن لکھتے لکھتے نئے خیالات اور نئی فکر نے جنم لیا اور پھر بہت سارے اشعار میرے ناولوں میں شامل ہوگئے، انھی میں سے چند:

تمہیں دنیا کے ہونے کا یقیں ہے

مجھے بھی وہم سا ہونے لگا ہے

اس کی موجودگی تو ثابت ہے

وہم یہ ہے کہ میں بھی ہوں موجود

ایک آسماں ضرور ہے میرے نصیب میں

زیر زمیں ضرور کوئی بندوبست ہے

یہ تیرا جینا یہ میرا رونا

ثابت ہے کائنات کا ہونا

آپ نے دوران گفتگو ذکرکیا کہ آپ اتنے افسانے لکھ چکے ہیں کہ دو مجموعے شایع ہوسکتے ہیں لیکن ان دنوں آپ اپنے دونوں ناول مکمل کر رہے ہیں اب جب کہ آپ نے ناول کی دشت میں قدم رکھ دیا ہے تو آپ یہ بتائیے یہ تجربہ کیسا لگ رہا ہے مشکل کام ہے یا آسان؟

میرا جواب یہ ہے کہ ناول لکھنا آسان کام ہرگز نہیں ہے اور آپ تو اچھی طرح واقف ہیں چونکہ آپ کے کئی ناول شایع ہوچکے ہیں اور ’’نرک‘‘ جیسا ناول لکھ کر آپ نے بڑا کام کردیا ہے۔ ناول لکھنے کے لیے مشاہدہ اور ادراک چاہیے ہوتا ہے، عمیق مشاہدہ درکار ہوتا ہے، بہت محنت کرنی پڑتی ہے اور پھر میں نے تو تجرباتی ناول لکھے ہیں۔ دیکھیں کب تک آتے ہیں؟

اچھا آپ کی زندگی میں کبھی ایسے مواقع بھی آئے ہوں گے ، جب آپ نے بہت خوشی یا غم محسوس کیا ہوگا؟

جی بالکل جب میرا بڑا بیٹا باریاب مہکار حسین الیکٹریکل انجینئر بنا اور اس کے ساتھ ہی اپنے مرحوم بھائی اسرار حسین کی صحافتی اور ادبی کامیابیوں کے موقع پر بے حد خوشی ہوئی اور اسرار حسین کی موت نے شدید صدمے سے دوچار کیا۔ بے شک خوشی اور غم سے زندگی آراستہ ہے اور یہ قانون قدرت ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے ہال کا رخ کیا کہ وہاں ایک ادبی تقریب منعقد ہو رہی تھی۔





Source link